اسرائیل پر اب خیبر میزائل فائر کیے جائیں گے، دنیا دنگ رہ جائےگی: ایران
اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایران کی طاقتور عسکری تنظیم پاسداران انقلاب نے سخت الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ اسرائیل پر جلد ہی “خیبر” میزائل داغے جائیں گے جس کے اثرات دیکھ کر دنیا حیران رہ جائے گی۔
تہران:غیرملکی خبر ایجنسی کے مطابق پاسداران انقلاب کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایرانی افواج اسرائیل میں ان مخصوص اہداف کو نشانہ بنا رہی ہیں جہاں سے ایران اور فلسطین کے خلاف جارحیت کی جا رہی ہے، “آپریشن وعدہ صادق سوم” کے تحت اسرائیلی فوجی تنصیبات، اسلحہ ساز فیکٹریوں اور فوجی اڈوں پر میزائل حملے جاری ہیں۔
پاسداران انقلاب کے مطابق اسرائیلی حکام کے دعوؤں کے برعکس ایرانی میزائل اپنے اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنا رہے ہیں اور یہ حملے اسرائیل کے ہاتھوں بے گناہوں کے خون بہائے جانے کا جواب ہیں۔
ایرانی فوج نے واضح کیا ہے کہ ایران کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی کسی بھی کوشش کا سخت اور فوری جواب دیا جائے گا، پاسداران انقلاب نے اسرائیل کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ “ایران کی سکیورٹی سرخ لکیر ہے اور اس لکیر کو عبور کرنے والوں کو پچھتانا پڑے گا۔”
ایرانی بیان میں “خیبر” میزائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ جدید اور طاقتور ہتھیار جلد اسرائیلی سرزمین پر داغا جائے گا جو اسرائیل کے لیے ایک “حیران کن مرحلہ” ثابت ہو گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پاسداران انقلاب
پڑھیں:
ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے بحری جہازوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کا ازالہ ایرانی اثاثوں سے کرنے کی بات کی تھی۔ ایران نے اس مؤقف کو بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک خطرناک اور اشتعال انگیز نظیر قرار دیا ہے۔
عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی ملک کے اثاثوں کو مستقبل کے غیر متعلقہ دعووں کی بنیاد پر ضبط کرنا ایک ایسا اقدام ہے جو عالمی مالیاتی نظام اور بین الاقوامی قوانین کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے مستقبل کے غیر متعلقہ نقصانات کی ادائیگی کے لیے ضبط کرنا ایک اشتعال انگیز نظیر ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جو ممالک یا ادارے اس طرح کے ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھانے یا اس اقدام کی حمایت کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر حکومتیں اس طرز عمل کو معمول بنا لیں تو پھر دنیا میں کسی بھی ملک کے اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔
عباس عراقچی کے مطابق اس طرح کے اقدامات عالمی مالیاتی نظام میں بے یقینی، افراتفری اور قانونی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں، جن کے نتائج نہ صرف غیر خوشگوار بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔
ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔
Seizing another nation's assets to pay for unrelated future claims is an incendiary precedent.
Those who celebrate or profit from such funds should remember: once governments normalize confiscation, no one's assets are safe. Ensuing chaos will not be pretty or peaceful.
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اثاثوں کی ضبطی جیسے اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس سے عالمی سرمایہ کاری، بین الاقوامی تجارت اور ممالک کے درمیان مالیاتی اعتماد پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔