ایرانی صدر نے اسلامی ملکوں پر خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے مل جل کر کام کرنے پر زور دیا۔ وزیراعظم شہباز شریف اور صدر مسعود پزشکیان نے قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعظم شہبازشریف نے ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے ٹیلی فون رابطے میں ایران کے خلاف اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان برادر ملک کے ساتھ مکمل یکجہتی سے کھڑا ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کو ٹیلی فون کیا۔ دوران گفتگو وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے خلاف اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کی۔ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان، ایران اور برادر عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی سے کھڑا ہے، اسرائیلی جارحیت ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ وزیراعظم نے حملوں میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر صدر پزشکیان سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی اشتعال انگیزی علاقائی اور عالمی امن واستحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ وزیراعظم نے سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں ایران کے لیے پاکستان کی حمایت کا ذکر کیا۔ وزیراعظم نے اسرائیل کی جانب سے بہادر فلسطینیوں کی ظالمانہ نسل کشی کی بھی شدید مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی برادری اور اقوام متحدہ اسرائیل کو غیر قانونی اقدامات سے روکے، پاکستان خطے میں امن کے فروغ کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے میں امن کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ اس موقع پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سلامتی کونسل میں پاکستان کی حمایت اور یکجہتی پر وزیراعظم سے اظہار تشکر کیا۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کو اسرائیل کے ساتھ کشیدگی پر ایران کے نقطہ نظر سے آگاہ کیا۔ ایرانی صدر نے اسلامی ملکوں پر خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے مل جل کر کام کرنے پر زور دیا۔ وزیراعظم شہباز شریف اور صدر مسعود پزشکیان نے قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ مسعود پزشکیان شہباز شریف کا ایرانی صدر ایران کے کے ساتھ کے لیے

پڑھیں:

ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام

واشنگٹن:

امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے مکمل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی کے دوران ایرانی فوجی تنصیبات، ڈرون مراکز اور ساحلی نگرانی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ تازہ کارروائی میں فوجی کمانڈ سینٹرز، ڈرون ذخیرہ گاہیں، مواصلاتی نیٹ ورک، ساحلی نگرانی کے مراکز اور بحری صلاحیتوں سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

https://t.co/Wtbk84dEsc

— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 24, 2026

سینٹکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور شہری بحری نقل و حمل کو درپیش خطرات میں مزید کمی لانا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز بدستور کھلی ہوئی ہے اور تجارتی جہاز امریکی فوج کی معاونت کے ساتھ معمول کے مطابق اس اہم بحری راستے سے گزر رہے ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے مزید بتایا کہ اس وقت مشرق وسطیٰ کے مختلف علاقوں میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں جو خطے میں جاری صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  •  بلوچستان کے عوام کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا:شہباز شریف
  • بلوچستان کی ترقی قومی ترجیح، وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے تاریخی فیصلے کیے، وزیراعظم شہباز شریف
  • ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری