پاکستان، ایران کے ساتھ مکمل یکجہتی سے کھڑا ہے، شہباز شریف کا مسعود پزشکیان کو ٹیلی فون
اشاعت کی تاریخ: 15th, June 2025 GMT
ایرانی صدر نے اسلامی ملکوں پر خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے مل جل کر کام کرنے پر زور دیا۔ وزیراعظم شہباز شریف اور صدر مسعود پزشکیان نے قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعظم شہبازشریف نے ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے ٹیلی فون رابطے میں ایران کے خلاف اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان برادر ملک کے ساتھ مکمل یکجہتی سے کھڑا ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کو ٹیلی فون کیا۔ دوران گفتگو وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے خلاف اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کی۔ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان، ایران اور برادر عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی سے کھڑا ہے، اسرائیلی جارحیت ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ وزیراعظم نے حملوں میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر صدر پزشکیان سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی اشتعال انگیزی علاقائی اور عالمی امن واستحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ وزیراعظم نے سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں ایران کے لیے پاکستان کی حمایت کا ذکر کیا۔ وزیراعظم نے اسرائیل کی جانب سے بہادر فلسطینیوں کی ظالمانہ نسل کشی کی بھی شدید مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی برادری اور اقوام متحدہ اسرائیل کو غیر قانونی اقدامات سے روکے، پاکستان خطے میں امن کے فروغ کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے میں امن کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ اس موقع پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سلامتی کونسل میں پاکستان کی حمایت اور یکجہتی پر وزیراعظم سے اظہار تشکر کیا۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کو اسرائیل کے ساتھ کشیدگی پر ایران کے نقطہ نظر سے آگاہ کیا۔ ایرانی صدر نے اسلامی ملکوں پر خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے مل جل کر کام کرنے پر زور دیا۔ وزیراعظم شہباز شریف اور صدر مسعود پزشکیان نے قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ مسعود پزشکیان شہباز شریف کا ایرانی صدر ایران کے کے ساتھ کے لیے
پڑھیں:
مشکل معاشی حالات میں حکومت کا ساتھ دینے پر کاروباری برادری کا شکریہ،حکومت اور نجی شعبے کی مضبوط شراکت داری معاشی ترقی کی ضمانت ہے، وزیراعظم
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 03 جون2026ء) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے مشکل معاشی حالات میں حکومت کا ساتھ دینے پر کاروباری برادری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اور نجی شعبے کی مضبوط شراکت داری معاشی ترقی کی ضمانت ہے،غیر رسمی معیشت کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے اقدامات کئے جا رہے ہیں،کاروبار دوست پالیسیوں کی بدولت ملکی معیشت مستحکم اور بیرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ملک کے معروف صنعتکاروں اور ممتاز کاروباری شخصیات کے وفد سے گفتگوکرتے ہوئے کیا جس نے بدھ کو یہاں ان سے ملاقات کی۔ پی ایم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق یہ ملاقات ملک کی مجموعی معاشی ترقی کی رفتار تیز کرنے اور مالی سال 27-2026کے بجٹ کے حوالےسے کاروباری برادری سے مشاورت کے تناظر میں تھی۔(جاری ہے)
وفد میں میاں محمد منشا ، عارف حبیب، عاطف باجوہ، محمد علی تبہ، مصدق ذوالقرنین، زیاد بش، شہزاد سلیم، زیلاف منیر، عمر سعید، عمر منشا، یوسف سعید، کامران ارشد، خرم مختار ، آصف پیر ، سلطان گوہر اعجاز، فواد انور، ذوالفقار حیات، جاوید اقبال، یوسف حسین، عامر ابراہیم ،خواجہ مسعود اختر اور اعجاز نبی شامل تھے۔
وزیراعظم نے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ آپ پاکستان کے سفیر اور دنیا میں ہماری پہچان ہیں ۔ انہوں نے مشکل معاشی حالات میں حکومت کا ساتھ دینے پر کاروباری برادری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور نجی شعبے کی مضبوط شراکت داری معاشی ترقی کی ضمانت ہے، پاکستان کی معیشت کے حوالے سے پالیسی سازی میں کاروباری برادری سے مشاورت انتہائی اہمیت کی حامل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ برآمدات پر مبنی ترقی کی راہ پر گامزن ہیں، یہی ہماری معاشی پالیسی کا محور ہے ،غیر رسمی معیشت کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے اقدامات کئے جا رہے ہیں ، بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کےلئے اقدامات شامل کئے جا رہے ہیں ،کاروبار دوست پالیسیوں کی بدولت ملکی معیشت مستحکم ہوئی اور بیرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ایسی صنعتوں کے فروغ کے لئے کوشاں ہے جن سے ملکی پیداوار بڑھے، برآمدات میں اضافہ ہو، ملازمتوں کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا ہوں ، صنعت، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں ترقی سے معیشت کو مزید استحکام ملے گا اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے ،نوجوانوں کےلئے تکنیکی و فنی تربیت کے پروگرام شروع کئے ہیں تاکہ ان کو روز گار ملنے میں آسانی ہو اور وہ قومی ترقی میں بھرپور کردار ادا کر سکیں۔وفد کو کاروبار، صنعت و تجارت کے فروغ کے حوالے سے حکومتی اقدامات پر بریفنگ دی گئی جس میں بتایا گیا کہ ٹیکس مقدمات جلد نمٹانےکےلئے ٹیکس ٹریبونلز میں اصلاحات کی گئی ہیں، ان ٹریبونلز میں انتہائی شفاف طریقہ کار کے ذریعے بھرتیاں کی گئی ہیں ،سپیشل کمرشل کورٹس کے قیام کے حوالےسےکمیٹی تشکیل دی گئی ہے ،کراچی کی بندرگاہوں سے اندرون ملک رسائی بہتر بنانے کے لئے موٹر وے ایم- 10 کی اپ گریڈیشن اور پیپری فریٹ کوریڈور پر کام جاری ہے ،موٹر وے ایم 13 (کھاریاں-راولپنڈی) کی تعمیر سے لاہور اور اسلام آباد کے درمیان فاصلہ کم ہو جائے گا ،پاکستان ریلوے کی ایم۔ایل ون اور ایم ایل- ٹو کی اپ گریڈیشن سے ریلوے کا انفرااسٹرکچر بہتر ہو گا جس سے تجارتی سامان کی ترسیل بہتر ہو گی۔ بریفنگ کے مطابق نیشنل اےآئی ٹرانسفارمیشن پلان تشکیل دیا جا رہا ہے ،شوگر اور سیمنٹ سیکٹر کی پیداوار کے حوالے سے ان صنعتوں میں وڈیو اینالیٹیکس کی تنصیب سے ریونیو کی مد میں بہتری آئی ۔وفد نے خطے میں امن کی بحالی کے لئے پاکستان کی سفارتی کوششوں پر وزیراعظم اور ان کی ٹیم کو بھرپور خراج تحسین پیش کیا۔کاروباری رہنماؤں نے وزیراعظم کی قیادت میں معاشی بحالی کے سفر اور بہتر مالیاتی انتظام پر اعتماد کا اظہارکیا۔وفد نے ملکی معیشت کو درست سمت میں گامزن کرنے اور کاروبار و سرمایہ کاری کےلئے موزوں ماحول فراہم کرنے پر وزیراعظم اور ان کی ٹیم کا شکریہ ادا کیا۔وفد کے ارکان نے ڈیجیٹل ادائیگیوں اور دستاویزی معیشت کے فروغ کے حکومتی وژن کو سراہتے ہوئے ٹیکس اصلاحات اور کاروباری آسانیوں کے فروغ کے اقدامات کا خیرمقدم کیا۔کاروباری رہنمائوں نے صنعتوں کےلئے بجلی کے نرخوں میں کمی لانے، ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ لیوی کے خاتمے اور ٹیکس ریفنڈ کی بروقت ادائیگیوں پر وزیراعظم سے اظہار تشکر کیا اور آئندہ بجٹ کی تیاری میں کاروباری برادری کو اعتماد میں لینے کے اقدام کو سراہا ۔ انہوں نے وزیراعظم کوقومی معیشت کی مضبوطی اور بجٹ کے حوالے سے اپنی تجاویز پیش کیں۔کاروباری برادری نے معاشی بحالی اور ترقی کے لیے حکومت کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔وفد کے شرکا نے صنعتی ترقی، برآمدات میں اضافے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے حکومتی عزم کو سراہا۔اجلاس میں وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین ، وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ ، وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد خان چیمہ ، وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ ، وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزا فاطمہ ، وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک ، وفاقی وزیر برائے پاور ڈویژن سردار اویس احمد لغاری ، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان، اٹارنی جنرل منصور اعوان ، گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔\932