برطانیہ نے بھی اسرائیل کی مدد کے لیے تیاریوں کا آغاز کر دیا ہے، جس سے مشرقِ وسطیٰ میں بڑی جنگ کے پھیلنے کا خدشہ مزید بڑھ گیا ہے۔ برطانوی وزیرِ اعظم نے اعلان کیا ہے کہ لڑاکا طیاروں سمیت دیگر جنگی ساز و سامان کو خطے میں بھیجا جا رہا ہے، اے فور ہنڈرڈ ایم ملٹری ٹرانسپورٹ وہیکل بھی بھیج دیا۔

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران برطانیہ نے اسرائیل کی مدد کے لیے فوجی تیاریوں کا آغاز کر دیا ہے، جس سے خطے میں ایک بڑی جنگ بھڑکنے کا خدشہ مزید بڑھ گیا ہے۔

برطانوی وزیراعظم نے اعلان کیا ہے کہ لڑاکا طیاروں، عسکری ساز و سامان اور A400M ملٹری ٹرانسپورٹ وہیکل سمیت دیگر دفاعی وسائل کو مشرقِ وسطیٰ بھیجا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ری فیولنگ کے لیے KC-3 طیارہ قبرص منتقل کیا جا رہا ہے تاکہ خطے میں فضائی آپریشنز کو جاری رکھا جا سکے۔

ادھر ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک برطانوی جنگی بحری جہاز خلیج فارس کے قریب پہنچ گیا تھا، جو اسرائیل کی حمایت کے لیے خطے میں داخل ہونا چاہتا تھا۔ ایرانی فوج کے مطابق، یہ جنگی جہاز صہیونی میزائلوں کی رہنمائی کے لیے لایا گیا تھا۔

ایرانی بحریہ نے عمان کے سمندری حدود میں اس جہاز کو روکا اور مسلح ڈرونز کو اس کی جانب بھیج کر وارننگ دی۔ ایرانی بیان کے مطابق، ڈرونز کی پرواز اور تنبیہ کے بعد برطانوی بحری جہاز کو رخ بدلنے پر مجبور کر دیا گیا۔

ایرانی فوجی حکام نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر علاقائی طاقت کی مداخلت کو سنجیدگی سے لیا جائے گا اور خطے کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔

Post Views: 3.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: اسرائیل کی کیا ہے کہ کے لیے

پڑھیں:

امریکا کا ایران پر نیا وار، 4 ایرانی شہریوں اور کرپٹو کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد

واشنگٹن: امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے چار ایرانی شہریوں اور چار کرپٹو کرنسی ایکسچینجز کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔

امریکی محکمہ خزانہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق پابندیوں کا مقصد ایران سے منسلک مالیاتی سرگرمیوں کو محدود کرنا اور ایسے نیٹ ورکس کو نشانہ بنانا ہے جن پر امریکی حکام کو پابندیوں سے بچنے میں معاونت کا شبہ ہے۔

بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ ان افراد اور اداروں کے ساتھ کاروبار یا مالی لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے، کمپنیاں اور افراد بھی امریکی پابندیوں کی زد میں آ سکتے ہیں۔ اس اقدام کے بعد بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے لیے ان نامزد اداروں سے تعلقات برقرار رکھنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب ایران نے امریکا کی جانب سے پیش کیے گئے مجوزہ حتمی منصوبے پر فوری ردعمل دینے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی تک کوئی باضابطہ جواب نہیں بھیجا گیا۔

ایرانی خبر رساں ادارے مہر نیوز کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی تجویز پر ایران میں مختلف سطحوں پر مشاورت جاری ہے اور متعلقہ حکام اس منصوبے کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے تہران کسی بھی ممکنہ معاہدے میں صرف وعدوں پر انحصار نہیں کرنا چاہتا بلکہ ایسے ٹھوس اور حقیقی فوائد کا خواہاں ہے جو ایرانی عوام اور ملکی معیشت کے لیے عملی نتائج فراہم کر سکیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق نئی امریکی پابندیاں اور جاری سفارتی مذاکرات ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات میں ایک نئی پیچیدگی پیدا کر سکتے ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان کسی ممکنہ سمجھوتے کے امکانات پر بھی عالمی برادری کی نظریں مرکوز ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • بلوچستان میں ایرانی پیٹرول کی نئی قیمت 280 روپے فی لیٹر مقرر
  • امریکی سفارت کاری نہیں، میزائلوں کی زبان سمجھتے ہیں، ایران
  • امریکا کا ایران پر نیا وار، 4 ایرانی شہریوں اور کرپٹو کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد
  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید