تربت(نیوز ڈیسک)بلوچستان کے علاقے تربت میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔
نجی ٹی وی کے مطابق بلوچستان کے علاقے تربت میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے،زلزلہ پیما مرکز کے مطابق ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت3.8 ریکارڈ کی گئی۔
زلزلے کی زیر زمین گہرائی 34 کلومیٹر اور مرکز تربت سے 40 کلو میٹر شمال مغرب کی جانب تھا۔
واضح رہے کہ کراچی میں بھی یکم جون سے زلزلوں کے جھٹکوں کا سلسلہ جاری ہے، گذشتہ روز ایک بار پھر لانڈھی، قائد آباد اور ملیر میں ایک بار پھر زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے ، ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 3.
نجی ٹی وی کے مطابق کراچی میں حالیہ عرصے کے دوران اب تک زلزلے کے جھٹکوں کی مجموعی تعداد 37 ہوگئی ہے۔
مزیدپڑھیں:ایران نے ایرو اسپیس کے سربراہ کے ساتھ شہید ہونیوالے 7 کمانڈرز کے نام جاری کردیے
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: زلزلے کے
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔