اسپیکر قومی اسمبلی نے اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کے خط کا جواب دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے چیف الیکشن کمشنر اور 2 ممبران کی تعیناتیوں کے معاملے پر اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کے خط کا جواب دے دیا۔
خط میں کہا گیا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے نام بھجوائیں جائیں گے تب کمیٹی بنے گی، کمیٹی کی تشکیل وزیرِ اعظم اور اپوزیشن لیڈر کی مشاورت مکمل ہونے سے پہلے ممکن نہیں۔
چیف الیکشن کمشنر اور دو ممبران کی تعیناتیوں کے معاملے پر قومی اسمبلی سیکریٹریٹ نے وضاحت جاری کر دی ہے۔
جس میں کہا گیا ہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر عمر کو جوابی خط میں پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل کے لیے طریقہ کار بتایا گیا ہے۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے وزیرِ اعظم کی جانب سے اپوزیشن لیڈر کو لکھے گئے 16 مئی کے خط کا حوالہ بھی دیا۔
خط میں کہا گیا ہے کہ وزیرِ اعظم اور اپوزیشن لیڈر کی مشاورت کا سلسلہ جاری ہے، وزیرِ اعظم اور اپوزیشن لیڈر میں ناموں پر اتفاق نہ ہونے کی صورت میں معاملہ اسپیکر قومی اسمبلی کے پاس آئے گا۔
وزیرِ اعظم کی جانب سے اسپیکر کو پارلیمانی لیڈرز سے پارلیمانی کمیٹی کے نام مانگنے کی درخواست کی جائے گی، اسپیکر قومی اسمبلی پارلیمانی لیڈرز سے نام طلب کریں گے۔
پارلیمانی لیڈرزکی جانب سے بھیجے گئے ناموں کو قومی اسمبلی میں موجود پارٹی نمائندگی کے مطابق شامل کیا جائے گا۔
حکومت اور اپوزیشن دونوں کی جانب سے نام بھجوائیں جائیں گے تب کمیٹی بنے گی، کمیٹی کی تشکیل وزیرِ اعظم اور اپوزیشن لیڈر کی مشاورت مکمل ہونے سے پہلے ممکن نہیں۔
ترجمان قومی اسمبلی کا کہنا ہے کہ اپوزیشن لیڈر نے چیف الیکشن کمشنر اور دو ارکان کی تعیناتیوں کے لیے پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل کا مطالبہ کیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: اعظم اور اپوزیشن لیڈر اسپیکر قومی اسمبلی کمیٹی کی تشکیل کی جانب سے گیا ہے
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔