شہباز شریف کو لیڈ لینی چاہیے، پاکستان کو سیاسی دلدل سے نکالنا چاہیے، اسد عمر
اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 16 جون2025ء)پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما اسد عمر نے لاہور میں انسداد دہشت گردی عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے موجودہ سیاسی و معاشی صورتحال پر سخت تنقید کی اور ملکی استحکام کے لیے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔اسد عمر نے کہا کہ نواز شریف اور شہباز شریف 70 سال کی عمر سے اوپر جا چکے ہیں، اب اگلی نسل مریم نواز اور حمزہ شہباز کی ہے، جنہوں نے اگلے 20 سے 30 سال سیاست کرنی ہے۔
وزیراعظم پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شہباز شریف وزیراعظم کی کرسی پر ضرور بیٹھے ہیں، لیکن وہ عوام کے ووٹوں سے نہیں بلکہ کسی اور طریقے سے وہاں پہنچے ہیں۔اسد عمر نے تمام سیاسی قوتوں کو مل بیٹھنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے، حکومت کو چاہیے کہ ہمارے ساتھ بیٹھ کر ایک مشترکہ قومی ایجنڈا تیار کرے۔(جاری ہے)
اسد عمر نے عالمی اور علاقائی خطرات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایک خطرناک خطے میں زندگی گزار رہے ہیں، بھارت نے جب حملہ کیا تو ہماری افواج نے منہ توڑ جواب دیا۔اسرائیل اور ایران کے تنازع کے حوالے سے اسد عمر کا کہنا ہے کہ جس طرح اسرائیل نے ایران پر جارحیت کی ہے، اس پر پوری مسلم امہ اور پاکستان کے عوام ایران کے ساتھ کھڑے ہیں۔حکومتی بجٹ پر تنقید کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ حکومت پورے سال میں بڑے تاجروں سے 100 کروڑ روپے کا ٹیکس نہیں اکٹھا کر سکی۔ جو طاقتور ہے، حکومت اس سے پیسہ نکلوانے میں ناکام ہے، انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا اس بجٹ میں کسی بڑے جاگیردار یا تاجر پر کوئی ٹیکس نظر آ رہا ہی.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کرتے ہوئے کہا کہ
پڑھیں:
وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈیوزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔
دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔
اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...
انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔