ایران نے صہیونیوں کو مقبوضہ علاقوں سے نکل جانے کی تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ یہودی قابضین مقبوضہ علاقے چھوڑدیں، کیوں کہ یہی ان کی بقا کا واحد راستہ ہے، جرائم پیشہ لوگوں کو بطور انسانی ڈھال استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ایرانی مسلح افواج کے ایک ترجمان کرنل رضا صیاد نے صیہونیوں کو مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے نکل جانے کی تاکید کرتے ہوئے کہا کہ خطے کا کوئی بھی حصہ ان کے لیے محفوظ نہیں رہے گا۔

مسلح افواج کے جنرل اسٹاف کے مواصلاتی مرکز کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ایران کے جنگجوؤں کے جواب کا دائرہ مقبوضہ علاقوں کے تمام حصوں پر محیط ہوگا، ان علاقوں کے رہائشیوں کو جاری کردہ انتباہات کو سنجیدگی سے لینا چاہیے اور ان علاقوں کو خالی کر دینا چاہیے۔

کرنل رضا صیاد نے صہیونی حکومت کی جاری جارحانہ کارروائیوں کے جواب میں مقبوضہ علاقوں کے مکینوں کو یہ سخت انتباہ دیا۔

انہوں نے نیتن یاہو کی ’کرپٹ، مایوس اور مجرمانہ حکومت‘ کی ایران کے خلاف جارحانہ کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ صہیونی ریاست کی یہ غلط فہمی ایران کی مسلح افواج کو ایک سبق آموز جواب دینے پر مجبور کر چکی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کے جنگجوؤں کے جواب کا دائرہ مقبوضہ علاقوں کے تمام حصوں پر محیط ہوگا، ان علاقوں کے رہائشیوں کو جاری کردہ انتباہات کو سنجیدگی سے لینا چاہیے اور انخلا کرنا چاہیے، کیونکہ مستقبل قریب میں یہ علاقے رہنے کے قابل نہیں رہیں گے۔

فوجی ترجمان کا کہنا تھا کہ ایران کی مسلح افواج کے پاس اب مقبوضہ علاقوں کے تمام اہم اور حساس مقامات کا ایک جامع ڈیٹا بیس موجود ہے اور وہ کسی بھی وقت کسی بھی ہدف کو نشانہ بنا سکتی ہیں۔

انہوں نے مقبوضہ علاقوں کے مکینوں کو خبردار کیا کہ وہ چوکنا رہیں تاکہ مجرم صہیونی حکومت انہیں انسانی ڈھال کے طور پر استعمال نہ کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ صہیونی حکومت کا مجرم وزیر اعظم اپنے ذاتی اور خاندانی مفادات کے حصول میں مقبوضہ علاقوں کے مکینوں کی جان و مال اور سلامتی کو خطرے میں ڈال چکا ہے اور ایسے جرائم کا آغاز کر چکا ہے جو صرف اس حکومت کی شکست اور پچھتاوے پر ختم ہوں گے۔

Post Views: 3.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: مقبوضہ علاقوں کے ان کا کہنا تھا کہ مسلح افواج

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ، شہری پھٹ پڑے
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • آزادکشمیرکے ضلع میرپور میں انٹرنیٹ سروسز مرحلہ وار بحال ہونا شروع
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم