data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

تہران:ایران کے “آپریشن وعدۂ حق سوم” کے تحت داغے گئے ہائپرسانک میزائلوں نے اسرائیل کے جدید ترین دفاعی نظام کو شدید آزمائش میں ڈال دیا، جس سے دنیا بھر کے عسکری ماہرین حیران رہ گئے ہیں۔

 عالمی دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیلی دفاعی نظام میں ہائپرسانک میزائلوں کو روکنے کی صلاحیت ہی موجود نہیں، کیونکہ اس کا ڈیزائن آواز سے کم رفتار والے میزائلوں اور راکٹوں کے لیے بنایا گیا تھا۔

ایرانی میزائل حملوں کے دوران آئرن ڈوم، ڈیوڈ سلنگ اور ایرو ڈیفنس سسٹمز مسلسل دباؤ میں رہے اور کئی میزائلوں کو روکنے میں ناکام ثابت ہوئے۔ ہائپرسانک میزائل اپنی بے پناہ رفتار اور غیر متوقع پرواز کے باعث دفاعی سسٹمز کے ریڈار پر مکمل طور پر گرفت میں نہیں آتے، جس سے ان کا روکنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق آئرن ڈوم صرف قلیل فاصلے کے نان گائیڈڈ راکٹ یا چھوٹے ڈرونز کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے،ڈیوڈ سلنگ درمیانی فاصلے کے میزائلوں کے خلاف کام کرتا ہے، مگر ہائپرسانک میزائل اس کے دائرۂ اثر سے باہر ہیں۔

ایرو ڈیفنس سسٹمز (ایرو-1، ایرو-2، ایرو-3) اگرچہ طویل فاصلے کے بیلسٹک میزائلوں کو روکنے کے لیے بنائے گئے ہیں، مگر بیک وقت درجنوں میزائل حملوں کے خلاف ان کی صلاحیت محدود ہو جاتی ہے۔

ایرانی حملے کے دوران اسرائیلی شہروں میں درجنوں میزائلوں کی بارش نے اسرائیلی عوام میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔ متعدد مقامات پر دھماکوں کے بعد آگ بھڑک اٹھی اور درجنوں عمارتیں تباہ ہو گئیں۔ اسرائیلی حکام کے مطابق ایران کے میزائل حملوں میں 24 افراد ہلاک اور 592 زخمی ہوئے، جن میں سے 10 کی حالت تشویشناک ہے۔

خیال رہےکہ اسرائیل کی جوابی کارروائیوں میں ایران نے بھی بھاری جانی و مالی نقصان اٹھایا۔ ایرانی ذرائع کے مطابق اسرائیل کے فضائی حملوں میں اب تک 224 افراد شہید اور 1,000 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ نطنز، اصفہان، تہران اور خنداب سمیت متعدد مقامات پر جوہری اور عسکری تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا، جن میں اصفہان میں چار عمارتیں تباہ ہوئیں، جن میں یورینیم کنورژن پلانٹ، کیمیکل لیبارٹری، فیول مینوفیکچرنگ یونٹ اور میٹل پروسیسنگ فیکٹری شامل ہیں۔

خطے میں اس تازہ ترین کشیدگی نے عالمی سطح پر بھی شدید تشویش پیدا کر دی ہے، اور عالمی اداروں کی جانب سے فوری جنگ بندی کی اپیلیں سامنے آ رہی ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ہائپرسانک میزائل کے مطابق

پڑھیں:

پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ

 ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ بیان کے مطابق اس یونٹ سے وابستہ ایک مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے، جبکہ اڈے کے فضائی ٹریفک کنٹرول ٹاور کو بھی نقصان پہنچا۔ پاسدارانِ انقلاب کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی جارح کو سزا دینے کے سلسلے کی کڑی ہے اور امریکی فوج کی ان کارروائیوں کا جواب ہے، جن میں جمعرات کی صبح امام حسینؑ کے روضے کی جانب جانے والے زائرین کے راستے کو نشانہ بنایا گیا۔ بیان کے مطابق امریکی حملے میں عراق کی سرحد پر واقع شلمچہ بارڈر کراسنگ پر دو افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہوئے۔

 سپاہ پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں برطانیہ کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کیخلاف استعمال ہونے والا برطانوی اڈہ جائز ہدف تصور ہو گا۔ بیان کے مطابق امریکی فوج نے گزشتہ روز بحرِ ہند میں موجود اپنے بحری بیڑے کے کروز میزائل ختم ہونے کے بعد برطانیہ کے فیئرفورڈ فضائی اڈے سے اڑنے والے B-1 بمبار طیاروں کا استعمال کیا۔ پاسدارانِ انقلاب نے ایک بار پھر ایرانی وزارتِ خارجہ کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ ایران پر حملے کے لیے استعمال ہونے والا ہر فوجی اڈہ ایک جائز ہدف تصور کیا جائے گا۔ بیان کے اختتام پر برطانیہ کی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہ خطے کے عوام کی مشکلات کی بنیادی ذمہ دار ہے اور اسلامی ممالک کی تقسیم، قتلِ عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام، فلسطین پر قبضے کی منصوبہ بندی اور اسرائیل کے قیام میں اس کا کردار تاریخ کا حصہ ہے۔ بیان میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ برطانیہ نے ایران کے خلاف حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔

یاد رہے کہ اس سے قبل آج ہی ایرانی وزارتِ خارجہ نے برطانوی حکومت کے اس فیصلے کی مذمت کی تھی، جس کے تحت امریکہ کو ایران کے خلاف فوجی حملوں کی تیاری کے لیے برطانوی فوجی اڈوں اور تنصیبات کے استعمال کی اجازت دی گئی۔ وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ان حملوں کی تیاری یا ان پر عمل درآمد میں کسی بھی قسم کا تعاون جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت کے مترادف ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • پیٹرول کی قیمتیں روزانہ بدلنے کا نظام، عوام خوش یا پریشان؟
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم