ایران کے دارالحکومت تہران میں صبح سویرے زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جب کہ اسرائیل نے ایک بار پھر حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق دھماکوں کے بعد ائیر ڈیفنس سسٹم کو فوری طور پر فعال کر دیا گیا۔

اطلاعات کے مطابق دھماکے تہران کے مشرقی، جنوب مشرقی علاقوں اور خوزستان کے شہر اہواز میں بھی سنے گئے۔ اسرائیلی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ یہ حملے فوجی تنصیبات اور میزائل لانچرز کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے۔

یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر تہران خالی کرنے کی سخت وارننگ جاری کی تھی، جس میں انہوں نے ایران کو جوہری معاہدے سے انکار کو "بیوقوفی" قرار دیا۔

گزشتہ روز بھی تہران میں اسرائیلی حملوں کے دوران ٹی وی چینلز، ہسپتالوں، اور فائر اسٹیشن کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ ان حملوں میں کئی عام شہری زخمی ہوئے۔

A fire breaks out at the headquarters of Iran’s national television following an egregious attack by the Israeli regime aimed at silencing Iran’s media.

pic.twitter.com/IRQRqZKBG2

— IRNA News Agency (@IrnaEnglish) June 16, 2025

اسرائیلی فورسز نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ایران کے ایک تہائی میزائل لانچرز تباہ کر دیے ہیں اور تہران کی فضائی حدود پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ تاہم ایران نے ان دعوؤں کو مذاق قرار دیتے ہوئے تل ابیب کے شہریوں کو وارننگ جاری کی ہے کہ وہ فوجی اور دفاعی تنصیبات کے قریب نہ جائیں۔

 

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان

خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے سرینڈر کا امریکی مطالبہ ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان کر دیا۔ پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی کہتے ہیں کہ ایرانی فوج کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے پہلے سے زیادہ تیار ہے، دشمن کو جارحیت پر مختلف نوعیت کی فوجی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، میدان جنگ اور ہتھیاروں کی اقسام بھی مختلف ہوں گی، جنگ بندی کے دوران ہماری عسکری صلاحیتوں میں اضافہ ہوا۔

خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ابھی مکمل صلاحیتیں ظاہر نہیں کیں، جنگ میں نیٹو بھی شامل ہوتی ہے تو بھی ہمیں پریشانی نہیں۔

متعلقہ مضامین

  • محبوبہ مفتی کا نئی دلی سے مذاکرات کیلئے متحدہ سیاسی محاذ بنانے پر زور
  • انتقال کی خبریں بے بنیاد،طاہرہ سید نے ویڈیو پیغام جاری کر دیا
  • ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
  • آبنائے ہرمز میں کشیدگی میں اضافہ: قشم جزیرے پر امریکی حملے، ایران کے کویت اور بحرین میں امریکی اہداف پر وار
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام