UrduPoint:
2026-06-03@04:49:02 GMT

سب کو فوراﹰ تہران خالی کر دینا چاہیے: ڈونلڈ ٹرمپ

اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT

سب کو فوراﹰ تہران خالی کر دینا چاہیے: ڈونلڈ ٹرمپ

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 17 جون 2025ء) پیر کو اسرائیل کی جانب سے ایرانی دارالحکومت کو متعدد مقامات پر بھاری میزائل حملوں سے نشانہ بنائے جانے کے بعد امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے تہران کے رہائشیوں پر زور دیا ہے کہ وہ وہاں سے نکل جائیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو اپنے ٹروتھ سوشل اکاؤنٹ پر لکھا، ’’سب کو فوری طور پر تہران کو خالی کر دینا چاہیے۔

‘‘

تہران کی آبادی تقریباً ایک کروڑ نفوس پر مشتمل ہے۔

ایران، اسرائیل تنازعے میں مزید شدت، ہلاکتوں میں اضافہ

ٹرمپ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران کو ان کے تجویز کردہ ’معاہدے‘ پر دستخط کر دینے چاہیے تھے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل اکاؤنٹ پر لکھا، ’’ایران کو اس ’معاہدے‘ پر دستخط کر دینے چاہیے تھے جس پر میں نے انہیں دستخط کرنے کو کہا تھا۔

(جاری ہے)

کتنی شرم کی بات ہے اور انسانی زندگی کا ضیاع۔ سیدھے الفاظ میں ایران جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتا۔ میں بار بار یہ کہ چکا ہوں۔‘‘

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ایک اور پوسٹ میں لکھا، ’’سب سے پہلے امریکہ کا مطلب بہت سی عظیم چیزیں ہیں، بشمول یہ حقیقت کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہو سکتا۔ امریکہ کو پھر سے عظیم بنائیں!‘‘

مشرق وسطیٰ: کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کریں گے، جرمن وزیر خارجہ

جب جمعہ کو اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا اس وقت واشنگٹن اور تہران میں ایران کے جوہری پروگرام پر بات چیت چل رہی تھی۔

حملے کے بعد ایران نے کہا کہ وہ اتوار کو ہونے والی میٹنگ کو آگے نہیں بڑھا سکتا جب کہ اس پر اسرائیل حملہ کر رہا ہے۔

اگرچہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اسرائیلی حملوں کے حوالے سے کہا تھا کہ امریکہ اس میں ملوث نہیں تھا، تاہم ایران نے موقف اختیار کیا کہ امریکہ اس حملے کے ’نتائج کا ذمہ دار‘ ہے۔

ٹرمپ کی کینیڈا میں جی 7 سمٹ سے واپسی

ٹرمپ کینیڈا میں جی 7 سربراہی اجلاس سے جلد روانہ ہو رہے ہیں، ان کے پریس سیکرٹری نے کہا، ’’مشرق وسطیٰ میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کی وجہ سے صدر سربراہی اجلاس سے جلد واپس لوٹ رہے ہیں۔

‘‘

ٹرمپ نے بھی نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’مجھے واضح وجوہات کی بنا پر جلد واپس جانا پڑے گا۔‘‘ یہ خبریں بھی گردش کر رہی ہیں کہ ٹرمپ نے واشنگٹن واپسی پر وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کونسل کی میٹنگ کرنے کی ہدایت کی تھی۔

جی 7 سربراہی اجلاس میں شریک رہنماؤں نے کہا کہ انہیں اس بات کا بخوبی اندازہ ہے کہ صدر ٹرمپ کا جلد جانا کیوں ضروری ہے۔

امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں اضافی تعیناتی کی تصدیق کر دی

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے مشرق وسطیٰ میں اضافی دفاعی صلاحیتوں کی تعیناتی کا حکم دیا ہے۔

انہوں نے پیر کو ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، ’’ان تعیناتیوں کا مقصد خطے میں ہماری دفاعی پوزیشن کو بڑھانا ہے۔‘‘

انہوں نے تاہم کوئی تفصیل نہیں بتائی کہ یہ فوجی صلاحیتیں کیا ہو سکتی ہیں۔

چین کی اپنے شہریوں سے اسرائیل سے نکل جانے کی اپیل

اسرائیل میں چینی سفارت خانے نے اپنے شہریوں سے وہاں سے نکل جانے کی اپیل کی ہے۔

اسرائیل میں چین کے سفارت خانے نے چینی شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ جلد از جلد وطن واپس جائیں یا زمینی سرحدی گزرگاہوں کے ذریعے ملک چھوڑ دیں۔

چینی سفارت خانے نے منگل کو ایک نوٹس میں متنبہ کیا کہ ’’اس وقت، اسرائیل ایران تنازعہ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے، جس میں شہری تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے اور شہریوں کی ہلاکتوں میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے سکیورٹی کی صورتحال مزید سنگین ہو رہی ہے۔

‘‘

نوٹس میں چینی شہریوں کو زمینی کراسنگ کے ذریعے اردن کی طرف جانے کی سفارش کی گئی ہے۔

اسرائیل نے اپنا مرکزی بین الاقوامی بین گوریون ہوائی اڈہ ’’اگلے اطلاع تک‘‘ بند کر دیا ہے۔

براڈکاسٹر الجزیرہ کے مطابق، اسرائیل اور اردن کے درمیان تین زمینی سرحدی گزرگاہیں کھلی ہیں۔

ادارت: صلاح الدین زین

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ڈونلڈ ٹرمپ دیا ہے رہا ہے

پڑھیں:

ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان