UrduPoint:
2026-07-24@09:06:57 GMT

سب کو فوراﹰ تہران خالی کر دینا چاہیے: ڈونلڈ ٹرمپ

اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT

سب کو فوراﹰ تہران خالی کر دینا چاہیے: ڈونلڈ ٹرمپ

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 17 جون 2025ء) پیر کو اسرائیل کی جانب سے ایرانی دارالحکومت کو متعدد مقامات پر بھاری میزائل حملوں سے نشانہ بنائے جانے کے بعد امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے تہران کے رہائشیوں پر زور دیا ہے کہ وہ وہاں سے نکل جائیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو اپنے ٹروتھ سوشل اکاؤنٹ پر لکھا، ’’سب کو فوری طور پر تہران کو خالی کر دینا چاہیے۔

‘‘

تہران کی آبادی تقریباً ایک کروڑ نفوس پر مشتمل ہے۔

ایران، اسرائیل تنازعے میں مزید شدت، ہلاکتوں میں اضافہ

ٹرمپ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران کو ان کے تجویز کردہ ’معاہدے‘ پر دستخط کر دینے چاہیے تھے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل اکاؤنٹ پر لکھا، ’’ایران کو اس ’معاہدے‘ پر دستخط کر دینے چاہیے تھے جس پر میں نے انہیں دستخط کرنے کو کہا تھا۔

(جاری ہے)

کتنی شرم کی بات ہے اور انسانی زندگی کا ضیاع۔ سیدھے الفاظ میں ایران جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتا۔ میں بار بار یہ کہ چکا ہوں۔‘‘

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ایک اور پوسٹ میں لکھا، ’’سب سے پہلے امریکہ کا مطلب بہت سی عظیم چیزیں ہیں، بشمول یہ حقیقت کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہو سکتا۔ امریکہ کو پھر سے عظیم بنائیں!‘‘

مشرق وسطیٰ: کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کریں گے، جرمن وزیر خارجہ

جب جمعہ کو اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا اس وقت واشنگٹن اور تہران میں ایران کے جوہری پروگرام پر بات چیت چل رہی تھی۔

حملے کے بعد ایران نے کہا کہ وہ اتوار کو ہونے والی میٹنگ کو آگے نہیں بڑھا سکتا جب کہ اس پر اسرائیل حملہ کر رہا ہے۔

اگرچہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اسرائیلی حملوں کے حوالے سے کہا تھا کہ امریکہ اس میں ملوث نہیں تھا، تاہم ایران نے موقف اختیار کیا کہ امریکہ اس حملے کے ’نتائج کا ذمہ دار‘ ہے۔

ٹرمپ کی کینیڈا میں جی 7 سمٹ سے واپسی

ٹرمپ کینیڈا میں جی 7 سربراہی اجلاس سے جلد روانہ ہو رہے ہیں، ان کے پریس سیکرٹری نے کہا، ’’مشرق وسطیٰ میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کی وجہ سے صدر سربراہی اجلاس سے جلد واپس لوٹ رہے ہیں۔

‘‘

ٹرمپ نے بھی نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’مجھے واضح وجوہات کی بنا پر جلد واپس جانا پڑے گا۔‘‘ یہ خبریں بھی گردش کر رہی ہیں کہ ٹرمپ نے واشنگٹن واپسی پر وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کونسل کی میٹنگ کرنے کی ہدایت کی تھی۔

جی 7 سربراہی اجلاس میں شریک رہنماؤں نے کہا کہ انہیں اس بات کا بخوبی اندازہ ہے کہ صدر ٹرمپ کا جلد جانا کیوں ضروری ہے۔

امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں اضافی تعیناتی کی تصدیق کر دی

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے مشرق وسطیٰ میں اضافی دفاعی صلاحیتوں کی تعیناتی کا حکم دیا ہے۔

انہوں نے پیر کو ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، ’’ان تعیناتیوں کا مقصد خطے میں ہماری دفاعی پوزیشن کو بڑھانا ہے۔‘‘

انہوں نے تاہم کوئی تفصیل نہیں بتائی کہ یہ فوجی صلاحیتیں کیا ہو سکتی ہیں۔

چین کی اپنے شہریوں سے اسرائیل سے نکل جانے کی اپیل

اسرائیل میں چینی سفارت خانے نے اپنے شہریوں سے وہاں سے نکل جانے کی اپیل کی ہے۔

اسرائیل میں چین کے سفارت خانے نے چینی شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ جلد از جلد وطن واپس جائیں یا زمینی سرحدی گزرگاہوں کے ذریعے ملک چھوڑ دیں۔

چینی سفارت خانے نے منگل کو ایک نوٹس میں متنبہ کیا کہ ’’اس وقت، اسرائیل ایران تنازعہ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے، جس میں شہری تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے اور شہریوں کی ہلاکتوں میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے سکیورٹی کی صورتحال مزید سنگین ہو رہی ہے۔

‘‘

نوٹس میں چینی شہریوں کو زمینی کراسنگ کے ذریعے اردن کی طرف جانے کی سفارش کی گئی ہے۔

اسرائیل نے اپنا مرکزی بین الاقوامی بین گوریون ہوائی اڈہ ’’اگلے اطلاع تک‘‘ بند کر دیا ہے۔

براڈکاسٹر الجزیرہ کے مطابق، اسرائیل اور اردن کے درمیان تین زمینی سرحدی گزرگاہیں کھلی ہیں۔

ادارت: صلاح الدین زین

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ڈونلڈ ٹرمپ دیا ہے رہا ہے

پڑھیں:

ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل

تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے بحری جہازوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کا ازالہ ایرانی اثاثوں سے کرنے کی بات کی تھی۔ ایران نے اس مؤقف کو بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک خطرناک اور اشتعال انگیز نظیر قرار دیا ہے۔

عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی ملک کے اثاثوں کو مستقبل کے غیر متعلقہ دعووں کی بنیاد پر ضبط کرنا ایک ایسا اقدام ہے جو عالمی مالیاتی نظام اور بین الاقوامی قوانین کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے مستقبل کے غیر متعلقہ نقصانات کی ادائیگی کے لیے ضبط کرنا ایک اشتعال انگیز نظیر ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جو ممالک یا ادارے اس طرح کے ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھانے یا اس اقدام کی حمایت کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر حکومتیں اس طرز عمل کو معمول بنا لیں تو پھر دنیا میں کسی بھی ملک کے اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔

عباس عراقچی کے مطابق اس طرح کے اقدامات عالمی مالیاتی نظام میں بے یقینی، افراتفری اور قانونی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں، جن کے نتائج نہ صرف غیر خوشگوار بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔

ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔

Seizing another nation's assets to pay for unrelated future claims is an incendiary precedent.

Those who celebrate or profit from such funds should remember: once governments normalize confiscation, no one's assets are safe. Ensuing chaos will not be pretty or peaceful.

— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) July 24, 2026

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اثاثوں کی ضبطی جیسے اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس سے عالمی سرمایہ کاری، بین الاقوامی تجارت اور ممالک کے درمیان مالیاتی اعتماد پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے
  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم