چین تاجکستان کا قابل اعتماد ہمسایہ اور شراکت دار ہے، چینی صدر WhatsAppFacebookTwitter 0 17 June, 2025 سب نیوز


آستانہ : چین کے صدر شی جن پھنگ سے آستانہ میں دوسرے چین وسطی ایشیا سربراہ اجلاس کے موقع پر تاجک صدر امام علی رحمان نے ملاقات کی۔منگل کے روزشی جن پھنگ نے کہا کہ گزشتہ سال تاجکستان کے اپنے سرکاری دورے کے دوران دونوں صدور نے مشترکہ طور پر نئے دور میں چین اور تاجکستان کے درمیان جامع اسٹریٹجک تعاون کی شراکت داری کے قیام کا اعلان کیا اور فریقین کے درمیان ہمہ جہت تعاون کے نئے شعبوں اور اقدامات کا تعین کیا۔شی جن پھنگ نے اس بات پر زور دیا کہ چین تاجکستان کا قابل اعتماد ہمسایہ اور شراکت دار ہے اور تاجکستان کی قومی آزادی، خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ میں اس کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔

فریقین کو چین تاجکستان وزرائے خارجہ کے اسٹریٹجک ڈائیلاگ میکانزم کے کردار کو مکمل طور پر بروئے کار لانا چاہئے اور مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا چاہئے۔ دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کے پیمانے کو وسعت دینا، نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی تعمیر میں تیزی لانا، اور رابطے کی سطح کو بہتر بنانا ضروری ہے ۔ انہوں نے اس امید کا ظاہر کیا کہ کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ، لوبان ورکشاپ اور روایتی چینی ادویات مرکز کے کردار کو مکمل طور پر بروئے کار لایا جائے گا ، اور رواں سال

موسم خزاں میں تاجکستان میں “یوم چینی ثقافت ” کا کامیابی سے انعقاد کیا جائے گا ۔ دونوں ممالک قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سیکورٹی تعاون کو مزید مضبوط کریں گے اور “تینوں قوتوں” کے خلاف کریک ڈاؤن کی کوششوں کو تیز کریں گے۔رحمان نے کہا کہ صدر شی جن پھنگ کی مضبوط قیادت میں چین نے اہم معاشی اور سماجی ترقیاتی کامیابیاں حاصل کی ہیں اور بین الاقوامی امور میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ صدر شی جن پھنگ کے گزشتہ سال تاجکستان کے تاریخی سرکاری دورے نے دوطرفہ تعلقات کے نئے امکانات کھولے اور تاجکستان اور چین کے تزویراتی تعاون کو ایک نئی سطح تک پہنچایا۔ دونوں فریق اس دورے کے نتائج پر بھرپور عمل درآمد کر رہے ہیں اور مختلف شعبوں میں تعاون فروغ پا رہا ہے۔ملاقات کے بعد دونوں سربراہان مملکت نے سفارتکاری، معیشت اور تجارت، نقل و حمل، سائنس و ٹیکنالوجی وغیرہ کے شعبوں میں باہمی تعاون کی متعدد دستاویزات پر دستخط کا مشاہدہ کیا ۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچین اور ترکمانستان کے درمیان ٹھوس سیاسی باہمی اعتماد کی خوبیاں موجود ہیں، چینی صدر چین اور ترکمانستان کے درمیان ٹھوس سیاسی باہمی اعتماد کی خوبیاں موجود ہیں، چینی صدر چین اور کرغیزستان کے درمیان تعاون کے وسیع امکانات ہیں، چینی صدر چین کی جانب سے وسطی ایشیائی ممالک میں سرمایہ کاری میں مسلسل اضافہ چین میں شہروں کی تجدید سےعوامی زندگی اور ثقافت کا دوہرا فروغ  چین وسطی ایشیا  افرادی و ثقافتی تبادلوں کی سرگرمیوں کا انعقاد چین امریکہ اقتصادی اور تجارتی مذاکرات میں ٹھوس پیش رفت ہوئی ہے، چینی میڈیا TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: چین تاجکستان شی جن پھنگ کے درمیان چینی صدر چین اور

پڑھیں:

ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ

امریکا آج سے پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات(tarrif) نافذ کر رہا ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔

نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا، یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت آج ختم ہو رہی ہے۔

امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے، ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔

مزیدپڑھیں:میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا

امریکا کے حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔

آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔

کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔

کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔

تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔

ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی: اورنگی ٹاؤن میں خاتون سے نازیبا حرکت کرنیوالے لڑکے کا صاف اور قابلِ شناخت چہرا سامنے آ گیا
  • ایس سی او اجلاس کے موقع پر پاک چین وزرائے خارجہ کی ملاقات، علاقائی امن اور تعاون پر تبادلۂ خیال
  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کیلئےمعاہدے
  • ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم