چین اور کرغیزستان کے درمیان تعاون کے وسیع امکانات ہیں، چینی صدر
اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT
چین اور کرغیزستان کے درمیان تعاون کے وسیع امکانات ہیں، چینی صدر WhatsAppFacebookTwitter 0 17 June, 2025 سب نیوز
بیجنگ :چینی صدر شی جن پھنگ سے آستانہ میں دوسرے چین وسطی ایشیا سربراہ اجلاس کے موقع پر کرغیز صدر صدیر جاپاروف نے ملاقات کی۔منگل کے روزشی جن پھنگ نے نشاندہی کی کہ دونوں صدور نے رواں سال فروری میں بیجنگ میں ایک نتیجہ خیز ملاقات کی اور اہم اتفاق رائے تک پہنچے، جس نے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو نئی اور مضبوط تحریک دی ہے ۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ چین اور کرغیزستان کے درمیان تعاون کے وسیع امکانات ہیں۔ فریقین کو تجارت اور سرمایہ کاری کے پیمانے کو بڑھانا چاہئے اور مالی تعاون کو گہرا کرنا چاہئے۔ انٹرکنکشن نیٹ ورک کو بہتر بنانا اور اعلیٰ معیار کے حامل چین-کرغیزستان-ازبکستان ریلوے کی تعمیر کو فروغ دینا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون کو وسعت دینا اور صاف توانائی، سبز معدنیات، مصنوعی ذہانت اور دیگر پہلووں میں نئے گروتھ پوائنٹس کو فروغ دینا ضروری ہے ۔
علاوہ ازیں، ثقافت، سیاحت، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں تبادلوں کو گہرا کرنا اور لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے مزید منصوبوں پر عمل درآمد کرنا بھی لازمی ہے ۔ دونوں فریق شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کی صدارت کریں گے اور سربراہ اجلاس کی میزبانی کریں گے، چین کرغیزستان کے ساتھ ایک دوسرے کی حمایت کرنے اور مشترکہ طور پر شنگھائی تعاون تنظیم کی وسیع تر ترقی کو فروغ دینے کے لئے تیار ہے۔ جاپاروف نے کہا کہ صدر شی جن پھنگ کی شاندار قیادت میں چین خوشحالی اور طاقت کی راہ پر گامزن ہوا ہے، عظیم ترقیاتی کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں اور چین نے بین الاقوامی سطح پر کلیدی قائدانہ کردار ادا کیا ہے۔
کرغیزستان چین کے ساتھ تعلقات کی ترقی کو بہت اہمیت دیتا ہے، باہمی احترام، مساوات اور باہمی مفاد کی اسٹریٹجک شراکت داری کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، اور دونوں فریقوں کے درمیان اچھی ہمسائیگی اور دوستی کا احترام کرتا ہے، چین کے بنیادی مفادات سے متعلق امور پر چین کے موقف کی مضبوطی سے حمایت کرتا ہے، ایک چین کے اصول پر سختی سے عمل پیرا ہے،
ہر قسم کی “تائیوان کی علیحدگی ” کی مخالفت کرتا ہے، اور کسی بھی طاقت کی جانب سے چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی مخالفت کرتا ہے.
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچین امن مذاکرات کو فروغ دینے کے لئے ایران اور اسرائیل کے ساتھ رابطوں کی مضبوطی جاری رکھے گا، وزارت خارجہ چین کی جانب سے وسطی ایشیائی ممالک میں سرمایہ کاری میں مسلسل اضافہ چین میں شہروں کی تجدید سےعوامی زندگی اور ثقافت کا دوہرا فروغ چین وسطی ایشیا افرادی و ثقافتی تبادلوں کی سرگرمیوں کا انعقاد چین امریکہ اقتصادی اور تجارتی مذاکرات میں ٹھوس پیش رفت ہوئی ہے، چینی میڈیا چین اور قازقستان کو مشترکہ طور پر دہشت گردی کا مقابلہ کرنا چاہیے، چینی صدر شی جن پھنگ کے پسندیدہ حوالہ جات ( انٹرنیشنل ورژن) وسطی ایشیا کے پانچ ممالک کے مین اسٹریم میڈیا پر نشرCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کے درمیان تعاون کرغیزستان کے چینی صدر جن پھنگ کو فروغ چین اور کرتا ہے چین کے
پڑھیں:
حکومت کا چینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
حکومتِ پاکستان نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔سرکاری دستاویزات کے مطابق 95.049 ملین روپے مالیت کی یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکرٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود، ماہرین اور دیگر اہم شخصیات کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے تحت نئی بلٹ پروف گاڑی خریدی جا رہی ہے۔دستاویزات کے مطابق یہ گاڑی پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنہیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا جن کی خریداری کا عمل جاری ہے۔سی پیک سیکرٹریٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث بروقت بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نجی مارکیٹ سے بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومت کو تین ٹویوٹا ڈیلرز کی جانب سے قیمتیں موصول ہوئیں، جن میں ٹویوٹا سینٹرل موٹرز نے 95.049 ملین روپے، ٹویوٹا پورٹ قاسم نے 95.25 ملین روپے اور ٹویوٹا سوسائٹی نے 95.45 ملین روپے کی پیشکش کی، حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔دستاویزات کے مطابق سی پیک سیکرٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں تھے، جس کے بعد وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث خریداری کا آرڈر جاری نہیں ہو سکا۔وزارت نے فنڈز کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں سے رقم مختص کی، جن میں سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے ایک کروڑ 88 لاکھ روپے، وفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے اور پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے ایک کروڑ 60 لاکھ روپے شامل ہیں، ان فنڈز میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے تھے۔