گزشتہ روز پنجاب اسمبلی نے  عوامی آگاہی اور معلومات کی فراہمی بل 2025 کثرت رائے سے منظور کر لیا۔

اس بل کے ذریعے پنجاب حکومت نے عوامی آگاہی اور سرکاری معلومات کی ترسیل کے لیے ایک مربوط قانونی ڈھانچہ متعارف  کروایا ہے جس کا مقصد سرکاری فنڈز سے چلنے والی اشہتارات کو آئینی و قانونی تحفظ فراہم کرنا ہے۔

بل کے مطابق سرکاری منصوبوں، اقدامات اور عوامی مفاد کے حامل پالیسی فیصلوں کے بارے میں شہریوں تک بروقت اور درست معلومات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے: پنجاب اسمبلی میں پیش کیا جانے والا وراثتی بل کیا ہے؟

بل کے سیکشن 5 کے تحت حکومت کو سرکاری منصوبوں کے نام رکھنے یا تبدیل کرنے کے اختیارات ہوں گے، سیکشن 12 کے تحت یکم جنوری 2024 کے بعد سے سرکاری سطح پر کی گئی تمام عوامی آگاہی مہم اور منصوبوں کو قانونی تحفظ حاصل ہوگا جبکہ سیکشن 13 کے تحت اس قانون کی دفعات دیگر تمام موجودہ قوانین اور عدالتی فیصلوں پر فوقیت رکھیں گی۔

بل کے متن کے مطابق حکومتی تشہیر عدالتوں میں چیلنج نہیں ہو سکے گی، حکومتی تشہیری مہم کے لیے کام کرنے والے سرکاری اہلکاروں کو قانونی تحفظ حاصل ہوگا، کسی تشہیری مہم کے بارے میں شکایت صرف ڈی جی پبلک ریلیشنز کو دائر ہو سکے گی، شکایت پر سیکریٹری انفارمیشن کا فیصلہ حتمی سمجھا جائے گا۔

اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان بھچر نے وی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ سپریم کورٹ میں سابق وزیر قانون راجہ بشارت کی دائر کردہ توہین عدالت کی درخواست زیر سماعت ہے جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے سرکاری فنڈز سے ذاتی تشہیری مہم چلائی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: پنجاب اسمبلی: لیگی ایم پی اے نے اپنے ہی وزیر کیخلاف تحریک استحقاق جمع کردی، وجہ کیا بنی؟

ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے کے بعد پنجاب اسمبلی میں اس بل کو منظور کیا گیا ہے، ایوان کے اندر صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ سرکاری پیسے سے منصوبوں کی تشہیر کرنا جرم نہیں ہے یہ کوئی سیاسی تشہیر نہیں آگاہی تشہیر ہے، یہ بل تو پنجاب اسمبلی سے منظور ہو گیا ہے لیکن اس کے نتائج بہت برے ہوں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پنجاب اسمبلی معلومات کی

پڑھیں:

شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف

تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ عالمی کشیدگی کے تناظر میں شنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم پر ہونے والی یہ ملاقاتیں خطے میں سفارتی تعاون اور مشترکہ حکمت عملی کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ ایران نے شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس میں یکطرفہ پالیسیوں، بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی اور طاقت کے غیر قانونی استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کثیرالجہتی تعاون کو موجودہ عالمی حالات میں ناگزیر قرار دیا ہے۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کرغزستان کے سیاحتی شہر چولپون آتا میں جاری اجلاس کے موقع پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران شنگھائی تعاون تنظیم اور اس جیسے دیگر کثیرالجہتی فورمز کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں بڑھتی ہوئی یکطرفہ پالیسیاں، ریاستوں کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کی خلاف ورزیاں اور طاقت کا غیر قانونی استعمال بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے منشور اور عالمی قانونی نظام کی بنیادوں کو کمزور کر رہے ہیں۔ اگرچہ اسماعیل بقائی نے کسی ملک کا نام نہیں لیا، تاہم انہوں نے ماضی میں بھی اسی نوعیت کے بیانات میں امریکا کی خارجہ پالیسی اور اس کے اقدامات پر تنقید کی ہے۔ ایران 2023ء میں شنگھائی تعاون تنظیم کا باقاعدہ رکن بنا تھا۔ یہ تنظیم چین اور روس کی قیادت میں قائم ایک اہم یوریشیائی سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی فورم ہے، جس میں پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک شامل ہیں۔ وزرائے خارجہ کا یہ اجلاس تنظیم کے آئندہ سربراہی اجلاس کی تیاریوں کا حصہ ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ سربراہ اجلاس میں علاقائی سلامتی، تجارتی روابط، اقتصادی تعاون اور رکن ممالک کے درمیان شراکت داری کے فروغ جیسے اہم موضوعات پر غور کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف
  • حساس معلومات لیک ہونے کا معاملہ، جے ڈی وینس کے قریبی سکیورٹی اہلکار کے خلاف تحقیقات
  • گل پلازہ انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر نہ لانے کا فیصلہ، شفافیت اور تفتیشی عمل پر نئی بحث
  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن