’نیتن یاہو خطے کے امن کے لیے بڑا خطرہ بن چکا ہے‘، رجب طیب اردوان کا امیر قطر سے رابطہ
اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT
ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی سے ٹیلیفون پر گفتگو کے دوران مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی، خاص طور پر اسرائیل کے ایران پر حالیہ حملوں کے تناظر میں پیدا ہونے والی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ہے۔
ترک ایوانِ صدر سے جاری بیان کے مطابق صدر اردوان نے اس گفتگو کے دوران اس عزم کا اظہار کیاکہ ترکیہ اسرائیل ایران تنازعے کے سبب پیدا ہونے والے بحران کو روکنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر رہا ہے اور وہ اس دائرہ کار کو پھیلنے سے روکنے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
نیتن یاہو خطے کے لیے سب سے بڑا خطرہ قراررجب طیب اردوان نے اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کو خطے کی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے کہاکہ موجودہ کشیدگی میں نیتن یاہو کی قیادت میں اسرائیل کے اقدامات انتہائی اشتعال انگیز اور تباہ کن ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو نے خود کو مشرق وسطیٰ کے امن و استحکام کے لیے سب سے بڑا خطرہ ثابت کر دیا ہے۔
’غزہ کا بحران نظر انداز نہ کیا جائے‘ترک صدر نے زور دیا کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان حالیہ جھڑپیں عالمی توجہ غزہ کی سنگین انسانی صورتحال سے ہٹا رہی ہیں، جو کہ ناقابلِ قبول ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’غزہ میں جاری نسل کشی اور انسانی بحران کو پسِ پشت نہیں ڈالنا چاہیے، بلکہ عالمی برادری کو فوری طور پر وہاں کی صورتحال پر بھی توجہ دینی چاہیے۔‘
شام تک کشیدگی نہ پھیلنے کی وارننگصدر اردوان نے اس امر پر بھی زور دیا کہ خطے میں پیدا ہونے والی کشیدگی کو شام تک پھیلنے سے روکنا انتہائی ضروری ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ یہ خطرناک پیش رفت شام جیسے حساس ملک کو بھی لپیٹ میں لے، جہاں پہلے ہی انسانی بحران جاری ہے۔
’ترکیہ کی سفارتی سرگرمیاں جاری‘ترکیہ کے صدر نے مزید کہاکہ انقرہ اپنی سفارتی سرگرمیوں کو مزید وسعت دے رہا ہے تاکہ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کو قابو میں لایا جا سکے اور ایک نئی جنگ کی راہ روکی جا سکے۔ اردوان کا کہنا تھا کہ خطے میں قیامِ امن کے لیے تمام علاقائی و عالمی قوتوں کو کردار ادا کرنا ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اسرائیلی وزیراعظم امیر قطر ایران اسرائیل کشیدگی ترکیہ صدر رجب طیب اردوان نیتن یاہو وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیلی وزیراعظم ایران اسرائیل کشیدگی ترکیہ صدر رجب طیب اردوان نیتن یاہو وی نیوز رجب طیب اردوان نیتن یاہو اردوان نے بڑا خطرہ کے لیے
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔