ٹرمپ ،عاصم منیرملاقات،تھری آئیز پر بات،بھارت میں صف ماتم ہے،مشاہدحسین سید
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
اسلام آباد: سابق وفاقی وزیراورماہرعالمی امورمشاہدحسین سیدنے امریکی صدرڈونلڈٹرمپ اور فیلڈمارشل عاصم منیرکی ملاقات پرتبصرہ کرتےہوئے کہاہےکہ یہ ملاقات تاریخی پیشرفت ہے، پاکستان کے حاضرسروس آرمی چیف جوحکمران بھی نہیں ہیںانہیں وائٹ ہاوس مدعوکیاجانا پاکستان اورخودسید عاصم منیرکے لئے بھی اعزازکی بات ہےاس پر بھارت میں صف ماتم بچھی ہوئی ہے،ملاقات میں ’’تھری آئیز‘‘اسرائیل ،ایران اور انڈیازیربحث آئے ہوں گے،ٹرمپ پاکستان کے معترف اوراسے سنناچاہتےہیں۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتےہوئے مشاہدحسین سیدنے کہاکہ صدر ٹرمپ کا فیلڈمارشل سیدعاصم منیرکو وائٹ ہاوس مدعوکرنا دراصل یہ اعتراف بھی ہے کہ یہی وہ سپہ سالار ہیں جنہوں نے بھارت کو شکست دی۔انہوں نے کہاکہ صدر ٹرمپ طاقت اور طاقت ورکی قدر کرتےہیں،اس ملاقات پر دہلی میں صف ماتم ہے کیونکہ بھارت پاکستان کو سفارتی طورپر تنہا کرنے کی کوشش کررہاتھااوروہ وہ پاک فوج کےسربراہ کے خلاف پروپیگنڈابھی کررہے تھے لیکن اب سب کچھ خاک میں مل گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ ٹرمپ کھلے ذہین کے آدمی ہیں وہ روایتی لیڈرہیں نہ روایتی سفارتکاری کرتے ہیں،وہ پروٹوکول کی پرواہ بھی نہیں کرتےبلکہ بندہ دیکھتے ہیں ۔
انہوں نے کہاکہ ایران ہمارادوست ملک ہے، فیلڈمارشل نے امریکہ میں پاکستانی کمیونٹی سے خطاب میں کہاہےکہ ایران کے ساتھ کھڑے ہیں ،ملاقات میں اسرائیل کی کارروائیوں،پاکستان کے رویےپربھی بات ہونایقینی ہے، ٹرمپ ٹیرف کے بات کشمیر کو اہمیت دے رہے ہیں، وہ کئی باراس کی بات کرچکےہیں جس پر بھارت کو تکلیف ہے،ٹرمپ جانتے ہیں کہ وہ اس سے بات کریں گے جو فیصلہ ساز ہوگااس کے علاوہ پاکستان امریکہ تعلقات ،کرپٹوکرنسی،دہشت گردی اور معدنیات کے معاملات زیربحث آئے ہوں گے۔انہوں نے کہاکہ ٹرمپ کا آئی لو پاکستان خوش آئند بات ہے۔
ایک سوال پر مشاہدحسین سیدنے کہاکہ ٹرمپ اور فیلڈمارشل کے درمیان ملاقات میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے بارے میں باضابطہ ہوئی بات نہیں ہوسکتی تاہم ممکنہ ہے کہ نجی طور پر ٹرمپ نے اس بارےمیں کچھ ہوالیکن یہ وثوق سے نہیں کہاجاسکتا۔
انہوں نے کہاکہ ٹرمپ کا پاکستان ،اس کی قیادت خاص طور پر ملٹری قیادت کے بارے میں تصورمختلف ہوگا انہوں نےمودی کو ٹیلی فون کال سے ٹرخادیا۔
مشاہدحسین سیدنےکہاکہ کشمیراب عالمی مسئلہ بن چکاہے ٹرمپ نے اسے عالمی ایشوبنایا،یہ بھارت کو بہت بڑی شکست ہے ،اسے جنگی شکست پاکستان اورسفارتی شکست ٹرمپ کی وجہ سے ہوئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ اسرائیل ایران میں رجیم چینج چاہتاہے،امریکہ نے اسرائیل کو لگام نہ لگائی تو یہ ٹرمپ کی زندگی کی سب سے بڑی غلطی ہوسکتی ہے، نیتن یاہوانہیں ڈبودےگا، ایران لڑناجانتاہے ،قیادت کے مارے جانے کے باوجود بھرپورجوابی کارروائی کررہاہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔