ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی اور وطن واپسی سے متعلق کیس کی سماعت
اشاعت کی تاریخ: 19th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (آن لائن)پاکستان کے دفتر خارجہ نے امریکی عدالت میں عافیہ صدیقی کی رہائی سے متعلق حکومتی عدالتی معاونت کے لیے اٹارنی جنرل آفس سے قانونی رائے مانگ لی جبکہ اٹارنی جنرل آفس نے حکومتی جواب جمع کروانے کے لیے عدالت سے دس روز کی مہلت کی استدعا کی جسے عدالت عالیہ نے منظورکرلیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں امریکا میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی اور وطن واپسی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کیس کی سماعت کی ،ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کے وکیل عمران شفیق ایڈووکیٹ اور سابق سینیٹر مشتاق احمد عدالت میں پیش ہوئے، دفتر خارجہ حکام بھی عافیہ صدیقی کیس میں عدالت میں پیش ہوئے۔ دفتر خارجہ نے امریکی عدالت میں عافیہ صدیقی کی رہائی سے متعلق حکومتی عدالتی معاونت کے لیے اٹارنی جنرل آفس سے قانونی رائے مانگ لی۔اٹارنی جنرل آفس نے حکومتی جواب جمع کروانے کے لیے عدالت سے دس روز کی مہلت کی استدعا کی۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے مؤقف اپنایا کہ عافیہ صدیقی کیس میں امریکہ میں حکومتی عدالتی معاونت کے لیے دس روز کا وقت دیا جائے۔عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی ایک ہفتے کی وقت دینے کی استدعا منظور کرلی، کیس کی سماعت 25 جون تک ملتوی کردی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: عافیہ صدیقی کی رہائی اٹارنی جنرل ا فس کیس کی سماعت عدالت میں کے لیے
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔