آئینی بنچ کی مدت میں توسیع پر جسٹس منصور علی شاہ کے تحفظات، جوڈیشل کمیشن کو خط لکھ دیا
اشاعت کی تاریخ: 21st, June 2025 GMT
آئینی بنچ کی مدت میں توسیع پر جسٹس منصور علی شاہ کے تحفظات، جوڈیشل کمیشن کو خط لکھ دیا WhatsAppFacebookTwitter 0 21 June, 2025 سب نیوز
اسلام آباد:سپریم کورٹ کے جج جسٹس منصور علی شاہ نے آئینی بنچ کی مدت میں توسیع پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے جوڈیشل کمیشن کو خط لکھ دیا ہے۔ خط میں انہوں نے آئینی بنچ کی توسیع کو عدالت کی ساکھ کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے کئی اہم نکات اٹھائے ہیں۔
جسٹس منصور علی شاہ نے 16 جون کو سیکریٹری جوڈیشل کمیشن کو یہ خط ارسال کیا جس میں انہوں نے واضح کیا کہ 26ویں آئینی ترمیم سے متعلق فیصلہ کیے بغیر بنچ کی مدت میں توسیع عدلیہ کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس معاملے میں جلد بازی ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
خط میں جسٹس منصور نے لکھا کہ وہ 19 جون کے اجلاس کے لیے پاکستان میں موجود نہیں ہوں گے اور اس بارے میں پیشگی اطلاع دے چکے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے مطالبہ کیا کہ اجلاس میں ان کی عدم شرکت اور تحریری مؤقف کو میٹنگ کے منٹس میں شامل کیا جائے۔
جسٹس منصور نے خط میں کہا کہ آئینی بنچ میں توسیع سے عدلیہ کی غیرجانبداری پر سوالات اٹھ سکتے ہیں اور عوامی اعتماد کو ٹھیس پہنچ سکتی ہے۔ ان کے مطابق، عدلیہ کی ساکھ براہِ راست عوامی اعتماد سے جڑی ہوئی ہے، اور یہ تنازعہ ادارے کی مجموعی حیثیت کو مجروح کر رہا ہے۔
انہوں نے اس امر پر بھی تشویش ظاہر کی کہ ایگزیکٹو کا جوڈیشل کمیشن پر اثر و رسوخ بڑھ رہا ہے، جو عدالتی خودمختاری کے لیے نیک شگون نہیں۔
جسٹس منصور علی شاہ نے تجویز دی کہ 26ویں آئینی ترمیم سے متعلق فیصلے تک تمام ججز کو آئینی بنچ قرار دیا جائے اور آئینی بنچ میں شمولیت کا واضح معیار اور پیمانہ طے کیا جائے تاکہ کسی قسم کی ابہام یا سیاسی تاثر پیدا نہ ہو۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم شہید بینظیر بھٹو کی 72ویں سالگرہ، قومی قیادت کا خراجِ عقیدت اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم شہید بینظیر بھٹو کی 72ویں سالگرہ، قومی قیادت کا خراجِ عقیدت ایران کے جوہری پروگرام کو دو سال پیچھے دھکیل دیا ہے، اسرائیل کا دعویٰ پاکستان کا یو این سلامتی کونسل سے اسرائیلی جارحیت رکوانے کا مطالبہ دیربالا اور کوہستان میں شدید بارش، سیلابی صورتحال سے تباہی، بچہ جاں بحق پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان بیک ڈور رابطے پھر تعطل کا شکار سپریم کورٹ: مخصوص نشستوں کی پیر کو ہونے والی سماعت ملتوی ہونے کا امکانCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: بنچ کی مدت میں توسیع جسٹس منصور علی شاہ جوڈیشل کمیشن کو ا ئینی بنچ کی
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔