سوات کے علاقے شاہی باغ کی جھیل میں کشتی الٹنے سے 9 سیاح جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 22nd, June 2025 GMT
ویب ڈیسک:خیبرپختونخوا کے ضلع سوات میں سیاحوں کی کشتی الٹ گئی، المناک حادثے میں 9 سیاح جاں بحق ہوگئے، جن میں سے 4 کی لاشیں نکال لی گئیں جبکہ 3 لاپتہ سیاحوں کی تلاش جاری ہے اور 3 سیاحوں کو زندہ بچالیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق سوات کالام کے علاقے شاہی باغ میں افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں سیاحوں کی کشتی الٹ گئی، حادثے میں 9 سیاح جان کی بازی ہار گئے۔
جاں بحق ہونے والے 4 سیاحوں کی لاشیں نکال لی گئی جبکہ 3 لاپتہ سیاحوں کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 50، پنشن میں 20 فیصد اضافے کی سفارش
مقامی لوگوں نے 3 سیاحوں کو زندہ بچالیا، جن کو طبی امداد فراہم کرنے کے لیے ہسپتال منتقل کردیا گیا۔
دوسری جانب ممبر قومی اسمبلی ڈاکٹر امجد علی نے تمام سیاحوں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی ہے اور حادثے پر غمزدہ خاندان سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔
ڈاکٹر امجد علی نے لاپتہ افراد کے لیے ریسکیو اپریشن تیز کرنے کی ہدایات کی ہے لیکن علاقہ دور ہونے کی وجہ سے ریسکیو اپریشن میں اہلکاروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
حکومت نے سولر پینلز پر مجوزہ ٹیکس کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے؛ وزیر خزانہ
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سیاحوں کی
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک