ٹیکس قوانین میں بہتری لا رہے، صنعتی پالیسی کا اعلان جلد کیا جائے گا: وزیر خزانہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
ٹیکس قوانین میں بہتری لا رہے، صنعتی پالیسی کا اعلان جلد کیا جائے گا: وزیر خزانہ WhatsAppFacebookTwitter 0 23 June, 2025 سب نیوز
اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ٹیکس قوانین میں بہتری لا رہے ہیں، صنعتی پالیسی کا اعلان جلد کیا جائے گا۔
قومی اسمبلی اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے مالی سال 26-2025 کے بجٹ پر بحث کو سمیٹتے ہوئے اہم اقتصادی پالیسیوں اور ٹیکس اصلاحات پر اظہار خیال کیا۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی تقریر کے دوران اپوزیشن نے شور شرابا کیا، ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں، اپوزیشن ارکان نے سپیکر کے سامنے احتجاج کیا، جبکہ رکن اسمبلی اقبال آفریدی نے حکومتی ارکان سے ہاتھا پائی کی۔
اس موقع پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ حکومت نے مالی سال 26-2025 کیلئے ایک متوازی، متوازن اور عوام دوست بجٹ تیار کیا ہے جس کا مقصد معیشت کو مستحکم کرنا، ٹیکس نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا اور عوامی مسائل کا حل فراہم کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت ڈیجیٹائزیشن کے ذریعے ٹیکس اصلاحات متعارف کرا رہی ہے جبکہ ٹیکس قوانین میں بہتری لانے پر بھی کام جاری ہے، تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کا بوجھ کم کیا گیا ہے اور 6 سے 12 لاکھ روپے سالانہ آمدن پر ٹیکس کی شرح کم کر کے صرف 1 فیصد کر دی گئی ہے، جبکہ 32 لاکھ روپے تک آمدن والے افراد کیلئے بھی ریلیف تجویز کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے سولر پینلز پر جی ایس ٹی کی شرح 18 فیصد سے کم کر کے 10 فیصد کر دی ہے تاکہ قابل تجدید توانائی کو فروغ ملے، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ جو افراد سولر پینلز کی قیمتوں میں خود ساختہ اضافہ کر رہے ہیں، ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
محمد اورنگزیب نے بتایا کہ ایف بی آر کو ٹیکس فراڈ پر گرفتاری کے اختیارات محدود کر دیئے گئے ہیں اور اب گرفتاری صرف تین مخصوص شرائط پوری ہونے پر ہی ممکن ہوگی، 5 کروڑ سے کم کے کیس میں ایف بی آر وارنٹ کے بغیر گرفتار نہیں کر سکے گی، عوام کے استحصال کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی۔
وزیر خزانہ نے اعلان کیا کہ حکومت بینظیر ہنرمند پروگرام کو مکمل وسائل فراہم کرے گی تاکہ نوجوانوں کو باہنر بنایا جا سکے، چھوٹے کسانوں کو 10 لاکھ روپے تک قرض دیا جائے گا جبکہ چھوٹے گھروں کیلئے 20 سالہ قرض سکیم بھی متعارف کرائی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے اخراجات کو کنٹرول میں رکھا ہے اور ماحولیاتی آلودگی سے تحفظ کیلئے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں، قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کی تجاویز کو بجٹ میں شامل کیا گیا ہے تاکہ پارلیمانی مشاورت کے ساتھ عوامی مفادات کا تحفظ ممکن بنایا جا سکے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسرائیل کا ایران میں 6 ہوائی اڈوں پر حملے، 15 طیارے تباہ کرنے کا دعویٰ امریکی حملے کے بعد ایرانی فردو جوہری سائٹ کی کیا صورتحال ہے؟ سربراہ آئی اے ای اے کا بیان سامنے آگیا میٹر ریڈرز سے چھٹکارا: وزیر اعظم نے ’’اپنا میٹر، اپنی ریڈنگ ‘‘ ایپ کی منظوری دیدی ایران نے موساد سے وابستہ سائبر ٹیم کے سربراہ کو پھانسی دے دی پہلے وہ لبنان پھر یمن اور اب ایران آگئے، اگر ہم نہ بولے تو وہ ہم پر آئیں گے تو کوئی بولنے والا نہیں... ڈپٹی کمشنر سی ڈی اے سردار محمد آصف نے باضابط طور پر لینڈ ڈائریکٹوریٹ کا چارج سنبھال لیا ، تفصیلات سب نیوز پر صہیونی دشمن نے سنگین غلطی کی، سزا دی جائے گی: خامنہ ای
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب ٹیکس قوانین میں بہتری کہ حکومت جائے گا جائے گی
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔