گرفتار ملزمان سجاول سے پاکستانی سرحد عبور کرکے سمندر کے راستے بھارت بھی گئے اور وہاں جا کر بی ایس ایف کے کیمپ نمبر 59 میں رپورٹ کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں حساس ادارے اور اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ پولیس نے خفیہ اطلاع پر ملیر قائد آباد کے علاقے میں مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کیلئے کام کرنے والے 4 دہشتگردوں کو گرفتار کر لیا، گرفتار مرکزی ملزم 20 مرتبہ اور ایک ملزم 6 مرتبہ بھارت جا چکا ہے۔ تفصیلات کے مطابق حساس ادارے اور اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ پولیس نے ’’را‘‘ کیلئے کام کرنے والے 4 دہشتگردوں محمد خان بریو عرف گلو ولد سونڈ خان، جمین ملاح عرف جمن ولد لونگ، اختر عرف فوجی اور غلام قادر عرف آکاش کو گرفتار کرکے ان کے قبضے سے تخریب کاری کا سامان جس میں 4 ہینڈ گرنیڈ، ایک کلاشنکوف، ایک رائفل، 2 پستول اور اہم تنصیبات کی تصاویر، ویڈیوز اور دیگر سامان برآمد کرلیا۔ ایس ایس پی ایس آئی یو محمد شعیب میمن نے اپنے دفتر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ گرفتار ملزم محمد خان ضلع سجاول کا رہائشی ہے اور 2009ء سے یہ بھاتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ اور بی ایس ایف کے کیمپ نمبر 59 میں کرنل رنجیت سے رابطے میں تھا۔ گرفتار ملزمان وہاں جا کر ہمارے حساس تنصیبات کی تصاویر، معلومات، تنصیبات پر تعینات اہلکاروں کی تعداد اور جیو ٹیگ لوکیشنز فراہم کر رہا تھا۔

پولیس افسر نے بتایا کہ 2024ء میں فوج سے کورٹ مارشل کیے جانے والے ملزم اختر عرف فوجی کو ان کے حوالے کیا اور وہاں سے ان کی تربیت شروع ہوئی اور اسے سمجھایا گیا وہ کس طرح کراچی کے مختلف مقامات، پورٹ قاسم کے حساس مقامات، فوج اور پولیس کی تنصیبات کی جیو ٹیک لوکیشن دینا ہے۔ ایس ایس پی نے بتایا کہ ملکی موجودہ حالات کے تناظر میں یہ اس لیے اہم ہے کہ بھارت ہمارے ساتھ ایک جنگ لڑ چکا ہے اور ہماری تنصیبات پر حملہ کر چکا ہے، اس لحاظ سے جیو ٹیگ لوکیشن بھیجنا ملک دشمن عمل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان کے موبائل فون چیک کیے گئے تو ان میں سے ملک کے حساس مقامات کی ویڈیوز، تصاویر، جیو ٹیکنگ کے سافٹ ویئر برآمد ہوئے ہیں اور بھارتی کرنل کا نمبر بھی موجود ہے، جس سے وہ رابطے میں تھے۔ گرفتار ملزمان کرنل رنجیت کو بوس کہا کرتے تھے۔ گرفتار ملزمان واٹس ایپ نمبر پر اہم تنصیبات کی تصاویر اور لوکیشن بھیجا کرتے تھے۔

ایس ایس پی نے بتایا کہ گرفتار ملزمان سجاول سے پاکستانی سرحد عبور کرکے سمندر کے راستے بھارت بھی گئے اور وہاں جا کر بی ایس ایف کے کیمپ نمبر 59 میں رپورٹ کرتے تھے۔ ملزمان کو معلومات فراہم کرنے پر رقم کے ساتھ ساتھ، شراب اور بھارتی سگریٹ بھی دی جاتی تھیں، ملزمان سے بھارتی شراب کی بوتلیں اور سگریٹ بھی برآمد ہوئی ہیں۔ گرفتار ملزمان سے گرنیڈ اور اسلحہ سمیت گاڑی بھی برآمد کر لی گئی، جس میں وہ گھوم رہے تھے، برآمد گاڑی بھی کسی شہری سے چھینی گئی ہے۔ شعیب میمن نے بتایا کہ گرفتار ملزمان کے خلاف ملک دشمنی کی دفعات کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان دشمن کو ہماری تنصیبات کی تصاویر اور لوکیشن شیئر کر رہے تھے، گرفتار ملزمان سے برآمد موبائل فون فرانزک کیلئے بھجوائے جا رہے ہیں، تاکہ معلوم ہو سکے کہ ملزمان مزید کن کن بھارتی موبائل فونز نمبروں سے رابطے میں تھے اور کن کن کو معلومات فراہم کرتے تھے۔

ایک سوال کے جواب میں ایس ایس پی نے بتایا کہ گرفتار ملزمان بن قاسم ٹاؤن میں فوجی اور سی پیک کی تنصیبات اور سجاول میں فوج اور نیوی کی تنصیبات کی لوکیشن اور ٹروپس کی تعیناتی، شفٹ کی تبدیلی اور کون کون سا اسلحہ ہوتا ہے فراہم کر رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ایسا لگتا ہے گرفتار ملزمان کوئی بڑا دہشتگردی کا منصوبہ بنا رہے تھے، لیکن اس حوالے سے ابھی کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا۔ گرفتار ملزمان کے قبضے سے پاک آرمی کا ٹریننگ مینول بھی برآمد کیا گیا ہے، یہ ایک حساس دستاویزات ہیں۔ ایس ایس پی نے بتایا کہ گرفتار ملزم محمد خان 20 سے زیادہ مرتبہ بھارت جا چکا ہے، جبکہ ملزم اختر عرف فوجی 6 مرتبہ بھارت جا چکا ہے۔ گرفتار ملزمان کے خلاف مقدمات درج کرکے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے اور دوران تفتیش مزید انکشافات متوقع ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: تنصیبات کی تصاویر گرفتار ملزمان کے کرتے تھے فراہم کر رہے تھے چکا ہے

پڑھیں:

ایران کا قشم جزیرہ امریکی فوج کے نشانے پر کیوں ہے؟

خلیج فارس میں واقع ایران کا قشم جزیرہ، جو کبھی آزاد تجارتی زون اور سیاحتی مرکز کے طور پر جانا جاتا تھا، اب خطے میں ایران کی اہم ترین عسکری تنصیبات میں شمار ہوتا ہے۔ آبنائے ہرمز کے دہانے پر واقع یہ جزیرہ اپنی جغرافیائی اہمیت، زیرِ زمین فوجی نیٹ ورکس اور میزائل تنصیبات کے باعث امریکی فوج کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق قشم جزیرہ نہ صرف ایران کی دفاعی حکمتِ عملی کا کلیدی حصہ ہے بلکہ عالمی توانائی کی ترسیل پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

تقریباً 1,445 مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلا قشم خلیج فارس کا سب سے بڑا جزیرہ ہے اور دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہ، آبنائے ہرمز، کے داخلی راستے پر واقع ہے۔ یہی محلِ وقوع اسے ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی میں غیر معمولی اہمیت دیتا ہے۔

جزیرے کی منفرد جغرافیائی ساخت اور مضبوط دفاعی انفراسٹرکچر اسے امریکی فوج کے لیے ایک اہم ہدف بناتے ہیں۔

زیرِ زمین عسکری نیٹ ورک

قشم جزیرے کو ایران کے لیے ایک ایسے ’ناقابلِ غرق طیارہ بردار بحری جہاز‘ کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو مستقل طور پر خلیجی پانیوں میں موجود ہے۔ جزیرے کے نیچے پھیلے ہوئے سرنگی نظام اور پیچیدہ نمکانی غاروں میں ساحلی دفاعی میزائل تنصیبات اور تیز رفتار جنگی کشتیوں کے اڈے قائم کیے گئے ہیں۔

ان خفیہ تنصیبات کے باعث ایران اپنی عسکری صلاحیتوں کو فضائی یا بحری حملوں سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔

زیرِ زمین ’میزائل سٹیز

ایران نے قشم جزیرے کے اندر ساحلی جنگی حکمتِ عملی کے لیے خصوصی میزائل تنصیبات قائم کر رکھی ہیں، جنہیں عموماً ’میزائل سٹیز‘ کہا جاتا ہے۔

ان کا بنیادی مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بین الاقوامی بحری آمدورفت پر نظر رکھنا اور ضرورت پڑنے پر اسے محدود یا معطل کرنے کی صلاحیت برقرار رکھنا ہے۔

عالمی توانائی کی گزرگاہ پر اثر و رسوخ

آبنائے ہرمز دنیا میں تیل اور گیس کی ترسیل کا ایک اہم ترین راستہ سمجھی جاتی ہے۔ ماضی میں ایران قشم جزیرے کو استعمال کرتے ہوئے اس آبی گزرگاہ سے گزرنے والے بعض تیل بردار اور گیس بردار جہازوں کی نقل و حرکت محدود یا متاثر کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کر چکا ہے۔

اسی وجہ سے امریکی فوج قشم کو جاری توانائی اور بحری سلامتی کی کشمکش کا مرکزی اعصابی مرکز تصور کرتی ہے۔ واشنگٹن کے نزدیک اگر ایران اس جزیرے کے ذریعے آبنائے ہرمز میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے تو اس کے اثرات عالمی توانائی منڈیوں تک پہنچ سکتے ہیں۔

ایران امریکا کشیدگی کا اگلا محاذ

قشم جزیرہ حالیہ برسوں میں ایران اور امریکا کے درمیان فوجی کشیدگی کا ایک اہم مرکز بھی بن گیا ہے۔

ماضی میں جب ایران نے خطے میں امریکی تنصیبات یا مفادات کو نشانہ بنایا تو امریکی فوج نے جواباً قشم جزیرے پر موجود پاسدارانِ انقلاب کی پوزیشنوں اور مواصلاتی ڈھانچے پر محدود نوعیت کے حملے کیے۔

امریکی مؤقف کے مطابق ایسی کارروائیوں کا مقصد ایران کی اس صلاحیت کو کمزور کرنا ہوتا ہے جس کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو متاثر یا معطل کر سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ قشم جزیرہ اپنی جغرافیائی اہمیت، عسکری تنصیبات اور آبنائے ہرمز پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت کے باعث مستقبل میں بھی ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کا ایک اہم مرکز بنا رہ سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ایران کا قشم جزیرہ

متعلقہ مضامین

  • کراچی: میاں بیوی پر بہیمانہ تشدد کرنے والے 2 ملزمان مبینہ پولیس مقابلے کے بعد گرفتار
  • لاہور، کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزی پر رواں سال اب تک4727 ملزمان گرفتار
  • کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزی پر کریک ڈاؤن تیز، 5600 سے زائد ملزمان گرفتار
  • کراچی: بھینس کالونی میں شادی کی تقریب میں ہوائی فائرنگ، دلہا گرفتار
  • ایران کا قشم جزیرہ امریکی فوج کے نشانے پر کیوں ہے؟
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 6 زخمیوں سمیت 9 ڈاکو گرفتار
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا