کراچی میں بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے 4 دہشتگرد گرفتار، اہم انکشافات سامنے آگئے
اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT
کراچی:
حساس ادارے اور اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ پولیس نے خفیہ اطلاع پر ملیر قائد آباد کے علاقے میں مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے لیے کام کرنے والے 4 دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا، گرفتار مرکزی ملزم 20 مرتبہ اور ایک ملزم 6 مرتبہ بھارت جا چکا ہے۔
تفصیلات کے مطابق حساس ادارے اور اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ پولیس نے ’’را‘‘ کے لیے کام کرنے والے 4 دہشت گردوں محمد خان بریو عرف گلو ولد سونڈ خان، جمین ملاح عرف جمن ولد لونگ، اختر عرف فوجی ولد امید تھیم اور غلام قادر عرف آکاش ولد ایم حسن کو گرفتار کرکے ان کے قبضے سے تخریب کاری کا سامان جس میں 4 ہینڈ گرنیڈ، ایک کلاشنکوف، ایک رائفل، 2 پستول اور اہم تنصیبات کی تصاویر، ویڈیوز اور دیگر سامان برآمد کرلیا۔
ایس ایس پی ایس آئی یو محمد شعیب میمن نے اپنے دفتر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ گرفتار ملزم محمد خان ضلع سجاول کا رہائشی ہے اور 2009 سے یہ بھاتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ اور بی ایس ایف کے کیمپ نمبر 59 میں کرنل رنجیت سے رابطے میں تھا۔ گرفتار ملزمان وہاں جا کر ہمارے حساس تنصیبات کی تصاویر، معلومات، تنصیبات پر تعینات اہلکاروں کی تعداد اور جیو ٹیگ لوکیشنز فراہم کر رہا تھا۔
پولیس افسر نے بتایا کہ 2024 میں فوج سے کورٹ مارشل کیے جانے والے ملزم اختر عرف فوجی کو ان کے حوالے کیا اور وہاں سے ان کی تربیت شروع ہوئی اور اسے سمجھایا گیا وہ کس طرح کراچی کے مختلف مقامات، پورٹ قاسم کے حساس مقامات، فوج اور پولیس کی تنصیبات کی جیو ٹیک لوکیشن دینا ہے۔
ایس ایس پی نے بتایا کہ ملکی موجودہ حالات کے تناظر میں یہ اس لیے اہم ہے کہ بھارت ہمارے ساتھ ایک جنگ لڑ چکا ہے اور ہماری تنصیبات پر حملہ کر چکا ہے، اس لحاظ سے جیو ٹیگ لوکیشن بھیجنا ملک دشمن عمل ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان کے موبائل فون چیک کیے گئے تو ان میں سے ملک کے حساس مقامات کی ویڈیوز، تصاویر، جیو ٹیکنگ کے سافٹ ویئر برآمد ہوئے ہیں اور بھارتی کرنل کا نمبر موجود ہے جس وہ رابطے میں تھے۔ گرفتار ملزمان کرنل رنجیت کو بوس کہا کرتے تھے۔ گرفتار ملزمان واٹس ایپ نمبر پر اہم تنصیبات کی تصاویر اور لوکیشن بھیجا کرتے تھے۔
ایس ایس پی نے بتایا کہ گرفتار ملزمان سجاول سے پاکستانی سرحد عبور کرکے سمندر کے راستے بھارت بھی گئے اور وہاں جا کر بی ایس ایف کے کیمپ نمبر 59 میں رپورٹ کرتے تھے۔ ملزمان کو معلومات فراہم کرنے پر رقم کے ساتھ ساتھ، شراب اور بھارتی سگریٹ بھی دی جاتی تھیں، ملزمان سے بھارتی شراب کی بوتلیں اور سگریٹ بھی برآمد ہوئی ہیں۔ گرفتار ملزمان سے گرنیڈ اور اسلحہ سمیت جس گاڑی میں وہ گھوم رہے تھے وہ بھی برآمد کرلی گئی ہے اور برآمد گاڑی بھی کسی شہری سے چھینی گئی ہے۔
شعیب میمن نے بتایا کہ گرفتار ملزمان کے خلاف ملک دشمنی کی دفعات کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان دشمن کو ہماری تنصیبات کی تصاویر اور لوکیشن شیئر کر رہے تھے، گرفتار ملزمان سے برآمد موبائل فون فرانزک کے لیے بھجوائے جا رہے ہیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ ملزمان مزید کن کن بھارتی موبائل فونز نمبروں سے رابطے میں تھے اور کن کن کو معلومات فراہم کرتے تھے۔
ایک سوال کے جواب میں ایس ایس پی نے بتایا کہ گرفتار ملزمان بن قاسم ٹاؤن میں فوجی اور سی پیک کی تنصیبات اور سجاول میں فوج اور نیوی کی تنصیبات کی لوکیشن اور ٹروپس کی تعیناتی، شفٹ کی تبدیلی اور کون کون سا اسلحہ ہوتا ہے فراہم کر رہے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ ایسا لگتا ہے گرفتار ملزمان کوئی بڑا دہشت گردی کا منصوبہ بنا رہے تھے لیکن اس حوالے سے ابھی کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا۔ گرفتار ملزمان کے قبضے سے پاک آرمی کا ٹریننگ مینول بھی برآمد کیا گیا ہے، یہ ایک حساس دستاویزات ہیں۔
ایس ایس پی نے بتایا کہ گرفتار ملزم محمد خان 20 سے زیادہ مرتبہ بھارت جا چکا ہے جبکہ ملزم اختر عرف فوجی 6 مرتبہ بھارت جا چکا ہے۔ گرفتار ملزمان کے خلاف مقدمات درج کرکے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے اور دوران تفتیش مزید انکشافات متوقع ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: تنصیبات کی تصاویر گرفتار ملزمان کے کرتے تھے فراہم کر رہے تھے چکا ہے ہے اور
پڑھیں:
جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
بھارتی ریاست مغربی بنگال کی سابق وزیراعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ‘ممتا بنرجی’ نے بنگلہ دیش کی انقلابی تحریک کے مرکزی رہنما عثمان ہادی کے قتل کے حوالے سے انتہائی چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔
منگل کو ممتا بنر جی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس ہائی پروفائل قتل میں ملوث اصل چہروں سے واقف ہیں، تاہم قومی اور سفارتی اثرات کے باعث وہ فی الحال نام ظاہر نہیں کر رہیں۔
بی جے پی حکومت پر سنگین الزاماتمنگل کو وسطی کولکتہ میں ایک بڑے احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی وفاقی حکومت پر پہلی بار کھل کر الزامات کی بوچھاڑ کی۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کی مودی حکومت عثمان ہادی کے قتل کیس سے متعلق انتہائی حساس معلومات اور شواہد کو عوام سے چھپا رہی ہے۔
میگھالیہ سرحد سے داخلہ اور اسپیشل ٹاسک فورس کی کارروائیسابق وزیراعلیٰ نے سنسنی خیز تفصیلات بتاتے ہوئے مزید دعویٰ کیا کہ بنگلہ دیش کی تنظیم ’انقلاب منچ‘ کے مرکزی کردار عثمان ہادی کے قتل میں ملوث ملزمان بھارتی ریاست میگھالیہ کی سرحد کے راستے مغربی بنگال میں داخل ہوئے تھے۔ ان کی آمد کی اطلاع ملتے ہی مغربی بنگال کی ’اسپیشل ٹاسک فورس‘ (ایس ٹی ایف) نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کر لیا تھا۔
امیت شاہ کا فون اور خاموش رہنے کی درخواستممتا بنرجی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ملزمان کی گرفتاری کے فوراً بعد انہیں بھارتی وزیر داخلہ ’امیت شاہ‘ کا فون موصول ہوا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس کے مرکزی ملزمان کا عدالت میں الزامات سے انکار
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’امیت شاہ‘ نے مجھ سے درخواست کی کہ اس کیس کی تفصیلات اور ملزمان کی شناخت کو عوام کے سامنے نہ لایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست ’قومی مفاد‘ سے جڑا ہوا ہے‘۔
ممتا بنرجی کا کہنا تھا کہ وہ طویل عرصے سے ملک اور خطے کے مفاد میں خاموش تھیں، لیکن وفاقی حکومت کی جانب سے حالیہ دنوں میں مبینہ سیاسی دباؤ اور انتقامی کارروائیوں کے بعد اب وہ سچ بولنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔
دوسری جانب نئی دہلی میں وفاقی حکومت کی طرف سے ممتا بنرجی کے ان سنگین الزامات پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
مجھے سب کچھ معلوم ہےاپنے خطاب کے دوران ممتا بنرجی نے سوال اٹھایا کہ عثمان ہادی کے قتل کا حتمی حکم کس نے دیا تھا؟ انہوں نے واضح اشارہ دیا کہ وہ سازش کاروں کے ناموں سے اچھی طرح واقف ہیں۔
نام نہ بتانے کی وجہ بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میں جانتی ہوں کہ قتل کس نے کروایا اور کن لوگوں کے نام سامنے آئے تھے۔ حکومتیں بدل سکتی ہیں، لیکن مجھے سب کچھ معلوم ہے۔ اگر میں نے ابھی نام ظاہر کر دیے تو بنگلہ دیش میں شدید سیاسی اثرات اور بھونچال آ سکتا ہے‘۔
مزید پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس: مرکزی ملزم فیصل کے معاون کو بھارت میں گرفتار کر لیا گیا
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مغربی بنگال میں حالیہ اسمبلی انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی شدید سیاسی کشیدگی کے دوران ممتا بنرجی کے اس بیان نے نہ صرف بھارتی سیاست کو گرما دیا ہے، بلکہ بھارت اور بنگلہ دیش کے مابین حساس سفارتی تعلقات پر بھی سوالیہ نشانات کھڑے کر دیے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الزامات امیت شاہ بنگلہ دیش ترنمول کانگریس سنگین سیاسی عثمان ہادی۔ مغربی بنگال ممتا بنر جی مودی سرکار