کراچی؛ ڈیفنس میں ڈاکو شہری سے 30لاکھ لوٹ کر فرار، فوٹیج بھی سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT
کراچی:
ڈیفنس میں 2 موٹر سائیکلوں پر سوار 4 نامعلوم مسلح ملزمان اسلحے کے زور پر 30 لاکھ روپے لوٹ کر فرار ہوگئے، واردات کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آگئی۔
تفصیلات کے مطابق گزری تھانے کے علاقے ڈیفنس فیز 4 رحمان مسجد کے قریب ڈاکو شہری سے گھر کی دہلیز پر 30لاکھ کی رقم لوٹ کر فرار ہوگئے۔
منگل کے روز دن دیہاڑے ہوئی واردات کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آگئی، جس میں 2 موٹر سائیکلوں پر سوار 4 نامعلوم مسلح ملزمان کو لوٹ مار کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
شاہد حسین نامی شہری درخشان تھانے کے علاقے بدر کمرشل بینک سے رقم لیکر گھر پر گاڑی سے اترا ہی تھا کہ تعاقب کرتے ڈاکو بھی پہنچ گئے، ایک ڈاکو بیگ سے اسلحہ نکالتا ہے اور گاڑی میں رکھا رقم سے بھرا تھیلا چھینتا ہے۔ ڈاکو تھیلا کھول کر پیسوں کی تسلی کرتے ہیں۔
واردات کے مقام پر شہریوں کو بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ واردات میں ملوث ایک ملزم کا چہرہ واضح ہے جبکہ دیگر ملزمان شناخت چھپانے کے لیے کیپ، ماسک اور ہیلمٹ کا استعمال کرتے ہیں۔ ملزمان واردات کے بعد بآسانی فرار ہوگئے۔
پولیس نے رقم چھیننے کی واردات کا مقدمہ متاثرہ شہری کی مدعیت میں درج کرکے واردات میں ملوث ملزمان کی تلاش شروع کر دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔