غزہ، ایران پر اسرائیلی جنگ سے امت مسلمہ میں وحدت امت کا جذبہ بیدار ہوا، صاحبزادہ عمران نقشبندی
اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT
علماء مشائخ فیڈریشن آف پاکستان کے چیئرمین نے کہا کہ مغربی قوتوں کی کوشش ہے کہ اسلام کو دہشت گردی سے جوڑا جائے لیکن ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اسلام پرامن مذہب ہے، وحدت امت کا جذبہ بیدار ہونے کے نتیجے میں فرقہ واریت اور تعصبات پر مبنی شیعہ سنی کے بت پاش پاش ہورہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ محرم الحرام کا آغاز ہمیں اخوت، صبر اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے، ملک سے فرقہ واریت اور مسلکی اختلافات کے خاتمے کیلئے گراس روٹ لیول پر مذہبی ہم آہنگی پیدا کرنے کیلئے علماء مشائخ فیڈریشن آف پاکستان کے دائرہ کار کو مزید پھیلایا جائیگا، پاکستان میں رہنے والی تمام مذاہب کے پیروکاروں کا انفرادی و اجتماعی فرض ہے کہ وہ ایک دوسرے کے عقائد اور حقوق کا احترام کریں۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی آزادی ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور ہر فرد کو اپنے عقیدے کے مطابق تہوار منانے کی آزادی حاصل ہے، غزہ، ایران پر اسرائیلی جنگ سیامت مسلمہ میں وحدت امت کا جذبہ بیدار ہوا۔ ان خیالات کا اظہار ملک بھر کے علماء مشائخ کی نمائندہ تنظیم علماء مشائخ فیڈریشن آف پاکستان کے چیئرمین پیر صاحبزادہ احمد عمران نقشبندی مرشدی سجادہ نشیں آستانہ عالیہ بھیج پیر جٹا نے اپنی عیادت کیلئے آنے والے مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
صاحبزادہ احمد عمران نقشبندی نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت مسلمانوں کی وحدت کا مرکز ہے، قیام پاکستان کے بعد قادیانیوں نے ملک کے اقتدار پر شب خون مارنے کی تیاریاں شروع کردیں تھیں لیکن علماء مشائخ نے آئینی و قانونی جدوجہد کرکے قادیانیوں کی یہ سازش ناکام بنادی۔ انہوں نے کہا کہ مغربی قوتوں کی کوشش ہے کہ اسلام کو دہشت گردی سے جوڑا جائے لیکن ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اسلام پرامن مذہب ہے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ اور ایران پر اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں امت مسلمہ میں وحدت امت کا جذبہ بیدار ہوا اور اب اس اتحاد کے نتیجے میں فرقہ واریت اور تعصبات پر مبنی شیعہ سنی کے بت پاش پاش ہورہے ہیں۔ اس موقع پر رہنماؤں اور علماء مشائخ نے فلسطین اور کشمیر کے مظلوم مسلمانوں اسرائیل اور بھارت کی جانب سے دن بدن بڑھتے مظالم کی شدید مذمت کرتے ہوئے مظلوم مسلمانوں کی کامیابی اور فتح کی بھی دعا کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: وحدت امت کا جذبہ بیدار علماء مشائخ پاکستان کے نے کہا کہ کہ اسلام
پڑھیں:
سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔(جاری ہے)
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔