’مال و عزت بچانی ہے تو موبائل کے فرنٹ کیمرے بند کرلیں ‘، اہم معلومات سامنے آ گئیں
اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT
دنیا بھر میں جہاں موبائل فون استعمال کرنے والوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے وہیں پرائیویسی کا آپشن بھی ختم ہوتا جا رہا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی نے جہاں ہماری بہت سی مشکلات کو آسان کردیا ہے وہیں اس کے بدلے ہماری ہر حرکت پر نظر بھی رکھی جا رہی ہے۔
کیونکہ فونز کے بڑھتے ہوئے استعمال کے پیش نظر صارفین اپنی اہم معلومات بھی اسی میں محفوظ کرنے لگے ہیں۔ پھر چاہے وہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہوں یا بینک اکاؤنٹس تک رسائی۔
سمارٹ فونز استعمال کرنے والوں کی بڑی تعداد ان کی سیکیورٹی کے بارے میں فکرمند بھی نظر آتی ہے کہ آخر یہ فون اور ان میں لگے کیمرے کتنے محفوظ ہیں کیونکہ اکثر صارفین موبائل فون اپنے ساتھ باتھ روم میں لے جانے کے بھی عادی ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: 20 کروڑ موبائل صارفین کی حد عبور ہونے پر خواتین کو مفت موبائل فون دینے کا اعلان
کئی صارفین کا خیال ہے کہ ہماری پرائیویسی اب پرائیویسی نہیں رہی۔ وہ فکر مند نظر آتے ہیں کہ موبائل فون اور خاص طور پر اس میں لگے ہوئے فرنٹ کیمروں سے کوئی بھی محفوظ نہیں یہ ایک مستقل دھمکی کے طور پر آپ کے ساتھ ہیں۔ اس کی مدد سے ذاتی معلومات اور تصاویر حاصل کر لی جاتی ہیں جو بعد ازاں صارفین کو دھمکانے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں اور مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت انٹرنیٹ پر پوسٹ کر دی جاتی ہیں۔
اسی حوالے سے ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ موبائل کا کیمرہ ہر وقت آپ کی ریکارڈنگ کر رہا ہوتا ہے اور اس بارے میں آپ کو معلوم نہیں ہوتا کیونکہ آپ مختلف قسم کی ایپس موبائل میں انسٹال کرتے ہیں اور اس کو اپنی گیلری، فوٹو، مائکروفون اور ہر چیز کی رسائی دیتے ہیں اور آپ نہیں جانتے کہ وہ اوریجنل ہے یا فیک۔
ویڈیو میں کہا گیا کہ اپنے موبائل یا لیپ ٹاپ کے فرنٹ کیمرے پر کالی ٹیپ لگا دیا کریں کیونکہ ہر وقت آُ کی ریکارڈنگ ہو رہی ہوتی ہے اور آپ کو دیکھا جا رہا ہوتا ہے۔
اس خاتون کی بات ضرور سنیں۔
اپنے موبائل کے فرنٹ کیمرے پر کالی ٹیپ لگایئں۔ pic.
— Muhammad Arif (@ArifRetd) June 27, 2025
ویڈیو میں مزید بتایا گیا کہ ان کے جاننے والی ایک خاتون کو ای میل موصول ہوئی جس میں کہا گیا کہ آپ کا موبائل ہیک ہو چکا ہے آپ ہمیں رقم دیں ورنہ آپ کی تمام تصویریں، ویڈیوز اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے تمام پاسورڈ لیک کر دیں گے جس پر ہم نے اسے نظر انداز کر دیا لیکن ہمیں اگلے دن ایک اور ای میل بھیجی گئی جس میں بینک، فیس بک، انسٹاگرام اور موبائل فون کے پاسورڈ لکھے ہوئے تھے اس کے علاوہ واٹس ایپ کی چیٹ کے اسکرین شاٹ بھی شیئر کیے گئے تھے۔
انہوں نے موبائل فون استعمال کرنے والے لڑکے اور لڑکیوں کو خصوصی پیغام دیتے ہوئے کہا کہ اس کو مذاق نہ سمجھیں اور اپنے فون کے فرنٹ کیمرے کو چھپا کر رکھا کریں کیونکہ آپ کو معلوم نہیں ہوتا کہ آپ کا موبائل فون کسی نے ہیک کر لیا ہوتا ہے۔
ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو صارفین کی جانب سے اس پر مختلف تبصرے کیے گئے۔ ایک صارف نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ موبائل کے فرنٹ کیمرے پر کالی ٹیپ لگا لیں۔ ایک صارف نے کہا کہ فرنٹ کیمرے پر کالی ٹیپ لگانے سے پاسورڈ چوری روکنے کا کوئی تعلق نہیں ہے ہاں کچھ سافٹ ویئر ایسے ہو سکتے ہیں جو آپ کا ڈیٹا چوری کر سکتے ہیں۔
Front camera par tape laganay sai passwords chori roknay ka koi taalliq nahi ho sakta. Unless k aap ki aankhon k lens sai ya glasses ki reflection sai koi James bond password nikaal le. Baqi softwares kuch aisay ho saktay hain jo aap ka data chori kr saktay hain.
— T O T O Y A (@baghi_rebel_) June 27, 2025
چوہدری شاہد نے کہا کہ کالی ٹیپ لگانے کے بجائے موبائل میں ڈیولپر آپشن آن کر کے کیمرہ اور مائیکرو فون کو آف کر دیں۔ اور سیٹنگ میں گوگل میں جا کے اس کی بھی یہ دونوں سیٹنگ آف کر دیں تو بھی کام ہو جاتا ہے۔
سر جی دنیا کالی ٹیپ سے بہت آگے چلی گئی ہے موبائل میں ڈیولپر آپشن آن کر کے کیمرہ اور مائیکرو فون کو آف کر دیں۔ اور سیٹنگ میں گوگل میں جا کے اس کی بھی یہ دونوں سیٹنگ آف کر دیں تو بھی کام ہو جاتا ہے۔ یہ قبل مسیح کی ماسی ویوز کے چکر میں ہے بس
— ???????????????????????????????? ???????????????????????? ???? (@ChaudhryShahid_) June 27, 2025
سائبر سکیورٹی ایکسپورٹ اطہر اے جبار نے سوشل میڈیا پر وائرل ہوتی ویڈیو کے حوالے سے وی نیوز کو بتایا کہ یہ بالکل درست ہے کہ آپ کے موبائل کا فرنٹ کیمرہ اگر استعمال نہ بھی ہو رہا ہو تو تمام ایکٹیویٹیز کو کیپچر کر رہا ہوتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ نہ صرف موبائل بلکہ لیپ ٹاپ کا بھی کیمرہ بھی ٹیپ لگا کر محفوظ کرنا چاہیئے۔ کیونکہ لیپ ٹاپ بھی بیشک استعمال نہ ہو رہا ہو پھر بھی وہ کیمرہ تمام چیزوں کو مانیٹر کر رہا ہوتا ہے۔ اور کوئی بھی آپ کے موبائل / لیپ ٹاپ کیمرہ تک رسائی حاصل کر سکتا ہے پھر چاہے وہ آپ کو جانتا ہی نہ ہو۔
یہ بھی پڑھیں: ملک میں گاڑیوں اور موبائل فونز کی تعداد میں کتنا اضافہ ہوا ہے؟
سائبر سکیورٹی ایکسپرٹ حبیب اللہ خان کا اس بارے میں کہنا تھا کہ وائرل ہوتی ویڈیو میں جو معلومات بتائی جا رہی ہیں وہ درست ہیں۔ آپ کا موبائل فون کا فرنٹ کیمرہ کا آن ہونا ضروری نہیں ہوتا۔ اگر کیمرہ زیر استعمال نہیں ہے تو بھی وہ ہر چیز کو کلک کر رہا ہوتا ہے اور ایسا خاص طور پر اس وقت ہوتا ہے جب کوئی حملہ آور یا ہیکر آپ کے آپریٹنگ سسٹم پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے روٹ کٹ یا حملے کی دوسری شکل استعمال کرتا ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ ہر وقت محفوظ رہنے کے لیے احتیاطی تدابیر ضروری ہوتی ہیں۔ جیسا کہ جب کیمرہ استعمال میں نہ ہو تو اسے ڈھانپ دیں یا ڈیوائس سے منقطع کر دیں۔ ایک سادہ سا شٹر یا ٹیپ بھی جدید مالویئر کو ناکام بنا سکتا ہے۔ حبیب اللہ خان کا مزید کہنا تھا کہ اٹیک کرنے والا آپ کی لائیو ویڈیو، امیجز، روم آڈیو، اسکرین شاٹس وغیرہ حاصل کر سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ٹیکنالوجی ڈیٹا تک رسائی موبائل ڈیٹا ہیک موبائل کمیرے موبائل ہیک
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ٹیکنالوجی ڈیٹا تک رسائی موبائل ڈیٹا ہیک موبائل ہیک کر رہا ہوتا ہے کے فرنٹ کیمرے موبائل فون سوشل میڈیا وائرل ہو لیپ ٹاپ کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
جمال رئیسانی کا بی وائی سی اور کالعدم بی ایل اے کے مبینہ روابط کا دعویٰ، خواتین کے استعمال کو بلوچ روایات کے خلاف قرار دے دیا
بلوچستان سے رکن قومی اسمبلی جمال رئیسانی نے دعویٰ کیا ہے کہ کالعدم بلوچ عسکری تنظیموں اور بعض سماجی و سیاسی حلقوں کے درمیان روابط موجود ہیں، جبکہ خواتین اور کم عمر لڑکیوں کو مسلح سرگرمیوں میں شامل کرنا بلوچ روایات اور قبائلی اقدار کے منافی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بھارتی سرپرستی میں زہریلا پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جمال رئیسانی نے کہا کہ کالعدم تنظیم بی ایل اے کے کمانڈر بشیر زیب کا نام مختلف واقعات میں سامنے آتا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچ معاشرے کی روایات میں خواتین کو جنگی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ انہوں نے سابق بلوچ رہنما اکبر بگٹی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نواب اکبر بگٹی نے بھی یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ بلوچ خواتین کو جنگ کا حصہ نہیں بنایا جائے گا۔
نواب اکبر بگٹی نے کہا تھا کہ ہم جنگ میں خواتین کو استعمال نہیں کریں گے، ہیروف 2 میں شامل خودکش حملہ آور اور کمانڈر شہناز تک تمام کے تانے بانے بی وائی سی سے ملتے ہیں، جمال رئیسانی
مکمل ویڈیو فیس بک پیج پرhttps://t.co/GB5kSKBy0R#Balochistan #Quetta pic.twitter.com/GLHj40tk43
— Daily Intekhab (@Intekhabhd) June 2, 2026
رکن قومی اسمبلی نے الزام عائد کیا کہ حالیہ برسوں میں بعض کم عمر لڑکیوں اور خواتین کو عسکری سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا گیا، جو بلوچ روایات کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض خودکش حملوں اور عسکری کارروائیوں میں خواتین کی شمولیت کے شواہد سامنے آئے ہیں، جس پر سنجیدہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
جمال رئیسانی کا کہنا تھا کہ دشمن صرف ہتھیاروں کے ذریعے نہیں بلکہ سوشل میڈیا، ہیش ٹیگز، ویڈیوز اور پروپیگنڈا مہمات کے ذریعے بھی نوجوانوں کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک منظم نیٹ ورک مخصوص بیانیے کو فروغ دے کر نوجوان نسل کی سوچ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید الزام لگایا کہ بعض افراد اور گروہ سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعے کالعدم تنظیموں کے بیانیے کو تقویت دیتے ہیں۔ ان کے مطابق سیکیورٹی اداروں اور ریاستی اداروں کے پاس اس حوالے سے مختلف رپورٹس اور شواہد موجود ہیں جن کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
جمال رئیسانی نے کہا کہ حکومت دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف مؤثر قانون سازی اور اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے اور بلوچستان کے نوجوانوں کو تشدد کے راستے سے دور رکھنے کے لیے ریاستی سطح پر مختلف پروگرام بھی شروع کیے گئے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ بلوچستان کے مسائل کا حل سیاسی مکالمے، جمہوری عمل اور آئینی طریقہ کار میں مضمر ہے، جبکہ تشدد اور مسلح کارروائیاں نہ صرف صوبے بلکہ پورے ملک کے امن اور استحکام کے لیے نقصان دہ ہیں۔
پریس کانفرنس کے دوران جمال رئیسانی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بعض حالیہ واقعات اور عسکری کارروائیوں میں ملوث افراد کے روابط مخصوص حلقوں سے ملتے ہیں، جن کی تحقیقات جاری ہیں۔ تاہم ان الزامات پر متعلقہ فریقین کا مؤقف سامنے نہیں آ سکا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں