کانگریس لیڈر نے کہا کہ نہ صرف ماضی میں بلکہ آج بھی آر ایس ایس اور بی جے پی کی جانب سے نئے آئین کی مانگ کی جاتی رہی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کانگریس کمیٹی کے مرکزی لیڈر جے رام رمیش نے آر ایس ایس پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے کبھی بھی ہندوستان کے آئین کو مکمل طور پر قبول نہیں کیا۔ ایکس پر جاری بیان میں انہوں نے الزام لگایا کہ آر ایس ایس نے 30 نومبر 1949ء سے ہی ڈاکٹر امبیڈکر، پنڈت نہرو اور دیگر آئین سازوں پر حملے شروع کر دئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس کے اپنے الفاظ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ آئین کو مسترد کرتی ہے کیونکہ وہ منواسمرتی سے متاثر نہیں تھا۔ جے رام رمیش نے الزام لگایا کہ نہ صرف ماضی میں بلکہ آج بھی آر ایس ایس اور بی جے پی کی جانب سے نئے آئین کی مانگ کی جاتی رہی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2024ء کے پارلیمانی انتخابات میں مودی نے یہی نعرہ دیا تھا لیکن عوام نے اس مطالبے کو فیصلہ کن طور پر مسترد کر دیا۔ اس تناظر میں کانگریس لیڈر نے ایک اہم عدالتی فیصلے کا حوالہ بھی دیا، جسے 25 نومبر 2024ء کو سپریم کورٹ نے سنایا تھا۔ یہ فیصلہ "سوشلسٹ" اور "سیکولر" الفاظ کو آئین کے دیباچہ (پریمبل) میں شامل کرنے کے خلاف دائر مفادِ عامہ کی عرضیوں پر دیا گیا تھا۔

سپریم کورٹ نے ڈاکٹر بلرام سنگھ اور دیگر کی طرف سے دائر ان درخواستوں کو مسترد کرتے ہوئے صاف طور پر کہا کہ 1976ء کی 42ویں آئینی ترمیم کے ذریعے شامل کیے گئے یہ الفاظ آئین کے بنیادی ڈھانچے کے مطابق ہیں۔ عدالت نے کہا کہ "سوشلسٹ" کا مطلب ہندوستانی تناظر میں ریاست کی فلاحی ذمہ داری اور سماجی و اقتصادی انصاف کی ضمانت ہے، نہ کہ نجی کاروبار یا پالیسیوں پر کوئی روک۔ اسی طرح "سیکولر" ہونے کا مطلب مذہب سے مکمل غیر جانبداری ہے، نہ کہ مذہب دشمنی۔ عدالت نے اس دلیل کو بھی مسترد کر دیا کہ یہ ترمیم ایمرجنسی کے دوران ہوئی تھی اور اس لئے غیر آئینی ہے۔ عدالت نے کہا کہ آئین میں ترمیم کا اختیار پارلیمنٹ کے پاس ہے اور وہ اختیار آرٹیکل 368 کے تحت استعمال کیا گیا، اس میں کوئی آئینی خلل نہیں ہے۔

عدالت نے واضح کیا کہ 44 برسوں کے بعد اس ترمیم کو چیلنج کرنا نہ صرف بے بنیاد ہے بلکہ یہ مطالبہ آئینی طور پر غیر معقول بھی ہے، کیونکہ ان اصطلاحات کو عوامی شعور میں مکمل قبولیت حاصل ہو چکی ہے۔ عدالت کے مطابق ہم ہندوستان کے لوگ ان الفاظ کو پوری طرح سمجھتے ہیں اور یہ آئین کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف نہیں ہیں۔ جے رام رمیش نے سوال اٹھایا کہ جب خود چیف جسٹس آف انڈیا کی سربراہی میں بنچ نے ان دلائل کو خارج کر دیا تھا، تو اب ایک بڑے آر ایس ایس عہدیدار کی جانب سے دوبارہ اسی بحث کو چھیڑنے کا کیا جواز ہے۔ واضح رہے کہ یہ بیان ایسے وقت پر آیا ہے جب حالیہ دنوں میں آر ایس ایس کے کچھ رہنماؤں کی طرف سے دیباچہ میں شامل ان الفاظ پر ایک بار پھر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: آر ایس ایس نے کہا کہ عدالت نے

پڑھیں:

سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

اسلام آباد:

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

جسٹس انعام امین منہاس نے درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر ظفر اللہ جبکہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل، ایف آئی اے اور امیگریشن حکام بھی عدالت پیش ہوئے۔ عدالتی ہدایت پر بیرسٹر ظفر اللہ نے کوئٹہ پولیس کا خط پڑھا۔

جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا کہ متعلقہ پولیس کہہ رہی ہے بندہ نہیں چاہیے، ایف آئی اے کو بھی مطلوب نہیں، جن کو چاہیے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہیے، پھر ابھی تک نام کیوں نہیں نکالا؟

ایف آئی اے حکام نے جواب دیا کہ ای سی ایل میں نام نہیں ہے، صرف پی این آئی لسٹ میں نام ہے جو 28 مارچ کو ڈالا گیا۔

عدالت نے استفسار کیا کہ اس لسٹ میں نام کتنے دن کے لیے ہوتا ہے اور کب مکمل ہوئی؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ ایک ماہ کے لیے ہوتا ہے اور پھر ایک ماہ کی توسیع لینا ہوتی ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ زیادہ سے زیادہ 60 روز رکھ سکتے ہیں تو اب جولائی ہے، کتنے ماہ ہوگئے ہیں؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ 5 ماہ ہوگئے، ابھی تک ہمیں آفیشلی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

عدالت نے ایف آئی اے افسر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اتنے وقت کیسے آپ رکھ سکتے ہیں، کس قانون کے تحت ابھی تک رکھا ہوا ہے۔ جسٹس راجہ انعام امین نے ریمارکس دیے کہ ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آرہے ہیں، کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ہے۔

عدالت نے سردار یار محمد رند کی سفری پابندی لسٹ سے نام نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

متعلقہ مضامین

  • کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں، آئین کے مطابق قومی ذمہ داری نبھاؤں گا: گورنر سندھ نہال ہاشمی
  • قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، جج آئینی عدالت
  • نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم
  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن