روایتی جنگی حکمتِ عملی کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ضروری ہے، نیول چیف
اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT
لاہور(نیٹ نیوز) چیف آف دی نیول سٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے کہا ہے روایتی جنگی حکمتِ عملی کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔آئی ایس پی آر کے مطابق چیف آف دی نیول سٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے پاکستان نیوی وار کالج لاہور کا دورہ کیا اور 54ویں سٹاف کورس کے شرکا سے خطاب کیا۔اپنے خطاب میں نیول چیف نے خطے میں بدلتی صورتحال کے تناظر میں پاکستان کو درپیش میری ٹائم سکیورٹی چیلنجز پر اظہار خیال کیا۔ایڈمرل نوید اشرف نے کہا بحرِ ہند کے خطے میں طاقت کی عالمی کشمکش کے سبب مسلسل تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں، روایتی جنگی حکمتِ عملی کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔انہوں نے کہا مستقبل کی جنگیں جیتنے کے لیے ذہین اور ٹیکنالوجی سے لیس افرادی قوت کی تیاری نہایت اہم ہے۔ پاک بحریہ ہر طرح کے روایتی و غیر روایتی خطرات سے نمٹنے کیلئے ہمہ وقت تیار ہے۔نیول چیف نے کورس کے شرکا کی پیشہ وارانہ محنت اور لگن کو سراہا اور کورس مکمل کرنے والے افسروں کو مبارکباد دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔