18 سیاحوں کی ہلاکت کا معاملہ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سوات سمیت 4 افسر معطل، انکوائری کمیٹی تشکیل
اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT
سوات(اوصاف نیوز) فضا گٹ کے مقام پر 18 سیاحوں کو ڈوبنے کے افسوسناک حادثے پر صوبائی حکومت نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سمیت 4 افسران کو فوری طور پر معطل کردیا۔
وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے احکامات کی روشنی میں اسٹیبلشمنٹ ڈیپارٹمنٹ نے سوات میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سوات احسان الحق، اسسٹنٹ کمشنر بابو زئی سوات، اسسٹنٹ کمشنر خوازہ خیلہ سوات اور ریسکیو 1122 کے ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر سوات سعد خان کو معطل کیا ہے۔
کے پی حکومت نے چیئرمین صوبائی انسپکشن ٹیم کے چیئرمین خیام حسن خان کی سربراہی میں دو رکنی کمیٹی تشکیل دے دی جو 7 دنوں میں اپنی انکوائری رپورٹ صوبائی حکومت کو پیش کرے گی۔
اس حوالے سے بیرسٹر سیف نے کہا ہے کہ سوات واقعے کے ذمہ داروں کے خلاف وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی ہدایت پر کارروائی ہوئی ہے، ذمہ داری کے تعین کے لیے وزیر اعلیٰ انسپیکشن ٹیم کے تحت انکوائری کا حکم بھی دے دیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اسسٹنٹ کمشنر بابوزئی، سوات کو سست ردعمل اور اسسٹنٹ کمشنر خوازہ خیلہ کو بروقت وارننگ جاری نہ کرنے پر معطل کیا گیا، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریلیف کو پیشگی اقدامات نہ کرنے پر اور ریسکیو 1122 کے ضلعی انچارج کو بھی معطل کیا گیا ہے، انکوائری کے بعد مزید ذمہ داروں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔
“غزہ میں جنگ بندی آئندہ ہفتے ممکن “ٹرمپ کا دعویٰ
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر
پڑھیں:
کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔
مزید پڑھیںلاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال
اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔