ٹرمپ ٹارگٹ ، ایران کے بعد شمالی کوریا ؟
اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT
کیا ایران کے بعد امریکہ کا اگلا ٹارگٹ شمالی کوریا ہے؟ یہ سوال ایران پر امریکی حملے کے فورا بعد عالمی سطح پر شدت سے زیرِ بحث آ رہا ہے۔ ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی بمباری نے مشرق وسطی کی فضامیں خوف وہراس پیدا کر دیا،مگر مشرقی ایشیا کے پالیسی سازوں اور اسٹریٹجک ماہرین نےاس واقعے کو ایک اور زاویے سے دیکھا اور یہ سوال ابھرا کہ کیا امریکہ وہی طرزِ عمل اب شمالی کوریا کے خلاف بھی اختیار کرے گا؟ اگرچہ ایران اور شمالی کوریا کے حالات بظاہر مماثل دکھائی دیتے ہیں، لیکن جوہری صلاحیت، عسکری اتحادی، اور جغرافیائی حقائق انہیں یکسر مختلف بنا دیتے ہیں۔ امریکہ کا شمالی کوریا کے خلاف کسی بھی طرح کی مہم جوئی کرنا ایران سے کہیں زیادہ پیچیدہ، خطرناک اور مہنگا ثابت ہو سکتا ہے۔کیا ایران پر حملہ شمالی کوریا کو مزید ضدی اور خطرناک بنا دے گا؟یہ سلگتا سوال ماہرین کو پریشان کیے ہوئے ہے۔ شمالی کوریا جو پہلے ہی دنیا سے کٹا ہوا، خودمختار اور عسکری طور پر حساس ملک ہے، ایران پر امریکی حملے کو اپنی بقا کے بیانیے کا ثبوت سمجھ رہا ہے۔ پیونگ یانگ میں موجود حکام اب یہ سمجھنے لگے ہیں کہ اگر ایران جیسا ملک جو جوہری ہتھیاروں کے بغیر صرف افزودہ یورینیم رکھتا تھا، امریکی حملے سے نہ بچ سکا، تو شمالی کوریا کے پاس پسپائی کا کوئی راستہ نہیں۔ اس سوچ کے نتیجے میں شمالی کوریا کی ضد، اس کی عسکری تیاریوں اور جوہری پروگرام کی رفتار میں اضافہ متوقع ہے، کیونکہ اب وہ خود کو ہر حال میں محفوظ رکھنے کے لیے جارحانہ پالیسیوں کو ترجیح دے گا۔کیا امریکہ کا ایران پر حملہ پیونگ یانگ کے دیرینہ موقف کو درست ثابت کرتا ہے؟شمالی کوریا عرصہ دراز سے کہتا آ رہا ہے کہ امریکہ کا مقصد صرف کمزور حکومتوں کو نشانہ بنانا ہے اور صرف جوہری ہتھیار ہی اس کی جارحیت سے بچنے کی ضمانت ہیں۔
ایران پرحملے نے اس موقف کو بین الاقوامی سطح پر تقویت دی ہے۔ پیونگ یانگ کے بیانیے کو اب داخلی سطح پر عوام اور حکومتی مشینری کے درمیان مزید پذیرائی مل رہی ہے۔ امریکہ کی جانب سے عسکری کارروائی نے سفارتکاری کے دروازے مزید بند کر دیئے ہیں اور شمالی کوریا کودفاعی نہیں بلکہ جارحانہ حکمتِ عملی اختیارکرنے کی ترغیب دی ہے۔ شمالی کوریا روس سے دفاعی تعاون کیوں بڑھا رہا ہے؟ یوکرین جنگ کے بعد شمالی کوریا اور روس کے درمیان فوجی تعلقات میں غیرمعمولی وسعت آئی ہے۔ روس کو گولہ بارود، راکٹ، توپیں اور دیگر عسکری سازوسامان بہت بڑی مقدار میں فراہم کرنے کے بدلے میں پیونگ یانگ کو فضائی دفاع، الیکٹرانک وارفیئر ٹیکنالوجی اور میزائل نظام جیسی جدید دفاعی صلاحیتیں حاصل ہو رہی ہیں۔ اس تعاون کا ایک مقصد امریکہ کی ممکنہ جارحیت کے خلاف مضبوط تزویراتی بندوبست بھی ہے۔ روس کے ساتھ اس تعلق کو شمالی کوریا اپنی سلامتی کا اہم ستون تصور کر رہا ہے۔ایران اور شمالی کوریا کے جوہری پروگرام میں بنیادی فرق کیا ہے؟ ایران ابھی تک جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے مرحلے میں نہیں پہنچا جبکہ شمالی کوریا کے پاس پہلے سے تقریبا 40 سے 50 جوہری وارہیڈز موجود ہیں۔ مزید یہ کہ شمالی کوریا کے پاس انٹرکانٹینینٹل بیلسٹک میزائلز (ICBMs) بھی ہیں جو امریکہ کی سرزمین تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس فرق کا مطلب یہ ہے کہ جہاں ایران کو دبائو کے ذریعے روکاجا سکتا تھا، وہاں شمالی کوریا کے خلاف کوئی بھی جارحیت براہ راست جوہری ردعمل کو دعوت دےسکتی ہے۔کیا شمالی کوریا پر حملہ ایٹمی جنگ کی طرف پہلا قدم ہوگا؟ اگر امریکہ شمالی کوریا کے خلاف کسی بھی عسکری مہم جوئی کا آغاز کرتا ہے تو اس کے نتائج ایک محدود تنازعے سے کہیں آگے نکل سکتے ہیں۔ شمالی کوریا کے پاس موجود جوہری صلاحیت، اس کی جارحانہ حکمت عملی، اور روس کے ساتھ اس کا اتحادیہ سب مل کر ایک ممکنہ عالمی جوہری جنگ کی فضا پیدا کرتے ہیں۔ اس خطرے کو نظر انداز کرنا کسی بھی عالمی قیادت کے لیے ناقابل معافی غلطی ہوگی۔امریکہ کو شمالی کوریا پرحملے سے پہلے کن قانونی رکاوٹوں کا سامنا ہوگا؟ امریکہ اور جنوبی کوریا کے درمیان دفاعی معاہدے کی شقوں کے مطابق، کسی بھی فوجی کارروائی سے قبل سیئول سے مشاورت ضروری ہے۔ یہ صرف رسمی کارروائی نہیں بلکہ ایک پیچیدہ سیاسی اور قانونی مرحلہ ہے۔
جنوبی کوریا، جو خود شمالی کوریا کی زد میں ہے، کسی بھی حملے سے قبل تمام ممکنہ نتائج کا تخمینہ لگائے گا، اور ممکنہ طور پر اس کی مخالفت کرے گا۔ یہ معاہدہ امریکی صدر کو فوری طور پر فیصلہ کرنے سے روک سکتا ہے، خاص طور پرجب حملے کے نتائج ناقابلِ پیشگوئی ہوں۔روس اور شمالی کوریا کا دفاعی اتحاد امریکہ کے لیے کیا چیلنج کھڑا کرتا ہے؟ روس اور شمالی کوریا کے درمیان اگرچہ پرانا دفاعی معاہدہ موجود ہے، لیکن حالیہ برسوں میں اس میں نئی جان ڈالنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ روس، جو یوکرین جنگ میں پہلے ہی مغرب کےخلاف کھڑا ہے، ممکنہ طور پر شمالی کوریا کےدفاع میں کھل کر میدان میں آ سکتا ہے۔ یہ صورتِ حال امریکہ کے لیے دو محاذی جنگ کا پیش خیمہ بن سکتی ہےایک یورپ میں اور دوسری مشرقی ایشیاء میں جس کے لیے امریکہ نہ سیاسی طور پر تیار ہے، نہ عسکری طور پر۔یہ سوال بھی کیاجا رہا ہے کہ کیا امریکہ کی ایران پر کارروائی جوہری پھیلا کو کم کرے گی یا بڑھائے گی؟ ایران پرحملے سے امریکہ نے یہ پیغام دیا ہے کہ جو ملک جوہری طاقت نہیں رکھتا وہ حملے کا آسان ہدف ہے۔ اس پیغام نے نہ صرف شمالی کوریا بلکہ دیگر ممکنہ جوہری عزائم رکھنے والے ممالک کو بھی خبردار کر دیا ہے کہ طاقت کی واحد زبان جو مانی جاتی ہے وہ ہتھیاروں کی زبان ہے۔ اس حملے نے جوہری عدم پھیلائو کی عالمی کوششوں کو شدید دھچکا پہنچایا ہے، اور اس بیانیے کو فروغ دیا ہے کہ صرف جوہری ہتھیار ہی خودمختاری کی ضمانت ہیں۔کیا ٹرمپ ایران پر حملے کے ذریعے داخلی سیاست سے توجہ ہٹانا چاہتے تھے؟ ٹرمپ پر داخلی دبائو شدید ہے، خاص طور پر ان کے سیاسی اتحادی نیتن یاہو کے خلاف کرپشن کیس کے تناظر میں۔ اسرائیل اور امریکہ کی باہمی سیاسی ہم آہنگی کی روشنی میں یہ قیاس بے بنیاد نہیں کہ ایران پر حملہ داخلی سیاسی بحران سے توجہ ہٹانے اور اسرائیلی قیادت کو ریلیف دینے کی ایک کوشش تھی۔ اس طرح کی عسکری مہم جوئی اکثر داخلی سیاسی مفادات کے تابع ہوتی ہے، اور یہی شک امریکہ کے عالمی کردار کو مشکوک بنا دیتا ہے۔یہ تمام دلائل اور واقعات مل کر اس بات کی گہرائی سے تصدیق کرتے ہیں کہ شمالی کوریا ایران سے یکسر مختلف تزویراتی تناظر رکھتا ہے۔ اس پر ایران جیسے حملے کی کوشش نہ صرف خطے کو جوہری تصادم کی طرف لے جا سکتی ہے بلکہ امریکہ کے عالمی مقام، اتحادیوں پر اعتماد، اور داخلی استحکام کو بھی شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔ ایران پر گرنے والے امریکی بم دراصل پیونگ یانگ کے ایٹمی بنکروں میں گونجنے والی گھنٹیاں ہیں، جو دنیاکو کسی بڑے المیے سے پہلے خبردار کر رہی ہیں۔ اگر واشنگٹن نے ان گھنٹیوں کو سننے سے انکار کیا، تو شاید دنیا کو اس کی قیمت تاریخ کے مہنگے ترین فیصلوں میں سے ایک کے طور پر چکانا پڑے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: شمالی کوریا کے پاس اور شمالی کوریا کہ شمالی کوریا پیونگ یانگ امریکہ کا کے درمیان امریکہ کی امریکہ کے ایران پر کسی بھی پر حملہ حملے سے کے لیے رہا ہے
پڑھیں:
ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
اسرائیلی نژاد امریکی صحافی اور محقق ڈاہلیا شائنڈلن نے 9 مئی 2026 کو برطانوی اخبار گارڈین میں شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں لکھا کہ ’نیتن یاہو جس شدت سے امریکا اور اسرائیل کے تعلقات کی مثالی نوعیت پر زور دے رہے ہیں، اس سے مجھے خدشہ ہوتا ہے کہ شاید پسِ پردہ کشیدگی کہیں زیادہ ہے۔
انہوں نے لکھا کہ ایران کو لے کر امریکا اور اسرائیل کے اہداف بظاہر ایک جیسے دکھائی دیتے ہیں، لیکن یہ اہداف سفارت کاری کے ذریعے حاصل کیے جائیں یا فوجی کارروائیوں کے ذریعے، اس پر اختلافات سامنے آتے دکھائی دیتے ہیں۔
تاہم اصل سوال یہ ہے کہ آیا امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل کو مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن کی کوششوں کو نقصان پہنچانے والی فوجی کارروائیوں سے روک پائیں گے؟ اسی کے ساتھ یہ سوال بھی اہم ہے کہ امریکا میں اسرائیل کی حمایت میں کتنی کمی آ رہی ہے؟‘
ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان تلخ کلامیامریکا اور ایران کے درمیان تنازعے کے حل میں جوں جوں تاخیر ہو رہی ہے، دونوں جانب اعصابی تناؤ بڑھتا جا رہا ہے، جبکہ اس تنازعے کی بنیادی وجوہات میں شامل اسرائیلی رویے میں کوئی واضح تبدیلی نظر نہیں آتی۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا اور اسرائیل کی ایران پر یلغار کے بیچ غزہ میں انسانی بحران مزید سنگین ہوگیا
غزہ میں نہتے اور معصوم شہریوں کے قتلِ عام کے بعد اسرائیل اب لبنان میں بھی اسی نوعیت کی فوجی کارروائیاں کر رہا ہے، جنہیں خطے میں قیامِ امن کے لیے نقصان دہ قرار دیا جا رہا ہے۔
یورپ پہلے ہی اسرائیل کی فعال فوجی حمایت سے بڑی حد تک پیچھے ہٹ چکا ہے، جبکہ امریکا، جو اسرائیل کا سب سے بڑا پشت پناہ سمجھا جاتا ہے، اندرونی معاشی دباؤ اور بدلتی ہوئی عوامی رائے کے باعث اب زیادہ عرصے تک اسی سطح کی غیر مشروط حمایت جاری رکھنے کی پوزیشن میں دکھائی نہیں دیتا۔
اس تاثر کو تقویت گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان ہونے والی مبیّنہ تلخ کلامی سے ملی۔ اس سے ایک روز قبل ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ جنگ بندی کا مطلب تمام محاذوں، بشمول لبنان، میں جنگ بندی ہے۔ اسرائیلی حملوں کے تناظر میں ان کا مؤقف تھا کہ لبنان پر اسرائیلی حملے خطے میں امن کے قیام کے لیے نقصان دہ ہیں۔
بعد ازاں ایک امریکی ویب سائٹ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ’پاگل‘ قرار دیا اور لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کو امریکی سفارتی کوششوں کے لیے انتہائی نقصان دہ قرار دیا۔ بعض ذرائع کے مطابق ٹرمپ نے سخت لہجے میں پوچھا ’تم آخر کر کیا رہے ہو؟‘ جبکہ ایک ذریعے نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکی صدر نے کہا کہ ’اب سبھی اسرائیل سے نفرت کرتے ہیں‘۔
اس مبیّنہ تلخ کلامی نے واشنگٹن اور تل ابیب کے تعلقات کے مستقبل کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں اور ایران کے ساتھ جاری امریکی مذاکرات کو لاحق خطرات کے باعث دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی گفتگو غیر معمولی حد تک تلخ رہی۔
اختلافات کی اصل وجہ کیا ہے؟یہ کشیدگی ایسے وقت سامنے آئی ہے جب واشنگٹن ایران کے ساتھ کسی ممکنہ سفارتی پیش رفت کا خواہاں دکھائی دیتا ہے، جبکہ نیتن یاہو حکومت ایران، حزب اللہ اور خطے میں ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کے خلاف فوجی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
امریکی سابق سفارت کار اور مشرقِ وسطیٰ امور کے ماہر آرون ڈیوڈ ملر نے جنوری 2026 میں کارنیگی ادارۂ امنِ عالم میں شائع ہونے والے ایک تجزیے میں لکھا کہ ٹرمپ کو نیتن یاہو پر ایسا اثر و رسوخ حاصل ہے جو حالیہ برسوں میں کسی امریکی صدر کو حاصل نہیں رہا۔ ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی قیادت کے لیے امریکی ترجیحات کو مکمل طور پر نظر انداز کرنا آسان نہیں رہا۔
کیا امریکا اور اسرائیل کے تعلقات میں دراڑ پڑ رہی ہے؟راقم الحروف نے اس موضوع پر کئی سفارت کاروں سے گفتگو کی، جن کا کہنا تھا کہ امریکا کے اندر اسرائیلی لابی اب بھی بہت مضبوط ہے، اس لیے فوری طور پر ایسا دکھائی نہیں دیتا کہ امریکا اور اسرائیل کے تعلقات شدید کشیدگی کا شکار ہو جائیں۔ تاہم امریکا میں اسرائیل کے خلاف بڑھتی ہوئی عوامی ناراضی غیر معمولی ہے، جس کی ماضی میں مثال کم ہی ملتی ہے۔
ان کے مطابق ممکن ہے کہ مستقبل میں امریکا کے لیے اسرائیل کو وہی سطح کی سیاسی، سفارتی اور عسکری حمایت فراہم کرنا زیادہ عرصے تک ممکن نہ رہے جو وہ گزشتہ کئی دہائیوں سے کرتا آ رہا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے تعلقات محض 2 رہنماؤں کی ذاتی قربت پر قائم نہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون، انٹیلی جنس شراکت داری، اربوں ڈالر کی فوجی امداد اور خطے میں مشترکہ تزویراتی مفادات موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بیشتر ماہرین اس واقعے کو تعلقات کے خاتمے کے بجائے پالیسی اختلافات کی علامت قرار دے رہے ہیں۔
مزید پڑھیں:برازیلی صدر کی اسرائیل کو ہٹلر سے تشبیہ، غزہ پر جنگ نسل کشی قرار
ڈاہلیا شائنڈلن کے مطابق نیتن یاہو جس شدت سے امریکا اور اسرائیل کے تعلقات کو مثالی قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں، وہ خود اس بات کا اشارہ ہے کہ پسِ پردہ تناؤ پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکا ہے۔ ان کے مطابق غزہ، لبنان اور ایران کے معاملات پر اسرائیلی حکومت کی حکمتِ عملی نہ صرف بین الاقوامی دباؤ میں اضافہ کر رہی ہے بلکہ واشنگٹن میں بھی بے چینی پیدا کر رہی ہے۔
کیا اسرائیل امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟شاید یہی وہ سوال ہے جو آج امریکی خارجہ پالیسی کے حلقوں میں سب سے زیادہ زیرِ بحث ہے۔ 1948 میں اسرائیل کے قیام سے لے کر کئی دہائیوں تک، بلکہ حالیہ برسوں تک، اسرائیل کو امریکا میں تقریباً غیر متنازع حمایت حاصل رہی۔ ریپبلکن اور ڈیموکریٹ دونوں جماعتیں اسرائیل کی سلامتی کو امریکی قومی مفاد کا حصہ قرار دیتی رہی ہیں۔ تاہم غزہ جنگ کے بعد یہ منظرنامہ تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
2024 اور 2025 کے دوران کولمبیا جامعہ، ہارورڈ جامعہ اور کیلیفورنیا جامعہ لاس اینجلس سمیت متعدد امریکی جامعات میں فلسطین کے حق میں بڑے احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ ہزاروں طلبہ نے اسرائیل کو دی جانے والی امریکی فوجی امداد روکنے کا مطالبہ کیا، جبکہ کئی مقامات پر پولیس مداخلت اور گرفتاریاں بھی ہوئیں۔ ان واقعات نے فلسطین اور اسرائیل کے مسئلے کو پہلی مرتبہ امریکی داخلی سیاست کے ایک اہم موضوع میں تبدیل کر دیا۔
متعدد جائزوں سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ نوجوان امریکی ووٹرز، خصوصاً 35 سال سے کم عمر افراد، اسرائیلی پالیسیوں کے بارے میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ تنقیدی رویہ رکھتے ہیں۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے ترقی پسند حلقوں میں یہ مؤقف مضبوط ہو رہا ہے کہ اسرائیل کی ہر پالیسی کی غیر مشروط حمایت امریکا کے مفاد میں نہیں۔
جب راقم الحروف نے یہ سوال ایک پاکستانی نژاد امریکی صحافی کے سامنے رکھا تو ان کا کہنا تھا کہ نوجوان امریکیوں کی ایک بڑی تعداد اسرائیلی پالیسیوں کی ناقد بن چکی ہے، جبکہ 60 سال سے زیادہ عمر کے افراد اب بھی عمومی طور پر اسرائیل کے زیادہ حامی دکھائی دیتے ہیں۔
اصل مسئلہ اسرائیل ہے یا نیتن یاہو؟یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے۔ بیشتر ماہرین کے مطابق مسئلہ اسرائیل کا وجود یا امریکا کے ساتھ اس کا اتحاد نہیں، بلکہ نیتن یاہو حکومت کی بعض پالیسیاں ہیں جو واشنگٹن کے لیے سیاسی اور سفارتی اخراجات میں اضافہ کر رہی ہیں۔
امریکا میں اسرائیل کی سلامتی کی حمایت اب بھی مضبوط ہے، لیکن غزہ جنگ، لبنان میں کارروائیوں اور ایران کے خلاف سخت مؤقف کے باعث نیتن یاہو حکومت پر تنقید پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ کھل کر کی جا رہی ہے۔
ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی مبیّنہ سرزنش محض ایک ٹیلیفونک جھڑپ نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل کے حوالے سے دو مختلف تزویراتی نقطۂ نظر کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات کی علامت معلوم ہوتی ہے۔ ایک جانب واشنگٹن خطے میں کشیدگی کم کرکے سفارتی راستہ اپنانا چاہتا ہے، جبکہ دوسری جانب اسرائیلی حکومت ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف دباؤ بڑھانے کی حکمتِ عملی پر قائم ہے۔
اگر یہی رجحان برقرار رہا تو آنے والے برسوں میں امریکا اور اسرائیل کے تعلقات ختم تو نہیں ہوں گے، تاہم ان کی نوعیت ضرور تبدیل ہو سکتی ہے، جہاں غیر مشروط حمایت کی جگہ زیادہ مشروط اور محتاط حمایت لے سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل امریکا۔ امریکی صدر ٹرمپ ڈونلڈ سرزنش نیتن یاہو