Daily Ausaf:
2026-06-03@08:12:16 GMT

ٹرمپ ٹارگٹ ، ایران کے بعد شمالی کوریا ؟

اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT

کیا ایران کے بعد امریکہ کا اگلا ٹارگٹ شمالی کوریا ہے؟ یہ سوال ایران پر امریکی حملے کے فورا بعد عالمی سطح پر شدت سے زیرِ بحث آ رہا ہے۔ ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی بمباری نے مشرق وسطی کی فضامیں خوف وہراس پیدا کر دیا،مگر مشرقی ایشیا کے پالیسی سازوں اور اسٹریٹجک ماہرین نےاس واقعے کو ایک اور زاویے سے دیکھا اور یہ سوال ابھرا کہ کیا امریکہ وہی طرزِ عمل اب شمالی کوریا کے خلاف بھی اختیار کرے گا؟ اگرچہ ایران اور شمالی کوریا کے حالات بظاہر مماثل دکھائی دیتے ہیں، لیکن جوہری صلاحیت، عسکری اتحادی، اور جغرافیائی حقائق انہیں یکسر مختلف بنا دیتے ہیں۔ امریکہ کا شمالی کوریا کے خلاف کسی بھی طرح کی مہم جوئی کرنا ایران سے کہیں زیادہ پیچیدہ، خطرناک اور مہنگا ثابت ہو سکتا ہے۔کیا ایران پر حملہ شمالی کوریا کو مزید ضدی اور خطرناک بنا دے گا؟یہ سلگتا سوال ماہرین کو پریشان کیے ہوئے ہے۔ شمالی کوریا جو پہلے ہی دنیا سے کٹا ہوا، خودمختار اور عسکری طور پر حساس ملک ہے، ایران پر امریکی حملے کو اپنی بقا کے بیانیے کا ثبوت سمجھ رہا ہے۔ پیونگ یانگ میں موجود حکام اب یہ سمجھنے لگے ہیں کہ اگر ایران جیسا ملک جو جوہری ہتھیاروں کے بغیر صرف افزودہ یورینیم رکھتا تھا، امریکی حملے سے نہ بچ سکا، تو شمالی کوریا کے پاس پسپائی کا کوئی راستہ نہیں۔ اس سوچ کے نتیجے میں شمالی کوریا کی ضد، اس کی عسکری تیاریوں اور جوہری پروگرام کی رفتار میں اضافہ متوقع ہے، کیونکہ اب وہ خود کو ہر حال میں محفوظ رکھنے کے لیے جارحانہ پالیسیوں کو ترجیح دے گا۔کیا امریکہ کا ایران پر حملہ پیونگ یانگ کے دیرینہ موقف کو درست ثابت کرتا ہے؟شمالی کوریا عرصہ دراز سے کہتا آ رہا ہے کہ امریکہ کا مقصد صرف کمزور حکومتوں کو نشانہ بنانا ہے اور صرف جوہری ہتھیار ہی اس کی جارحیت سے بچنے کی ضمانت ہیں۔
ایران پرحملے نے اس موقف کو بین الاقوامی سطح پر تقویت دی ہے۔ پیونگ یانگ کے بیانیے کو اب داخلی سطح پر عوام اور حکومتی مشینری کے درمیان مزید پذیرائی مل رہی ہے۔ امریکہ کی جانب سے عسکری کارروائی نے سفارتکاری کے دروازے مزید بند کر دیئے ہیں اور شمالی کوریا کودفاعی نہیں بلکہ جارحانہ حکمتِ عملی اختیارکرنے کی ترغیب دی ہے۔ شمالی کوریا روس سے دفاعی تعاون کیوں بڑھا رہا ہے؟ یوکرین جنگ کے بعد شمالی کوریا اور روس کے درمیان فوجی تعلقات میں غیرمعمولی وسعت آئی ہے۔ روس کو گولہ بارود، راکٹ، توپیں اور دیگر عسکری سازوسامان بہت بڑی مقدار میں فراہم کرنے کے بدلے میں پیونگ یانگ کو فضائی دفاع، الیکٹرانک وارفیئر ٹیکنالوجی اور میزائل نظام جیسی جدید دفاعی صلاحیتیں حاصل ہو رہی ہیں۔ اس تعاون کا ایک مقصد امریکہ کی ممکنہ جارحیت کے خلاف مضبوط تزویراتی بندوبست بھی ہے۔ روس کے ساتھ اس تعلق کو شمالی کوریا اپنی سلامتی کا اہم ستون تصور کر رہا ہے۔ایران اور شمالی کوریا کے جوہری پروگرام میں بنیادی فرق کیا ہے؟ ایران ابھی تک جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے مرحلے میں نہیں پہنچا جبکہ شمالی کوریا کے پاس پہلے سے تقریبا 40 سے 50 جوہری وارہیڈز موجود ہیں۔ مزید یہ کہ شمالی کوریا کے پاس انٹرکانٹینینٹل بیلسٹک میزائلز (ICBMs) بھی ہیں جو امریکہ کی سرزمین تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس فرق کا مطلب یہ ہے کہ جہاں ایران کو دبائو کے ذریعے روکاجا سکتا تھا، وہاں شمالی کوریا کے خلاف کوئی بھی جارحیت براہ راست جوہری ردعمل کو دعوت دےسکتی ہے۔کیا شمالی کوریا پر حملہ ایٹمی جنگ کی طرف پہلا قدم ہوگا؟ اگر امریکہ شمالی کوریا کے خلاف کسی بھی عسکری مہم جوئی کا آغاز کرتا ہے تو اس کے نتائج ایک محدود تنازعے سے کہیں آگے نکل سکتے ہیں۔ شمالی کوریا کے پاس موجود جوہری صلاحیت، اس کی جارحانہ حکمت عملی، اور روس کے ساتھ اس کا اتحادیہ سب مل کر ایک ممکنہ عالمی جوہری جنگ کی فضا پیدا کرتے ہیں۔ اس خطرے کو نظر انداز کرنا کسی بھی عالمی قیادت کے لیے ناقابل معافی غلطی ہوگی۔امریکہ کو شمالی کوریا پرحملے سے پہلے کن قانونی رکاوٹوں کا سامنا ہوگا؟ امریکہ اور جنوبی کوریا کے درمیان دفاعی معاہدے کی شقوں کے مطابق، کسی بھی فوجی کارروائی سے قبل سیئول سے مشاورت ضروری ہے۔ یہ صرف رسمی کارروائی نہیں بلکہ ایک پیچیدہ سیاسی اور قانونی مرحلہ ہے۔
جنوبی کوریا، جو خود شمالی کوریا کی زد میں ہے، کسی بھی حملے سے قبل تمام ممکنہ نتائج کا تخمینہ لگائے گا، اور ممکنہ طور پر اس کی مخالفت کرے گا۔ یہ معاہدہ امریکی صدر کو فوری طور پر فیصلہ کرنے سے روک سکتا ہے، خاص طور پرجب حملے کے نتائج ناقابلِ پیشگوئی ہوں۔روس اور شمالی کوریا کا دفاعی اتحاد امریکہ کے لیے کیا چیلنج کھڑا کرتا ہے؟ روس اور شمالی کوریا کے درمیان اگرچہ پرانا دفاعی معاہدہ موجود ہے، لیکن حالیہ برسوں میں اس میں نئی جان ڈالنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ روس، جو یوکرین جنگ میں پہلے ہی مغرب کےخلاف کھڑا ہے، ممکنہ طور پر شمالی کوریا کےدفاع میں کھل کر میدان میں آ سکتا ہے۔ یہ صورتِ حال امریکہ کے لیے دو محاذی جنگ کا پیش خیمہ بن سکتی ہےایک یورپ میں اور دوسری مشرقی ایشیاء میں جس کے لیے امریکہ نہ سیاسی طور پر تیار ہے، نہ عسکری طور پر۔یہ سوال بھی کیاجا رہا ہے کہ کیا امریکہ کی ایران پر کارروائی جوہری پھیلا کو کم کرے گی یا بڑھائے گی؟ ایران پرحملے سے امریکہ نے یہ پیغام دیا ہے کہ جو ملک جوہری طاقت نہیں رکھتا وہ حملے کا آسان ہدف ہے۔ اس پیغام نے نہ صرف شمالی کوریا بلکہ دیگر ممکنہ جوہری عزائم رکھنے والے ممالک کو بھی خبردار کر دیا ہے کہ طاقت کی واحد زبان جو مانی جاتی ہے وہ ہتھیاروں کی زبان ہے۔ اس حملے نے جوہری عدم پھیلائو کی عالمی کوششوں کو شدید دھچکا پہنچایا ہے، اور اس بیانیے کو فروغ دیا ہے کہ صرف جوہری ہتھیار ہی خودمختاری کی ضمانت ہیں۔کیا ٹرمپ ایران پر حملے کے ذریعے داخلی سیاست سے توجہ ہٹانا چاہتے تھے؟ ٹرمپ پر داخلی دبائو شدید ہے، خاص طور پر ان کے سیاسی اتحادی نیتن یاہو کے خلاف کرپشن کیس کے تناظر میں۔ اسرائیل اور امریکہ کی باہمی سیاسی ہم آہنگی کی روشنی میں یہ قیاس بے بنیاد نہیں کہ ایران پر حملہ داخلی سیاسی بحران سے توجہ ہٹانے اور اسرائیلی قیادت کو ریلیف دینے کی ایک کوشش تھی۔ اس طرح کی عسکری مہم جوئی اکثر داخلی سیاسی مفادات کے تابع ہوتی ہے، اور یہی شک امریکہ کے عالمی کردار کو مشکوک بنا دیتا ہے۔یہ تمام دلائل اور واقعات مل کر اس بات کی گہرائی سے تصدیق کرتے ہیں کہ شمالی کوریا ایران سے یکسر مختلف تزویراتی تناظر رکھتا ہے۔ اس پر ایران جیسے حملے کی کوشش نہ صرف خطے کو جوہری تصادم کی طرف لے جا سکتی ہے بلکہ امریکہ کے عالمی مقام، اتحادیوں پر اعتماد، اور داخلی استحکام کو بھی شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔ ایران پر گرنے والے امریکی بم دراصل پیونگ یانگ کے ایٹمی بنکروں میں گونجنے والی گھنٹیاں ہیں، جو دنیاکو کسی بڑے المیے سے پہلے خبردار کر رہی ہیں۔ اگر واشنگٹن نے ان گھنٹیوں کو سننے سے انکار کیا، تو شاید دنیا کو اس کی قیمت تاریخ کے مہنگے ترین فیصلوں میں سے ایک کے طور پر چکانا پڑے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: شمالی کوریا کے پاس اور شمالی کوریا کہ شمالی کوریا پیونگ یانگ امریکہ کا کے درمیان امریکہ کی امریکہ کے ایران پر کسی بھی پر حملہ حملے سے کے لیے رہا ہے

پڑھیں:

امریکا میں مصنوعی ذہانت کی نگرانی، ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے جس کے تحت مصنوعی ذہانت سے متعلق کمپنیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے ماڈلز کی مکمل عوامی ریلیز سے

پہلے وفاقی حکومت کو ان تک رسائی فراہم کریں تاکہ ان کی صلاحیتوں کا جائزہ لیا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں: صدرٹرمپ کا ووٹرشناختی کارڈ لازمی قرار دینے کا فیصلہ، ایگزیکٹیو آرڈر جلد متوقع

اس حکم نامے کے مطابق کمپنیوں کو رضاکارانہ بنیادوں پر ایک بینچ مارکنگ عمل میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے، جس کے ذریعے ماڈلز کی ’اعلیٰ سائبر صلاحیتوں‘ کا جائزہ لیا جائے گا

اور یہ طے کیا جائے گا کہ آیا انہیں ’کورڈ فرنٹیئر ماڈل‘ قرار دیا جانا چاہیے یا نہیں۔

The Trump administration will ask leading AI developers to voluntarily submit their most capable models for government cybersecurity tests before releasing them to the public, according to an executive order, as security fears mount in Washington over powerful new AI systems such…

— Reuters (@Reuters) June 3, 2026

اس کے علاوہ کمپنیوں سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اپنے ماڈلز کی وسیع پیمانے پر ریلیز سے 30 روز قبل حکومت کو ان تک رسائی دیں۔

حکم نامہ حکومت کو یہ اختیار بھی دیتا ہے کہ وہ ان ’قابلِ اعتماد شراکت داروں‘ کے انتخاب میں معاونت کرے جنہیں ابتدائی رسائی فراہم کی جائے گی۔

حکم نامے میں واضح کیا گیا ہے کہ اس شق کو اس طرح نہیں سمجھا جائے گا کہ حکومت مصنوعی ذہانت کے نئے ماڈلز، بشمول فرنٹیئر ماڈلز، کی تیاری، اشاعت، اجرا یا تقسیم کے لیے لازمی

لائسنسنگ، پیشگی منظوری یا اجازت نامے کا نظام نافذ کر رہی ہے۔

مزید پڑھیں:

صدر ٹرمپ نے یہ حکم نامہ نجی طور پر دستخط کیا، چند ہفتے قبل انہوں نے معروف ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہان کے ساتھ ایک دستخطی تقریب ملتوی کر دی تھی اور صحافیوں کو بتایا تھا کہ

انہیں مجوزہ حکم نامے کے بعض پہلو پسند نہیں آئے تھے۔

یہ حکم ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا میں مصنوعی ذہانت کی ترقی ایک اہم مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔

پیر کے روز اے آئی کمپنی اینتھروپک نے اعلان کیا کہ اس نے ابتدائی عوامی حصص فروخت کے لیے خفیہ طور پر امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن میں درخواست جمع کرا دی ہے۔

مزید پڑھیں:

اس کی حریف کمپنی اوپن اے آئی بھی رواں سال ممکنہ شیئرز کی پیشکش کی تیاری کر رہی ہے۔

دوسری جانب ایلون مسک کی خلائی کمپنی اسپیس ایکس، جو ان کی اے آئی لیبارٹری اسپیس ایکس اے آئی کی مالک بھی ہے، ممکنہ طور پر ان دونوں کمپنیوں سے پہلے اسٹاک مارکیٹ میں داخل ہو

سکتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق اس کی مارکیٹ ویلیو ایک کھرب ڈالر سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔

مصنوعی ذہانت کی بدولت غیرمعمولی ترقی حاصل کرنے والی ٹیکنالوجی صنعت نے وائٹ ہاؤس کی اے آئی پالیسیوں کی تشکیل میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔

سرمایہ کار ڈیوڈ سیکس، جو ایلون مسک کے قریبی اتحادی سمجھے جاتے ہیں، رواں سال کے آغاز تک وائٹ ہاؤس کے پہلے ’کرپٹو اور اے آئی زار‘ کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سیکس، مسک اور مارک زکربرگ نے گزشتہ ماہ ٹرمپ انتظامیہ سے رابطہ کرکے ایک سابقہ اے آئی حکم نامے کی مخالفت کی تھی جس پر صدر دستخط کرنے والے

تھے۔

یہ نیا حکم نامہ اس وقت بھی سامنے آیا ہے جب اینتھروپک نے رواں سال کلاؤڈ مائتھوس پری ویو نامی ایک ایسا ماڈل متعارف کرایا جسے سافٹ ویئر میں کمزوریوں اور سیکیورٹی نقائص کی

نشاندہی میں غیرمعمولی مہارت حاصل ہے۔

کمپنی نے ابتدا میں اس ماڈل کو ’پروجیکٹ گلاس ونگ‘ نامی سائبر سیکیورٹی اقدام کے تحت محدود تعداد میں اداروں کو فراہم کیا تھا، جسے منگل کے روز مزید وسعت دی گئی۔

مائتھوس کی رونمائی کے بعد اینتھروپک کے نمائندوں کی ٹرمپ انتظامیہ کے اعلیٰ حکام، جن میں وائٹ ہاؤس چیف آف اسٹاف سوزی وائلز اور وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ شامل ہیں، سے متعدد اہم

ملاقاتیں بھی ہوئیں۔

ٹرمپ کے حکم نامے میں مختلف سرکاری ہدایات اور رہنما اصول مرتب کرنے کے لیے کئی ٹائم فریمز دیے گئے ہیں۔ خصوصاً امریکی محکمہ دفاع کو اپنے معلوماتی نظاموں کے سائبر دفاع کو

ترجیح دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

تاہم محکمہ دفاع نے اینتھروپک کے جدید اے آئی ماڈلز سے فاصلہ اختیار کرنے کی کوشش کی ہے، مائتھوس کی ریلیز سے کچھ عرصہ قبل محکمہ نے کمپنی کو ’سپلائی چین رسک‘ قرار دیا تھا۔

اس درجہ بندی کے تحت اینتھروپک کو امریکی قومی سلامتی کے لیے ممکنہ خطرہ تصور کیا جاتا ہے اور دفاعی ٹھیکیداروں کو محکمہ دفاع کے ساتھ اپنے کام میں کمپنی کی ٹیکنالوجی استعمال کرنے سے روکا جاتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اوپن اے آئی ٹرمپ ٹیکنالوجی مصنوعی ذہانت وائٹ ہاؤس

متعلقہ مضامین

  • اب وقت آگیا، دونوں ممالک کسی نہ کسی شکل میں ایک معاہدے تک پہنچ جائیں، ٹرمپ کا ایران کو پیغام
  • ایران-امریکہ جنگ کے درمیان "ریزرو بینک آف انڈیا" نے 12 ارب روپیے کا سونا فروخت کیا، رپورٹ میں دعویٰ
  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • امریکا میں مصنوعی ذہانت کی نگرانی، ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام