ویسٹ انڈیز کے کپتان نے امپائرز کی کارکردگی پر سوال اٹھا دیے
اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ویسٹ انڈیز کرکٹ ٹیم کے کپتان روسٹن چیز نے آسٹریلیا کے خلاف میچ کے دوران امپائرز کے فیصلوں پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ جیسے کھلاڑیوں کو غلطیوں پر سزائیں دی جاتی ہیں، ویسے ہی امپائرز کو بھی جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔
روسٹن چیز کا کہنا تھا کہ میچ کے دوران کئی اہم فیصلے ویسٹ انڈیز کے حق میں نہیں گئے، جس سے نہ صرف ٹیم کی کارکردگی متاثر ہوئی بلکہ کھلاڑیوں کے حوصلے پر بھی منفی اثر پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ “ہم میدان میں جیتنے کے لیے اترتے ہیں، مگر جب محسوس ہو کہ سب کچھ آپ کے خلاف ہے تو مایوسی بڑھتی ہے۔”
ویسٹ انڈین کپتان نے امپائرز کے احتساب کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک غلط فیصلہ کسی کھلاڑی کے کیریئر کو بنا یا بگاڑ سکتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ امپائرز کے مشکوک یا غلط فیصلوں پر بھی سختی سے کارروائی ہو۔
یاد رہے کہ ویسٹ انڈیز کو آسٹریلیا کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں 159 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس کے بعد روسٹن چیز کے یہ بیانات سامنے آئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ویسٹ انڈیز
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔