data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

لاہور: پنجاب کے دارالحکومت میں سرکاری اسپتالوں میں زیرِ علاج مریضوں کے لیے اچانک ایک بڑی تبدیلی سامنے آئی ہے، جس کے تحت یونیورسل ہیلتھ انشورنس اسکیم کے تحت دی جانے والی ہیلتھ کارڈ کی سہولت بند کر دی گئی ہے۔

یہ اقدام محکمہ صحت پنجاب کی نئی پالیسی کے تحت کیا گیا ہے جس کا باقاعدہ اعلان چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) لاہور کی جانب سے تمام میڈیکل سپرنٹنڈنٹس کو بھیجے گئے ایک مراسلے میں کیا گیا۔

مراسلے کے مطابق تمام سرکاری اسپتالوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ 30 جون 2025 تک اپنے ہیلتھ انشورنس سے متعلق تمام بقایاجات کی تفصیلات فوری طور پر متعلقہ اداروں کو فراہم کر دیں، کیونکہ اس تاریخ کے بعد اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن کسی بھی واجب الادا رقم کی ادائیگی کی پابند نہیں ہوگی۔

مراسلے میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے تحت جاری کچھ خصوصی اقدامات اور اسکیمیں بدستور جاری رہیں گی، تاہم مجموعی طور پر ہیلتھ کارڈ کی سہولت اب سرکاری اسپتالوں میں دستیاب نہیں ہوگی۔

اس اہم فیصلے کے پس منظر اور وضاحت کے لیے پنجاب ہیلتھ انسٹیٹیوٹ منیجمنٹ کمپنی کے سی ای او ڈاکٹر علی رزاق نے نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پہلے ہی سرکاری اسپتالوں میں عوام کو مفت طبی سہولیات فراہم کر رہی ہے، اس لیے ہیلتھ کارڈ کے ذریعے دوبارہ ادائیگی کا جواز نہیں بنتا۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ سرکاری ڈاکٹرز ہیلتھ کارڈ کی آڑ میں آپریشنز کی مد میں رقم وصول کر رہے تھے، جو کہ پالیسی کی خلاف ورزی ہے۔

ڈاکٹر علی رزاق نے مزید وضاحت کی کہ سرکاری اسپتالوں میں جن طبی خدمات کو جاری رکھا جائے گا ان میں ڈائیلیسز، جگر کی پیوندکاری اور بچوں کے دل کے آپریشن جیسے اہم اور مہنگے علاج شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان حساس اور زندگی بچانے والے علاج کو بند نہیں کیا جا رہا، بلکہ صرف ہیلتھ انشورنس کے تحت چلنے والے مالیاتی معاملات پر نظرثانی کی جا رہی ہے۔

ایک اور قابلِ ذکر پہلو یہ ہے کہ اب ہیلتھ کارڈ صرف نجی اسپتالوں میں استعمال کیا جا سکے گا، لیکن اس میں بھی ایک نئی شرط شامل کی گئی ہے۔ مریضوں کو نجی اسپتال میں علاج کراتے وقت مجموعی اخراجات کا 50 فیصد خود ادا کرنا ہوگا، جب کہ بقیہ رقم حکومت کی جانب سے دی جائے گی۔ اس نئے ماڈل کو حکومت کی کوسٹ شیئرنگ پالیسی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد وسائل کا مؤثر استعمال ہے۔

شہریوں کی جانب سے اس اچانک تبدیلی پر مایوسی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ بہت سے غریب اور متوسط طبقے کے مریض جو سرکاری اسپتالوں میں ہیلتھ کارڈ کی بنیاد پر مفت علاج کروا رہے تھے، اب پریشان ہیں کہ ان کا بوجھ مزید بڑھ جائے گا۔

دوسری جانب حکومت کا مؤقف ہے کہ اس اقدام سے نظام کو شفاف اور مؤثر بنایا جائے گا، تاکہ مفت علاج صرف مستحق مریضوں تک محدود رہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سرکاری اسپتالوں میں ہیلتھ کارڈ کی کے تحت

پڑھیں:

کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر

محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔

تفصیلات کے مطابق  انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔

انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ،  پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔

اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے  www.seccap.dgcs..gos.pk  کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔

ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔

ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • کسان کارڈ سے کاشتکار سر اٹھا کر جیئے گا: مریم نواز
  • پنجاب میں پہلی بار 8 لاکھ 32ہزار سےزائدکاشتکاروں کو کسان کارڈ جاری
  • امتحان میں کامیابی کے باوجود عبدالمجید نوکری سے محروم، عمر کی حد رکاوٹ بن گئی
  • اداکارہ میرب علی کو اچانک سرجری کیوں کروانا پڑی؟ اصل وجہ سامنے آگئی
  • پنجاب میں 8لاکھ 32ہزار سے زائد کاشتکاروں کو کسان کارڈ جاری
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • کراچی، محسن نقوی کا صفورا میں واقع نادرا میگا سینٹر کا اچانک دورہ
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور