لاہور کے سرکاری اسپتالوں میں ہیلتھ کارڈ کی سہولت ختم کر دی گئی ہے تاہم یہ سہولت پرائیوٹ اسپتالوں میں جاری رہے گی۔

چیف ایگزیکٹیو افسر لاہور نے تمام میڈیکل سپرنٹنڈنٹس کو مراسلہ ارسال کرتے ہوئے لکھا ہے کہ سرکاری اسپتالوں میں یونیورسل ہیلتھ انشورنس بند کی جا رہی ہے البتہ وزیر اعلیٰ پنجاب کا اسپیشل انیشیٹیو موجودہ پالیسی کے مطابق جاری رہے گا۔

مراسلہ میں کہا گیا ہے کہ بقایاجات رکھنے والے سرکاری اسپتال 30 جون تک تفصیلات جمع کروا دیں، اس کے بعد اسٹیٹ لائف انشورنس بقایاجات ادا نہیں کرے گا۔

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا اقدام، صحت کارڈ اسکیم میں مفت او پی ڈی سروسز بھی شامل

میڈیا رپورٹس کے مطابق پنجاب ہیلتھ انسٹیٹیوٹ منیجمنٹ کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو افسر ڈاکٹر علی رزاق نے موقف اپنایا ہے کہ حکومت سرکاری اسپتالوں میں پہلے ہی مفت طبی سہولیات فراہم کر رہی ہے، سرکاری اسپتالوں کے ڈاکٹر ہیلتھ کارڈز کے ذریعے آپریشن کے پیسے نہیں لے سکتے۔

ان کا کہنا ہے کہ ہیلتھ کارڈ اب صرف پرائیویٹ اسپتالوں میں استعمال کیا جا سکے گا جہاں مریضوں کو علاج کے لیے 50 فیصد رقم خود ادا کرنی ہوگی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسپتال پنجاب صحت کارڈ علاج مفت علاج.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسپتال صحت کارڈ علاج مفت علاج سرکاری اسپتالوں میں ہیلتھ کارڈ

پڑھیں:

کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر

محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔

تفصیلات کے مطابق  انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔

انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ،  پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔

اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے  www.seccap.dgcs..gos.pk  کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔

ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔

ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست کا اجرا
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی گئی
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • 5 جون تک پنجاب کے متعدد اضلاع میں آندھی، شدید ژالہ باری کا امکان، الرٹ جاری
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی