سپریم کورٹ کا فیصلہ آئین اور قانون کی بالادستی ہے‘بیرسٹر عقیل ملک
اشاعت کی تاریخ: 29th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد(صباح نیوز) وزیرمملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ہے کہ مخصوص نشستوں پر نظرثانی کیس پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آئین اور قانون کی بالادستی ہے اور نو ججوں کا فیصلہ ہے، فیصلے کسی کی مرضی اورمنشا کے مطابق نہیں ہوتے، اپوزیشن فیصلہ کو متنازع بنانے کی بجائے اس کا خیرمقدم کرے۔ ہفتہ کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ مخصوص نشستوں پر نظرثانی کیس میں نو ججز نے متفقہ فیصلہ دیا ہے جسے چھ اور سات ججوں کا فیصلہ نہیں کہنا چاہیے، سات ججز نے اکثریت میں فیصلہ لیا جبکہ دو ججز نے 12 جولائی کے اپنے فیصلہ کو تبدیل کیا ہے اس لئے اسے نو ججوں کا فیصلہ تصور کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل اور پی ٹی آئی نے آزاد الیکشن میں حصہ لیا، ان کی لیگل ٹیم کے پاس جب کوئی دلیل نہیں بچی تو انہوں نے میں نہ کھیلوں کی پالیسی اختیار کی اور اب وکٹ اٹھا کر بھاگنے کی کوشش کر رہے ہیں اور بچوں کی طرح طرز عمل اختیار کر رہے ہیں۔بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ پشاور ہائی کورٹ میں بھی یہ اپنی منشا کے مطابق کیس لے کر گئے تھے جہاں پر پانچ ججوں نے متفقہ فیصلہ دیا اس پر بھی روشنی ڈالنا ضروری ہے۔بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ یہ کوئی صوبائی نہیں بلکہ ایک قومی ایشو تھا اس میں قومی اسمبلی، پنجاب، کے پی، سندھ اور بلوچستان کی صوبائی اسمبلیوں کی مخصوص نشستوں سے متعلق معاملہ تھا۔اکثر قومی معاملات کو ترجیحا اسلام آباد ہائی کورٹ لے جایا جاتا ہے لیکن انہوں نے اپنی خواہش پر یہ کیس پشاور ہائیکورٹ دائر کیا جس پر تیس صفحات پر مشتمل فیصلہ آیا۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 51اور 106مخصوص نشستوں کو ریگولیٹ کرتے ہیں جوبالکل واضح ہیں، مخصوص نشستوں کو خالی نہیں چھوڑا جاسکتا لیکن بیرسٹر گوہر شاید سمجھتے ہیں کہ یہ نشستیں خالی چھوڑنی چاہئے تھیں لیکن ایسا کیسے ممکن ہے۔ جب یہ قانون بنا تو اس میں اخذ کیا گیا تھاکہ مخصوص نشستیں خالی نہیں چھوڑی جائیں گی لیکن بیرسٹر گوہر اپنی بے ضابطگیوں ،قانونی سقم اور خامیوں کو عدالت پر ڈالنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل نے اپنے انتخابی نشان پر الیکشن لڑنے کی بجائے آزاد الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا جو بروقت پروسیجر مکمل نہ کرنے کی وجہ سے انہیں کرنا پڑا۔ پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کہتا ہے کہ جب کوئی پارٹی کا سربراہ مقررہ وقت کے اندر اپنا پروسیجر مکمل نہیں کرتا تو یہ ان کی اپنی غلطی ہے، اسے پرانی تاریخوں میں جمع تصور نہیں کیا جاسکتا۔ پشاور ہائیکورٹ کے پانچوں ججز اس فیصلہ پر متفق تھے جنہوں نے آئین کی مکمل تشریح میں فیصلہ سنایا اور یہ کہاکہ یہ پروسیجرل غلطی ہے جس کی تلافی مقررہ مدت کے بعد نہیں کی جاسکتی۔ بیرسٹر عقیل نے کہا کہ اب سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا کر آئین کا بول بالا کیا اور آئین کی بالادستی کو یقینی بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلہ کی روشنی میں آئین کو ری رائٹ کرنے کا اختیار کسی کوحاصل نہیں اور نہ ہی کوئی جرأت کرسکتا ہے، آئین میں ترمیم کا اختیار صرف پارلیمان کوحاصل ہے۔ وزیرمملکت نے کہا کہ اپنے سارے دلائل دینے کے بعد بیرسٹر گوہر اب کہہ رہے ہیں کہ اس بینچ کو یہ کیس سننے کا اختیار نہیں تھا اور فیصلہ کو تسلیم کرنے کی بجائے متنازعہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن آئین اور قانون میں اس کی کوئی گنجائش نہیں، آئین اور قانون مقدم ہے اور اس کی اصل روح کے مطابق اس فیصلہ پر عمل ہوگا، میں نہ مانوں اور میں نہ کھیلوں سے کام نہیں چلے گا۔ انہوں نے کہاکہ اپوزیشن سے کہتا ہوں کہ خوش آئند فیصلے کو تسلیم بھی کریں اور اس کا خیرمقدم بھی کریں۔ ایک سوال کے جواب میں بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ آئین اور قانون کے مطابق پارلیمانی پارٹیوں کو مخصوص نشستوں کاحصہ دیا جائے اور یہ عمل مکمل ہوجائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ آئین اور قانون مخصوص نشستوں کا فیصلہ کے مطابق رہے ہیں
پڑھیں:
وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) بجٹ سے چند روز قبل ہی آئینی عدالت سے حکومت کو ریونیو کی مد میں بڑا جھٹکا، وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی۔
نجی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وفاقی آئینی عدالت نے غیر رجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا۔ جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کیا۔
وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31 اے میں ابہام ہے، حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا، اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا۔
لاہور ائیرپورٹ اغواء کیس کا ڈراپ سین، غیرملکی خاتون دوست کے ساتھ رضامندی سے گئی
فیصلے میں کہا گیا کہ قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں، قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے۔
وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں مزید لکھا کہ رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی۔
وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔ لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا۔ پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔
ڈیل مکمل جھوٹ ہے ، پی ٹی آئی کوئی ڈیل نہیں کررہی، عمران خان کو خاموش کروانے کے لیے قید تنہائی میں رکھاگیا ہے،علیمہ خان
مزید :