پنجاب اسمبلی:مریم نواز کی تقریر کے دوران ہنگامہ‘ اپوزیشن کے 26 ارکان معطل
اشاعت کی تاریخ: 29th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور (نمائندہ جسارت) پنجاب اسمبلی میں وزیر اعلیٰ مریم نواز کی تقریر کے دوران نعرے بازی اور احتجاج کرنے والے اپوزیشن ارکان کو اسپیکر ملک محمد احمد خان نے سخت کارروائی کا نشانہ بناتے ہوئے معطل کر دیا۔ اسپیکر نے اسمبلی رول 210 (تین) کے تحت26 اپوزیشن ارکان کو15اجلاسوں کے لیے معطل کرنے کا حکم جاری کیا جس کے مطابق یہ ارکان اب آئندہ 15 سیشنز میں شرکت نہیں کر سکیں گے۔ معطل کیے گئے ارکان میں ملک فہد مسعود، تنویر اسلم، اعجاز شفیع، رفعت محمود، یاسر محمود، کلیم اللہ خان، محمد انصر اقبال، علی آصف، ذوالفقار علی، محمد مجتبیٰ چودھری، شاہد جاوید، محمد اسماعیل، خیال احمد کاسترو، شہباز احمد، طیب راشد، امتیاز محمود، علی امتیاز، راشد طفیل، رائے محمد مرتضیٰ، خالد زبیر، صائمہ کنول، محمد نعیم، سجاد احمد، رانا اورنگزیب، شعیب امیر اور اسامہ علی گجر شامل ہیں۔ اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے اپوزیشن جماعت تحریک انصاف کے26 ارکان اسمبلی کے خلاف باضابطہ ریفرنس بھیجنے کا اعلان کر دیا۔ انہوںنے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کی جانب سے بتایا گیا کہ ان کے بعض ارکان پارلیمانی لیڈر کی ہدایات کو نہیں مان رہے جو آئینی اور پارلیمانی روایت کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے16 جون کے اجلاس کے دوران ایوان میں بد نظمی، توڑ پھوڑ اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے پر سخت ایکشن لیتے ہوئے10 ارکانِ اسمبلی پر مجموعی طور پر20 لاکھ روپے سے زاید کا جرمانہ عاید کر دیا۔ اسپیکر کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق مذکورہ ارکان نے اسمبلی اجلاس کے دوران ڈیسکوں پر چڑھ کر مائیک توڑے اور اسمبلی کی دیگر املاک کو نقصان پہنچایا۔ وڈیو شواہد کی روشنی میں ہر رکن پر2 لاکھ3550 روپے جرمانہ عاید کیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ ادائیگی7 روز کے اندر نہ کرنے کی صورت میں پنجاب گورنمنٹ ڈیو ریکوری آرڈیننس کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ کارروائی اسمبلی قواعد کے تحت کی گئی ہے، جن کے تحت نظم و ضبط کی خلاف ورزی کو ناقابلِ قبول اور ایوان کی املاک کو نقصان پہنچانا قابلِ گرفت عمل قرار دیا گیا ہے۔ اسپیکر ملک محمد احمد خان نے کہا ہے کہ ایوان کے تقدس اور قانون کی بالادستی پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا‘ اسمبلی کے اندر یا باہر قانون شکنی کرنے والوں کے خلاف ہر ممکن اقدام اٹھایا جائے گا جن ارکان کو جرمانے کیے گئے ہیں ان میں چودھری جاوید کوثر، اسد عباس، محمد تنویر اسلم، سید رفعت محمود، محمد اسماعیل، شہباز احمد، امتیاز محمود، خالد زبیر نثار، رانا اورنگ زیب اور محمد احسن علی شامل ہیں۔ اسپیکر نے تمام اراکین کو تنبیہ کی ہے کہ آئندہ کسی قسم کی ہنگامہ آرائی یا املاک کو نقصان پہنچانے کی کوشش برداشت نہیں کی جائے گی اور ایوان میں نظم و ضبط کو یقینی بنانے کے لیے سخت اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔ اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی احمد خان بھچر نے ہفتے کے روز پنجاب اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے موجودہ حکومت، اسپیکر اسمبلی اور وزیر اعلیٰ پنجاب کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کی تاریخ میں اس نوعیت کے واقعات پہلے نہیں دیکھے گئے، حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہے اور ہمیں ڈرایا جا رہا ہے۔ احمد خان بھچر نے اسپیکر پنجاب اسمبلی کی جانب سے 26 ارکان کی معطلی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اسپیکر نے گزشتہ روز پریس کانفرنس کی اور ہمارے26 لوگوں کو معطل کر دیا، جبکہ وہ خود کچھ مجبوریوں کے تحت فیصلے کر رہے ہیں‘ ہم فارم47 کی بنیاد پر قائم اس حکومت کو نہیں مانتے، جمعے کے احتجاج میں کوئی غیر معمولی بات نہیں ہوئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان ڈکٹیٹر نما حکمرانوں کی شان میں ہم گستاخی کرتے رہیں گے کیونکہ یہ لوگ فسطائیت کی انتہا کو پہنچ چکے ہیں‘ پہلے اسپیکر کو یہ وضاحت دینی چاہیے کہ آیا انہوں نے اپوزیشن کے پارلیمانی لیڈر کو نوٹیفائی کیا یا نہیں۔ اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ احتجاج ہمارا آئینی حق ہے، اگر چودھری پرویز الہی کے دور میں کرسیاں چلائی گئیں تو آج ہم صرف آواز بلند کر رہے ہیں‘ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ ہم وزیر اعلیٰ کے سامنے جھک جائیں گے تو یہ آپ کی غلط فہمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر26 لوگوں کو معطل کر سکتے ہیں تو سب کو بھی کر دیں، ہم پھر بھی احتجاج کرتے رہیں گے‘ ہمیں کسی رعایت کا شوق نہیں، اور اگر ہمارے لیڈر کے خلاف نعرے لگائے گئے تو ہم بھی جواب دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ ہم خاموش بیٹھ جائیں، لیکن ایسا نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت فسطائیت کی انتہا پر ہے اور ان فرعونوں کے لیے اڈیالہ جیل میں قیدی نمبر 804موجود ہے۔احمد خان بھچر نے کہا کہ 20 لاکھ روپے جرمانے کے خلاف ہم قانونی جنگ لڑیں گے اور کیس کریں گے، اگر حکومت چاہے تو ہمیں ایک سال کے لیے معطل کر دے، مگر احتجاج اپوزیشن کا حق ہے، جو ہمیشہ سے حکومت کے خلاف ہوتا ہے۔ اپنے خطاب میں انہوں نے اسپیکر ملک محمد احمد خان کو دبائو میں آیا ہوا شخص قرار دیا اور کہا کہ ہمیں کل کے بجائے آج ہی ایوان سے نکال دیں لیکن وزیر اعلیٰ10 کھرب روپے کے خرچ کا جواب دیں‘ یہ ایک جانبدار فیصلہ ہے، اگر ان کے ممبران نے بھی نازیبا زبان استعمال کی ہے تو ان کے خلاف بھی سخت کارروائی ہونی چاہیے۔ انہوں نے کے پی کے میں پیش آنے والے واقعے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے اس کی مکمل انکوائری اور ذمہ داران کو سزا دینے کا مطالبہ کیا۔ احمد خان بھچر نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو ہم ایوان کے اندر بھی احتجاج کریں گے اور باہر بھی، جبکہ اڈیالہ جیل کو پنجاب کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو ان کی بہنوں سے بھی نہیں ملنے دیا جا رہا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ملک محمد احمد خان احمد خان بھچر نے املاک کو نقصان پنجاب اسمبلی وزیر اعلی نے کہا کہ کے دوران انہوں نے کے خلاف کے تحت کے لیے کر دیا
پڑھیں:
نواز شریف کل میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے
آزاد جموں و کشمیر کے عام انتخابات 2026ء کے سلسلے میں پاکستان مسلم لیگ نون کے صدر 24 جولائی کو قائداعظم سٹیڈیم میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ آزاد جموں و کشمیر کے عام انتخابات 2026ء کے پہلے مرحلے میں میرپور ڈویژن میں پولنگ 27 جولائی کو ہوگی۔ اس سلسلے میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعظم میاں نواز شریف 24 جولائی کو قائداعظم سٹیڈیم میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے۔جلسے میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور پارٹی کے دیگر رہنما بھی شرکت کریں گے۔ قائداعظم سٹیڈیم میں جلسے کی تیاریاں جاری ہیں جبکہ سٹیج کی تعمیر کے لیے کنٹینرز بھی پہنچا دیئے گئے ہیں۔