data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

لاہور( نمائندہ جسارت)نائب امیر جماعت اسلامی، سیکرٹری جنرل مِلی یکجہتی کونسل لیاقت بلوچ نے امریکا، اسرائیل کے مقابلہ میں جنگ کی فتح ’’یومِ فتح‘‘ پر خطابِ جمعہ اور بعد ازاں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اور اسرائیل غزہ اور ایران سے مزاحمت پر سٹپٹا گئے ہیں، انڈیا کو افواجِ پاکستان اور پوری قوم کے اتحاد نے بڑی شکست سے دوچار کیا اور ایران کی عظیم فتح نے عالمِ اسلام کے لیے مستقبل کے روشن امکانات پیدا کردیے ہیں۔ مِلی یکجہتی کے صوبائی صدور مولانا ہدایت الرحمن، اسداللہ بھٹو، پیر نورالحسنین گیلانی، محمد ایوب مُغل، احمد نورانی صدیقی، اسد عباس نقوی، زاہد اخوندزادہ، سید اُسامہ بخاری، عبدالعزیز ثانی نے مشترکہ بیان میں کہا کہ محرم الحرام میں مِلی یکجہتی کونسل ملک بھر میں امن، وحدت، یکجہتی، باہمی احترام، مقدسات کے احترام کے لیے آزمائش اور رُکاوٹیں پیدا کرتا ہے۔ فلسطین، کشمیر پر وقت کے فرعون اور یزید حملہ آور ہیں۔ یہود و ہنود کو امریکا، یورپ اور اسلام دشمن قوتوں کی مکمل تائید اور سرپرستی حاصل ہے۔ عالمِ اسلام کے لیے اتحاد اور عسکری محاذ پر جہاد اور مشترکہ حکمتِ عملی کے سِوا کوئی چارہ نہیں۔لیاقت بلوچ نے منصورہ میں جنوبی پنجاب اور سندھ سے وفود اور لاہور میں صحافیوں، پوڈکاسٹ انٹرویوز اور نجی ٹی وی چینل پروگرام میں کہا کہ دریائے سوات میں سیاحوں کے ڈوب کر جاں بحق ہونے کا واقعہ پوری قوم کے لیے صدمہ اور المیہ ہے۔ سیاحتی مقامات پر حادثات وفاقی اور صوبائی حکومتوں، ضلعی انتظامیہ کی جانب سے حفاظتی اور انتظامی اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے ٹورازم کے لیے بڑی مشکلات کا باعث بن رہی ہیں۔ حکومتیں تعلیم، صحت، روزگار، بلدیات، امنِ عامہ اور ٹورازم کے محاذوں پر مکمل ناکام ہیں، عوام لاوارث اور بییار و مددگار ہیں۔ لیاقت بلوچ نے سپریم کورٹ کے مخصوص نشستوں سے متعلق فیصلے پر کہا کہ عدلیہ اور پارلیمنٹ پر اس فیصلے کے دُوررَس سنسنی اثرات مرتب ہونگے۔ سیاسی بحرانوں، سیاسی ڈیڈلاک میں اسٹیبلشمنٹ قدم بہ قدم اپنے اہداف کی طرف بڑھ رہی اور گرفت مضبوط کررہی ہے۔ سیاست بند گلی میں ہے؛ جمہوریت، پارلیمنٹ اور آئین و عدلیہ کے لیے خطرات تیز تر ہیں۔ لیاقت بلوچ اور مِلی یکجہتی کونسل کے صوبائی صدور نے کہا کہ وفاق اور صوبوں میں آئی ایم ایف، اعدادو شمار کے جھوٹ، سُود، کرپشن کے سرپرست بجٹ عوام پر مسلّط کردیے گئے ہیں۔ زراعت، صنعت، تجارت، تعمیراتی صنعت پر بییقینی مسلّط رہے گی، بیروزگاری بڑھے گی اور عوام کے لیے احتجاج کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا۔ 78 سال سے معیشت کو خودانحصاری، خودداری، اپنے وسائل پر اعتماد، قومی اعتماد کی بحالی کی بجائے ہر دور کی حکومتوں میں اغیار کے آلہ کار معاشی ماہرین نے قومی معیشت کو تباہ کردیا؛ ملک قرضوں، کشکول، کرپشن اور سُود کی لعنت کے بوجھ تلے سِسک رہا ہے۔ اسلامی معاشی انقلابی نظام، وفاقی شرعی عدالت کے فیصلہ پر عملدرآمد ہی معاشی بحرانوں کا حل ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: م لی یکجہتی لیاقت بلوچ کے لیے

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم