ٹنڈو جام ،زرعی یونیورسٹی ملازمین کا احتجاج جاری
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ٹنڈوجام(نمائندہ جسارت) سندھ زرعی یونیورسٹی کے ملازمین کا احتجاج 28 روز بھی جاری مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا سندھ ایمپلائز الائنس کا صوبائی اور وفاقی بجٹ کے خلاف احتجاج بجٹ مسترد سرکاری ملازمین کا گلہ کاٹ کر اپنی تجوریاں بھری جارہیں آئی ایم ایف کو ایم این ایم پی اے کے اخراجات نظر نہیں آتے۔ تفصیلات کے مطا بق سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈوجام کے چھوٹے ملازمین کا احتجاج 28ویں روز میں داخل ہو گیا ملازمین نے اپنا احتجاجی کیمپ وائس چانسلر سیکرٹریٹ کے سامنے لگایا ہوا ہے، مظاہرین سے جمیل مری، انور گوپانگ، وفا کاشف بھٹو نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی انتظامیہ ان کے جائز مطالبات کو مسلسل نظر انداز کر رہی ہے اور انتظامیہ اندھی، بہری اور گونگی بن چکی ہے اور ملازمین کے قانونی اور جائز مسائل کو حل کرنے کے بجائے ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ لیو انکیشمنٹ کے واجبات ادا نہیں کیے جا رہے۔ فوت شدہ اور ریٹائرڈ ملازمین کے کوٹہ کے تحت تقرریوں کے آرڈرز جاری نہیں کیے جا رہے پنشن کی ادائیگی میں تاخیر کی جا رہی ہے عمرکوٹ کیمپس اور خیرپور کالج سے جڑے مسائل تاحال حل طلب ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک طرف یونیورسٹی میں نئی بھرتیوں اور وزیٹنگ ٹیچرز کے لیے بجٹ موجود ہے جبکہ چھوٹے ملازمین کو ان کے بنیادی اور جائز حق دینے کے لیے بجٹ موجود نہیں ہے، جو کہ سراسر ناانصافی اور دہرا معیار ہے رہنماؤں نے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، متعلقہ حکام اور دیگر بااختیار شخصیات سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری نوٹس لے کر چھوٹے ملازمین کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرائیں تاکہ مزید تاکہ ملازمین میں سے بے چینی ختم ہو دوسری جانب سندھ ایمپلائز لائنس کے رہنما اسلم خاص خیلی فرحان خان مظہر عباسی نے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی بجٹ اور صوبائی بجٹ دونوں سرکاری ملازمین دشمن بجٹ ہیں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے نام پر انھیں چونا لگایا گیا ہے اور ان کی جائزہ مراعاتوں اور پنشن کو ہڑپ کرنے کی سازش کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا آئی ایم ایف کو وزراء اور ایم این اے اور ایم پی اے کی188فیصد تنخواہوں اور مراعاتوں میں اضافہ نظر نہیں آتا ان کی نظریں صرف پاکستان کی غریب عوام اورسرکاری ملازمین پر ہے ۔انہوں یہ عوام اور سرکاری ملازمین دشمن بجٹ کو کسی صورت میں قبول نہیں کیا جائے گا اور پورے ملک کے سرکاری ملازمین متحدہ ہو چکے اگر حکمرانوں نے اپنی من منایاں نہیں چھوڑیں اور غریب عوام اور سرکاری ملازمین کی حلال کی کمائی پر ڈاکا ڈالنے کی کوشش کی تو ان کے خلاف بھرپور تحریک چلائی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سرکاری ملازمین انہوں نے کہا ملازمین کا کہا کہ
پڑھیں:
حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
صوبائی وزیر مذہبی امور و اوقاف سید ریاض شاہ شیرازی نے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ دینی اداروں، مساجد، مدارس اور مزارات کے مسائل کے حل کو اہمیت دیتی ہے اور اس حوالے سے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے وفد کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کو قابلِ قدر قرار دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ترجیحی بنیادوں پر مسائل کے حل کیلئے کام کیا جائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ جماعت اہلِ سنت پاکستان کراچی کے وفد نے حضرت علامہ سید شاہ عبد الحق قادری کی قیادت میں سندھ کے صوبائی وزیر مذہبی امور و اوقاف سید ریاض شاہ شیرازی سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ ملاقات میں دینی امور، مساجد، مدارس، محکمہ اوقاف کے زیر انتظام مزاراتِ اولیائے کرام کی دیکھ بھال زائرین کو سہولیات کی فراہمی سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفد میں سید رفیق شاہ، مفتی بلال قادری، مولانا جمیل احمد امینی، عبداللہ میمن اور شفیع رانا قادری بھی شامل تھے۔ وفد نے صوبائی وزیر کو کراچی سمیت سندھ بھر میں مساجد، مدارس اور مزارات کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا اور مختلف تجاویز پیش کیں۔
شاہ عبد الحق قادری نے اس موقع پر کہا کہ حکومتی ادارے مساجد، مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان کریں۔ انہوں نے محکمہ اوقاف کی کارکردگی کو مزید مؤثر بنانے، انتظامی مسائل کے حل اور مسلسل رابطہ رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ صوبائی وزیر مذہبی امور و اوقاف سید ریاض شاہ شیرازی نے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ دینی اداروں، مساجد، مدارس اور مزارات کے مسائل کے حل کو اہمیت دیتی ہے اور اس حوالے سے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے وفد کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کو قابلِ قدر قرار دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ترجیحی بنیادوں پر مسائل کے حل کیلئے کام کیا جائے گا۔