Express News:
2026-07-24@09:26:19 GMT

کوچۂ سخن

اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT

غزل
جاتے ہوئے جوازِ بقا لے گیا تو پھر
سیلِ بلا، فصیلِ انا لے گیا تو پھر
اس خوف سے بھی جاگتا رہتا ہوں رات بھر
آنکھوں سے کوئی خواب چرا لے گیا تو پھر
مذہب نے آ کے چھین لیے مجھ سے میرے بت
الحاد جاتے جاتے خدا لے گیا تو پھر 
تم دیکھ تو رہے ہو تماشا جنون کا
صحرا اٹھا کے آبلہ پا لے گیا تو پھر
بنتا ہے کیا سخی ترے کون و مکان سے
کاسے میں ڈال کر یہ گدا لے گیا تو پھر
خوش اعتقاد شخص ہے، لڑنے سے پیشتر
دشمن بھی آ کے مجھ سے دعا لے گیا تو پھر
اِس خوف سے کہ راس نہ آئے اگر زمیں
میں آسمان ساتھ اٹھا لے گیا تو پھر
(اسد رحمان۔ پپلاں، پنجاب)

۔۔۔
غزل
سب کو دکھائی دیتی ہے میں ایسی گھات ہوں
دیوار پر تحریر اک پوشیدہ بات ہوں
میں ہونے اور نہ ہونے کے ہوں بیچ میں ابھی
میں بود اور نابودکے بھی ساتھ ساتھ ہوں
ہر شے میں جلوہ دیکھتا ہوں ایک ذات کا
کثرت کے درمیان بھی وحدت کے ساتھ ہوں
کوئی آ کے میری ساری اناؤں کو توڑ دے
میں آج کے اس دورکا اک سومنات ہوں
اک زندگی کے بعد ہے اِک اور زندگی
پھر افترا بھی ساتھ ہے کہ بے ثبات ہوں
الفت نے تیری وقت سے بیگانہ کر دیا
دن کو گمان ہوتا ہے جیسے کہ رات ہوں
ساجد ؔ میں اپنے  یار سے ایسا ہوں منسلک
پرتَو ہوں اُس کی ذات کا یا عینِ ذات ہوں
(شیخ محمد ساجد۔ لاہور)

۔۔۔
غزل
ایسے اس ہاتھ سے گرے ہم لوگ
ٹوٹتے  ٹوٹتے  بچے ہم لوگ
اپنا قصہ سنا رہا ہے کوئی
اور دیوار کے بنے ہم لوگ
وصل کے بھید کھولتی مٹی
چادریں جھاڑتے ہوئے ہم لوگ
اس کبوتر نے اپنی مرضی کی
سیٹیاں مارتے رہے ہم لوگ
پوچھنے پر کوئی نہیں بولا
کیسے دروازہ کھولتے ہم لوگ
حافظے کے لیے دوا کھائی
اور بھی بھولنے لگے ہم لوگ
عین ممکن تھا لوٹ آتا وہ
اس کے پیچھے نہیں گئے ہم لوگ
(ضیاء مذکور۔ صادق آباد)

۔۔۔
غزل
مجھ میں جتنے بھی ترے شہر ہیں، برباد کروں
سوچتا ہوں کہ نئی بستیاں آباد کروں
چپ ہی بیٹھا رہے، مجھ پر کوئی پھبتی نہ کسے
میرے بس میں ہو تو وہ آئنہ ایجاد کروں
قفسِ دل میں جگہ ایک ہی طائر کی ہے
میں کسے قید کروں اور کسے آزاد کروں
خود سے چھپ کر تجھے سونپ آیاکلیدِ زنداں
اور کس طرح بھلا میں تری امداد کروں
نخلِ غم کے لیے ناکافی رہا ہجر ترا
کیوں نہ اس کے لیے تیّار نئی کھاد کروں
وقت کی گاچنی ملتی ہی نہیں ہے مجھ کو
کون سی تختی پہ لکھ کر مَیں تجھے یاد کروں
 (سعید شارق۔اسلام آباد)

۔۔۔
غزل
اک لڑکی کے رُخ پر کیا بیزاری ہے
پھولوں کو بھی کھلنے میں دشواری ہے
عشق میں جب بھی کوئی شخص اجڑتا ہے
لگتا ہے اب اگلی میری باری ہے
اس سے پوچھو خوابوں کا اب کیا ہو گا
دن میں جس نے مجھ پر نیند اتاری ہے
مرشد بس میں خود سے نفرت کرتا ہوں
مرشد مجھ کو سوچنے کی بیماری ہے
ڈوب رہے ہیں لوگ سمندر میں عمارؔ
اِس نے اُن آنکھوں کی نقل اتاری ہے
(عمار یاسر مگسی۔لاہور)

۔۔۔
غزل
یہ جو میرے اندر پھیلی خاموشی ہے
تم کیا جانو کتنی گہری خاموشی ہے
اس کی اپنی ہی اک چھوٹی سی دنیا ہے 
اک گڑیا ہے، ایک سہیلی خاموشی ہے
تیرا سایہ تیرے ساتھ سفر کرتا ہے
 میرے ساتھ مسلسل چلتی خاموشی ہے
فرقت کا دکھ بس وہ سمجھے جس پر بیتے 
میں ہوں، سُونا گھر ہے،گہری خاموشی ہے
شب کے پچھلے لمحوں میں، اکثر دیکھا ہے
تنہائی سے مل کر روتی خاموشی ہے
یہ موسم، یہ منظر،روٹھے روٹھے سے ہیں 
جیسے سرد  رویے، ویسی خاموشی ہے
لگتا ہے کہ تم نے بھی کچھ دیکھ لیا ہے
ہر لمحے جو تم پر طاری خاموشی ہے
 مجھ کو انصرؔ روز پریشاں کر دیتی  ہے
تیرے ہونٹوں پر جو رہتی خاموشی ہے
(راشد انصر ۔پاکپتن شریف)

۔۔۔
غزل
ترے جوارِ توجہ میں جو کھڑا ہوگا
بڑے بڑوں سے بھی قد میں بہت بڑا ہوگا
اب آ رہا ہوں میں شمشیر جاں سنبھالے ہوئے
ذرا سنبھلنا کہ اب معرکہ کڑا ہوگا
میں سر جھکا نہیں سکتا کسی بھی حالت میں
مجھے یقیں ہے اسی ضد پہ وہ اڑا ہوگا
جو بات اپنے تعلق کی چھڑ گئی ہوگی
میان وہم و یقیں سخت رن پڑا ہوگا
جہاں پہ ہمتیں دینے لگیں گی سب کی جواب
وہاں پہ دیکھنا جھنڈا مرا گڑا ہوگا
نہیں ہے دل مرے سینے میں تو یقینی ہے
نگینے جیسا ترے تاج میں جڑا ہوگا
کسی کا سر جسے کہتے ہیں دیکھنے والے
ندی کے سینے پہ بہتا ہوا گھڑا ہوگا
سکوں سے بیٹھنا فطرت میں ہی نہیں اس کی
وہ نورؔ اپنی ہی پرچھائیں سے لڑا ہوگا
(سید محمد نورالحسن نور۔ ممبئی)

۔۔۔
غزل
کسی کی یاد میں دن بھر تڑپتا عشق رہتا ہے 
میرے دل کے جزیروں پر مچلتا عشق رہتا ہے 
کوئی تجویز دیں مرشد مجھے باہر نکلنا ہے 
میرے اندر کی دنیا میں بھٹکتا عشق رہتا ہے 
میری فریاد لے جائے کوئی آقا ؐ کی چوکھٹ تک 
مدینے کی فضاؤں کو ترستا عشق رہتا ہے 
عجب بے کیف موسم کی فراوانی ہے سینے میں 
دھواں دیتی نہیں لکڑی، سلگتا عشق رہتا ہے 
جسے معروف ؔدنیا سے غلامی ختم کرنی تھی 
وہ خود اب قیدخانے میں چلاتا عشق رہتا ہے 
 (معروف شاہ۔ اسکردو)

۔۔۔
غزل
یہ رابطہ بھی اس لیے موقوف ہوگیا
میں عرصۂ حیات میں مصروف ہوگیا
حیرت ہے اپنے عہد کی گمنامیوں کے بیچ
مجھ سا فقیر شہر میں معروف ہوگیا
مجھ سے مرے گمان کی گرہیں نہ کھل سکیں
تیرا خیال رات میں ملفوف ہوگیا
صاحب کسی نگاہ کا فیضان دیکھئے
میں کہ تمام شہر پہ مکشوف ہوگیا
ہائے وہ التفات کے رنگوں کی کہکشاں
میں دیکھتے ہی دیکھتے محذوف ہوگیا
(سید فیض الحسن فیضی کاظمی۔ پاکپتن)

۔۔۔
غزل 
مشکل ہے اس قدر اب تم پر یقین کرنا 
جیسے کہ آسماں کو زیرِ زمین کرنا 
قیمت ہمارے دل کی کیا خوب ہے لگائی
بولی لگا کے جیسے اک دو سے تین کرنا
یہ بھی کمال اکثر محفل میں تیری دیکھا
تند خو کو اک نظر میں خندہ جبین کرنا 
ہے عشق کی روایت یا معجزہ ہے اس کا
مسند کے وارثوں کو کوچہ نشین کرنا 
چہروں کے داغ دھبے دائم ؔ سبھی مٹائیں
لیکن کوئی نہ چاہے دل کو حسین کرنا 
(ندیم دائم۔ ہری پور)

۔۔۔
غزل
کہتے ہو جو ہر روز وہ کر کیوں نہیں جاتے
تم فرقتِ دلدار میں مر کیوں نہیں جاتے
بازار میں بک جاتی ہے غیرت کی علامت
دستار چلی جاتی ہے سر کیوں نہیں جاتے 
ہر وقت پڑے رہتے ہو رستے میں ہمارے
تم لوگ گزر گاہ سے گھر کیوں نہیں جاتے
قسمت نے جنہیں کھل کے مہکنے نہ دیا ہو
ہاتھوں سے وہی پھول بکھر کیوں نہیں جاتے
میں آج سمجھ پایا تری بے قدری کو
میخانے چلے جاتے ہو گھر کیوں نہیں جاتے
حسرت سے ہی اس آنکھ کو تکتے ہو روزانہ
اس بحر میں تم صائم ؔاتر کیوں نہیں جاتے
(عابد حسین صائم۔ بورے والا، پنجاب)

۔۔۔
غزل
توُ نے جب ہم کو نہ اپنا، جانا
خوب در سے ترے جانا، جانا
پہلے ہنسنا تھا اک عادت اپنی
تجھ سے ملتے ہی تو رونا، جانا
درد سے مجھ کو دوا ہی تو ملی
میں نے گرنے سے سنبھلنا، جانا
وقت کی آنکھ بدلنے کے طفیل
بوجھ کندھوں پر اٹھانا، جانا
زندگی کیسے گزرتی ہے یہ گُر
دوسروں کو بھی سکھانا، جانا
(محبوب الرّحمان۔سینے،میاندم،سوات)
 

سنڈے میگزین کے شاعری کے صفحے پر اشاعت کے لیے آپ اپنا کلام، اپنے شہر کے نام اورتصویر کے ساتھ ہمیں درج ذیل پتے پر ارسال کرسکتے ہیں۔ موزوں اور معیاری تخلیقات اس صفحے کی زینت بنیں گی۔
انچارج صفحہ ’’کوچہ سخن ‘‘
 روزنامہ ایکسپریس، 5 ایکسپریس وے، کورنگی روڈ ، کراچی

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کیوں نہیں جاتے عشق رہتا ہے خاموشی ہے کیوں نہ کے لیے مجھ کو ہم لوگ

پڑھیں:

قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں

ہر سال ستمبر آتے ہی ایک قصہ نئے سرے سے گردش کرنے لگتا ہے۔ اکثر یہ بات کہی جاتی ہے کہ زیارت سے کراچی واپسی پر ان کی ایمبولینس دانستہ خراب کی گئی اور بابائے قوم کو راستے میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا، تاکہ ان کی طبیعت زیادہ بگڑ جائے اور وہ سروائیو نہ کر پائیں۔ کبھی کچھ اور کہا جاتا ہے، کبھی لیاقت علی خان کی زیارت ریزیڈنسی میں قائداعظم سے ملاقات پر منفی تبصرے کیے جاتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر یہ کہانی ہر بار نئے مسالے کے ساتھ لوٹتی ہے، اور ہر بار کچھ لوگ سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ ہائے، ہم نے اپنے محسن کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ یوں ہر سال ایک نئی سازشی کہانی جنم لیتی ہے، حالانکہ تاریخ کے مستند ریکارڈ میں ایسی کسی منظم سازش کا سراغ نہیں ملتا۔

یہ بھی پڑھیں: دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا

اس بار تو ہم نے ستمبر کا انتظار بھی نہیں کیا، جولائی ہی میں ستمبر لے آئے۔ شاید اس لیے کہ بارشوں نے لاہور کو بھی چند روز کے لیے زیارت کا سا رنگ دے دیا ہے۔ اس بار یہ شگوفہ مخدوم جاوید ہاشمی کے لبوں سے پھوٹا ہے۔ وہ آج کل حکمرانوں سے کچھ برہم اور ناراض ہیں۔ ان کے اندر کا انقلابی اور باغی ہیرو ایک بار پھر جاگ اٹھا ہے۔ اس بار وہ پہلے سے زیادہ پرجوش انداز میں سامنے آیا۔

ہاشمی صاحب نے فرمایا کہ قائداعظم کو سازش کے تحت زیارت بھیجا گیا تھا، حکومتی کاموں سے دور رکھنے کے لیے، ورنہ وہاں کون جاتا ہے علاج کے لیے۔ اس پر فواد چودھری صاحب نے اپنے ٹویٹ کے ذریعے مخدوم صاحب کو جواب دیا۔ کچھ اور لوگ بھی بیچ میں کود پڑے۔ یوں سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث شروع ہوگئی۔

خاکسار کی گزارش بس اتنی ہے کہ ذرا ٹھہر جائیں۔ پہلے ہمارے سادہ سے، معصوم سے سوال کا جواب تو دے دیں کہ آخر یہ سازش کس نے کی؟ وہ کون تھا جو محمد علی جناح کو، اس جیسے مردِ آہن کو، کسی بات پر مجبور کرسکتا تھا؟ قائداعظم گورنر جنرل تھے، ایسے جو کابینہ اجلاس میں تاخیر سے آنے پر وزرا کو سختی سے ڈانٹ سکتے تھے۔

وزیراعظم لیاقت علی خان سمیت کس میں اتنی جرأت تھی کہ وہ قائد سے اختلاف کرتا یا ان پر جبر کا سوچ بھی سکتا؟ قائداعظم اپنی بیماری میں بھی ملک کی سب سے بڑی طاقت تھے۔ کسی میں اتنا دم نہیں تھا کہ ان پر رتی برابر دباؤ ڈال سکے، یا ان کے سامنے زبان کھول سکے۔ جو لوگ زیارت جانے کو سازش کہتے ہیں، وہ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ اس سازش کا مہرہ کون تھا اور دھاگے کس کے ہاتھ میں تھے۔

زیارت کیوں بھیجا گیا

اصل بات جاننے کے لیے اُس زمانے کی طب کو سمجھنا پڑے گا۔ ٹی بی کے مریض تب ٹھنڈے، بلند علاقوں میں بھیجے جاتے تھے، جہاں صاف، خشک اور ٹھنڈی آب و ہوا مریضوں کے لیے موزوں سمجھی جاتی تھی۔

شملہ ہو، مری ہو یا زیارت، انہی مقامات پر ایسے مریضوں کے سینیٹوریم بنے تھے۔ زیارت قائد کو خود بھی پسند تھا، اور غالباً ڈاکٹروں کے ذہن میں یہ بھی ہوگا کہ وہاں ملاقاتی کم آئیں گے اور مریض کو آرام کا زیادہ وقت ملے گا۔ اس میں سازش کہاں سے آ گئی؟ ویسے جس کسی کو زیارت گرمیوں میں جانے کا اتفاق ہوا ہو، وہ اعتراف کرے گا کہ ایسی پرسکون، خوبصورت اور خالص ہوا والی جگہ پر مریض کو آنا چاہیے، خاص کر ایسے مریض کو جس کے پھیپھڑے بری طرح متاثر ہوچکے ہوں۔

تھوڑی سی تحقیق کر لیں تو حقائق آشکار ہو جاتے ہیں۔ قائد کو ٹی بی برسوں سے تھی، مگر انہوں نے اسے چھپائے رکھا۔ ان کا اپنا کہنا تھا کہ اگر مخالفین کو خبر ہوگئی تو وہ میری موت کا انتظار کرنے لگیں گے۔ قائد کے آخری دنوں یعنی ستمبر تک یہ مرض اکیلا نہیں رہا تھا، نمونیا اور دیگر پیچیدگیاں بھی ساتھ آ ملیں، شاید پھیپھڑوں کا سرطان بھی۔ قائد کا وزن گھٹ کر صرف 36 کلو رہ گیا۔

یہ بھی پڑھیں: جب اپنا بوجھ اتار پھینکا جائے

36 کلو کا اندازہ لگا لیں، ایک صحت مند 10 سال کے بچے کے برابر وزن۔ ان کے معالج ڈاکٹر الٰہی بخش نے محترمہ فاطمہ جناح کو صاف بتا دیا تھا کہ اگر معجزہ نہ ہوا تو قائد چند دنوں سے زیادہ نہیں نکال پائیں گے۔ یہ باتیں کسی سازشی بلاگ میں نہیں، ان کے اپنے ڈاکٹروں کی کتابوں اور انٹرویوز میں درج ہیں، خصوصاً ڈاکٹر الٰہی بخش کی یادداشتوں میں۔

کراچی، وہ بھی ستمبر میں

اب ایک نکتہ ایسا ہے جس پر شاید ہی کبھی غور کیا گیا ہو۔ قائداعظم ستمبر کے مہینے میں کراچی کیوں آئے؟ ہم لاہور والے جانتے ہیں کہ ستمبر آتے ہی پنجاب کا موسم خوشگوار ہونے لگتا ہے، مگر کراچی میں یہی مہینے نسبتاً زیادہ گرم ہوتے ہیں۔ ایک بیمار آدمی، جس کے پھیپھڑے جواب دے چکے ہوں، اسے بھلا اِس گرمی میں کراچی آنے کی کیا جلدی تھی؟ وہ اکتوبر، نومبر میں بھی آسکتے تھے، جب کراچی کا موسم سنبھل جاتا۔

اس کا جواب تلخ ہے، اور ہم احتراماً اسے زبان پر نہیں لاتے۔ حالات سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ قائد اپنی زندگی کے آخری ایام کراچی اپنے گھر میں گزارنے آرہے تھے۔ ریکارڈ میں کراچی منتقلی کی وجہ یہ درج ہے کہ وہاں بہتر طبی سہولتیں دستیاب تھیں، مگر اندر خانے سب جانتے تھے کہ اب گنتی کے دن رہ گئے ہیں۔ پھر یہ بھی ثابت شدہ حقیقت ہے کہ محترمہ فاطمہ جناح نے سختی سے ہدایت کی تھی کہ واپسی کو نجی دورہ رکھا جائے، اسی لیے ائیرپورٹ پر انہیں لینے سرکاری افسران یا وزرا وغیرہ نہیں پہنچے۔ بہت سوں کو تو شاید قائد کی واپسی کا علم ہی نہیں ہوگا۔

ایمبولینس کا قصہ

اب آتے ہیں اُس ایمبولینس کی طرف جس پر سب سے زیادہ شور مچتا ہے۔ ہاں، وہ ایمبولینس راستے میں خراب ہوگئی تھی، انجن نے ساتھ چھوڑ دیا۔ یہ ایک افسوسناک منظر تھا، اس سے انکار کوئی نہیں کرتا۔ مگر بندہ خدا، ذرا اُس وقت کے پاکستان کی حالت بھی تو دیکھیں۔ ملک بنے ابھی ایک برس ہوا تھا، خزانہ خالی، لاکھوں مہاجر کھلے آسمان تلے پڑے۔ تب کتنی گاڑیاں ہوا کرتی تھیں اور ایمبولینسوں کا کیا حال تھا؟

اس بات پر بھی غور کیجیے کہ خود وزیراعظم لیاقت علی خان قائد کی علالت کے دنوں میں زیارت گئے اور ان سے ملاقات کی۔ یہ کوئی رسمی دورہ نہ تھا، کچھ دیر تنہائی میں بھی بات ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ واپسی پر انہوں نے کراچی پیغام بھجوایا کہ حالات کیا ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جناب علامہ شبیر احمد عثمانی کو خاموشی سے پیغام دیا گیا کہ آپ اگلے کچھ دن کراچی ہی میں رہیں، کسی علمی، تبلیغی دورے وغیرہ پر شہر سے باہر نہ جائیں کہ نمازِ جنازہ کے لیے ان کا نام سوچ لیا گیا تھا، شاید قائد کی ہدایت کے مطابق۔

یہ بھی پڑھیں: اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے

مطلب صاف ہے۔ ٹاپ پر موجود سب جانتے تھے کہ اب دن گنتی کے رہ گئے ہیں۔ جہاں پوری قیادت کو معلوم ہو کہ اختتام قریب ہے، وہاں ایک ایمبولینس کے چلنے یا رکنے سے کیا فرق پڑنا تھا؟

میرا دکھ مگر یہ نہیں کہ ایمبولینس خراب ہوئی۔ میرا دکھ یہ ہے کہ ہم نے اس خرابی کو ایک سازش بنا ڈالا۔ سچ تو یہ ہے کہ ایمبولینس چلتی یا رکتی، قائد کے پاس وقت بہت کم بچا تھا۔ جس آدمی کو ڈاکٹر 2، 4 دن کی مہلت دے چکے ہوں، اسے وقت پر گھر پہنچا کر بھی آپ چند لمحے ہی جوڑ سکتے تھے، زندگی نہیں لوٹا سکتے تھے۔

کٹا پھٹا پاکستان اور ایک بیمار قائد

ہمارے ہاں یہ تاثر بہت مستحکم ہے کہ قائد نے کٹا پھٹا پاکستان اسی لیے قبول کر لیا کہ انہیں اپنی بیماری کا، اپنے کم بچے وقت کا اندازہ ہو چکا تھا۔ یہ تاثر تاریخ کے بعض حلقوں میں بھی پایا جاتا ہے اور خاکسار کو بھی یہی قرینِ قیاس محسوس ہوتا ہے۔ ایک ایسا آدمی جو جانتا ہو کہ اگر پاکستان سنتالیس کے بجائے اڑتالیس تک لٹک گیا تو شاید وہ اسے بنتا نہ دیکھ سکے، وہ ادھورا پاکستان لینے پر آمادہ ہو جاتا ہے، اس امید پر کہ اپنے ہاتھوں سے اپنا خواب پورا ہوتے دیکھ لے۔ کوئی اسے کمزوری کہے تو کہتا رہے۔ جس آدمی کا جسم جواب دے چکا ہو مگر ارادہ سلامت ہو، وہ ایسے ہی کڑے سودے کیا کرتا ہے۔

سو یہ سب کہانیاں کہ فلاں چیز سے قائد کی زندگی گھٹی، بے بنیاد ہیں۔ وہ تو پہلے ہی اپنی فولادی قوتِ ارادی کے بل پر ہی زندہ تھے۔ جسمانی سکت ختم ہو چکی تھی۔ حکومتی کام کاج اب وہ نہیں کر سکتے تھے۔

حرفِ آخر

صاحبو! بات اتنی سی ہے، قائداعظم نے ایک بھرپور، شاندار زندگی گزاری، اپنا خواب پورا کیا، پاکستان بنایا، اور پھر اپنے آخری سفر پر روانہ ہو گئے۔ اس میں کوئی سازش نہیں تھی۔ چھپا ہاتھ ڈھونڈنے والے بس ڈھونڈتے ہی رہ جائیں گے۔

مسئلہ بس یہی ہے کہ اگر کوئی بات سیدھے سادے طریقے سے ختم ہو جائے تو ہم میں سے بہت سوں کی مریضانہ ذہنیت کو سکون اور مزا نہیں آتا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم تاریخ کو سمجھنے سے زیادہ، اسے سنسنی خیز بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ شاید اسی لیے ہمارے ہاں افسانے زیادہ مقبول ہوتے ہیں اور حقائق کم۔

ہمیں لطف سازشی تھیوری گھڑنے میں آتا ہے، بطور پاکستانی اپنے آپ کو لعن طعن کرنے، اپنے سر میں خاک ڈالنے، اور پھر آنسو بہانے میں۔ گویا اس کے بغیر ہم اچھے اور سچے پاکستانی کہلا ہی نہیں سکتے۔

میری دعا بس اتنی ہے کہ اللہ ہمیں اپنے محسنوں کو عزت سے یاد کرنے کی توفیق دے۔ اور یہ جو ہماری پرانی عادت ہے، ہر اچھی چیز میں کیڑے نکالنے اور ہر سانحے میں سازش ڈھونڈنے کی، اللہ ہمیں اس سے بچائے۔ آمین۔ باقی کہانیاں ہیں بابا، اور کہانیوں کا کیا، وہ تو بنتی رہیں گی۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عامر خاکوانی

نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔

we news زیارت سازشی تھیوری قائداعظم کراچی

متعلقہ مضامین

  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ