Express News:
2026-06-03@06:51:38 GMT

کوچۂ سخن

اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT

غزل
جاتے ہوئے جوازِ بقا لے گیا تو پھر
سیلِ بلا، فصیلِ انا لے گیا تو پھر
اس خوف سے بھی جاگتا رہتا ہوں رات بھر
آنکھوں سے کوئی خواب چرا لے گیا تو پھر
مذہب نے آ کے چھین لیے مجھ سے میرے بت
الحاد جاتے جاتے خدا لے گیا تو پھر 
تم دیکھ تو رہے ہو تماشا جنون کا
صحرا اٹھا کے آبلہ پا لے گیا تو پھر
بنتا ہے کیا سخی ترے کون و مکان سے
کاسے میں ڈال کر یہ گدا لے گیا تو پھر
خوش اعتقاد شخص ہے، لڑنے سے پیشتر
دشمن بھی آ کے مجھ سے دعا لے گیا تو پھر
اِس خوف سے کہ راس نہ آئے اگر زمیں
میں آسمان ساتھ اٹھا لے گیا تو پھر
(اسد رحمان۔ پپلاں، پنجاب)

۔۔۔
غزل
سب کو دکھائی دیتی ہے میں ایسی گھات ہوں
دیوار پر تحریر اک پوشیدہ بات ہوں
میں ہونے اور نہ ہونے کے ہوں بیچ میں ابھی
میں بود اور نابودکے بھی ساتھ ساتھ ہوں
ہر شے میں جلوہ دیکھتا ہوں ایک ذات کا
کثرت کے درمیان بھی وحدت کے ساتھ ہوں
کوئی آ کے میری ساری اناؤں کو توڑ دے
میں آج کے اس دورکا اک سومنات ہوں
اک زندگی کے بعد ہے اِک اور زندگی
پھر افترا بھی ساتھ ہے کہ بے ثبات ہوں
الفت نے تیری وقت سے بیگانہ کر دیا
دن کو گمان ہوتا ہے جیسے کہ رات ہوں
ساجد ؔ میں اپنے  یار سے ایسا ہوں منسلک
پرتَو ہوں اُس کی ذات کا یا عینِ ذات ہوں
(شیخ محمد ساجد۔ لاہور)

۔۔۔
غزل
ایسے اس ہاتھ سے گرے ہم لوگ
ٹوٹتے  ٹوٹتے  بچے ہم لوگ
اپنا قصہ سنا رہا ہے کوئی
اور دیوار کے بنے ہم لوگ
وصل کے بھید کھولتی مٹی
چادریں جھاڑتے ہوئے ہم لوگ
اس کبوتر نے اپنی مرضی کی
سیٹیاں مارتے رہے ہم لوگ
پوچھنے پر کوئی نہیں بولا
کیسے دروازہ کھولتے ہم لوگ
حافظے کے لیے دوا کھائی
اور بھی بھولنے لگے ہم لوگ
عین ممکن تھا لوٹ آتا وہ
اس کے پیچھے نہیں گئے ہم لوگ
(ضیاء مذکور۔ صادق آباد)

۔۔۔
غزل
مجھ میں جتنے بھی ترے شہر ہیں، برباد کروں
سوچتا ہوں کہ نئی بستیاں آباد کروں
چپ ہی بیٹھا رہے، مجھ پر کوئی پھبتی نہ کسے
میرے بس میں ہو تو وہ آئنہ ایجاد کروں
قفسِ دل میں جگہ ایک ہی طائر کی ہے
میں کسے قید کروں اور کسے آزاد کروں
خود سے چھپ کر تجھے سونپ آیاکلیدِ زنداں
اور کس طرح بھلا میں تری امداد کروں
نخلِ غم کے لیے ناکافی رہا ہجر ترا
کیوں نہ اس کے لیے تیّار نئی کھاد کروں
وقت کی گاچنی ملتی ہی نہیں ہے مجھ کو
کون سی تختی پہ لکھ کر مَیں تجھے یاد کروں
 (سعید شارق۔اسلام آباد)

۔۔۔
غزل
اک لڑکی کے رُخ پر کیا بیزاری ہے
پھولوں کو بھی کھلنے میں دشواری ہے
عشق میں جب بھی کوئی شخص اجڑتا ہے
لگتا ہے اب اگلی میری باری ہے
اس سے پوچھو خوابوں کا اب کیا ہو گا
دن میں جس نے مجھ پر نیند اتاری ہے
مرشد بس میں خود سے نفرت کرتا ہوں
مرشد مجھ کو سوچنے کی بیماری ہے
ڈوب رہے ہیں لوگ سمندر میں عمارؔ
اِس نے اُن آنکھوں کی نقل اتاری ہے
(عمار یاسر مگسی۔لاہور)

۔۔۔
غزل
یہ جو میرے اندر پھیلی خاموشی ہے
تم کیا جانو کتنی گہری خاموشی ہے
اس کی اپنی ہی اک چھوٹی سی دنیا ہے 
اک گڑیا ہے، ایک سہیلی خاموشی ہے
تیرا سایہ تیرے ساتھ سفر کرتا ہے
 میرے ساتھ مسلسل چلتی خاموشی ہے
فرقت کا دکھ بس وہ سمجھے جس پر بیتے 
میں ہوں، سُونا گھر ہے،گہری خاموشی ہے
شب کے پچھلے لمحوں میں، اکثر دیکھا ہے
تنہائی سے مل کر روتی خاموشی ہے
یہ موسم، یہ منظر،روٹھے روٹھے سے ہیں 
جیسے سرد  رویے، ویسی خاموشی ہے
لگتا ہے کہ تم نے بھی کچھ دیکھ لیا ہے
ہر لمحے جو تم پر طاری خاموشی ہے
 مجھ کو انصرؔ روز پریشاں کر دیتی  ہے
تیرے ہونٹوں پر جو رہتی خاموشی ہے
(راشد انصر ۔پاکپتن شریف)

۔۔۔
غزل
ترے جوارِ توجہ میں جو کھڑا ہوگا
بڑے بڑوں سے بھی قد میں بہت بڑا ہوگا
اب آ رہا ہوں میں شمشیر جاں سنبھالے ہوئے
ذرا سنبھلنا کہ اب معرکہ کڑا ہوگا
میں سر جھکا نہیں سکتا کسی بھی حالت میں
مجھے یقیں ہے اسی ضد پہ وہ اڑا ہوگا
جو بات اپنے تعلق کی چھڑ گئی ہوگی
میان وہم و یقیں سخت رن پڑا ہوگا
جہاں پہ ہمتیں دینے لگیں گی سب کی جواب
وہاں پہ دیکھنا جھنڈا مرا گڑا ہوگا
نہیں ہے دل مرے سینے میں تو یقینی ہے
نگینے جیسا ترے تاج میں جڑا ہوگا
کسی کا سر جسے کہتے ہیں دیکھنے والے
ندی کے سینے پہ بہتا ہوا گھڑا ہوگا
سکوں سے بیٹھنا فطرت میں ہی نہیں اس کی
وہ نورؔ اپنی ہی پرچھائیں سے لڑا ہوگا
(سید محمد نورالحسن نور۔ ممبئی)

۔۔۔
غزل
کسی کی یاد میں دن بھر تڑپتا عشق رہتا ہے 
میرے دل کے جزیروں پر مچلتا عشق رہتا ہے 
کوئی تجویز دیں مرشد مجھے باہر نکلنا ہے 
میرے اندر کی دنیا میں بھٹکتا عشق رہتا ہے 
میری فریاد لے جائے کوئی آقا ؐ کی چوکھٹ تک 
مدینے کی فضاؤں کو ترستا عشق رہتا ہے 
عجب بے کیف موسم کی فراوانی ہے سینے میں 
دھواں دیتی نہیں لکڑی، سلگتا عشق رہتا ہے 
جسے معروف ؔدنیا سے غلامی ختم کرنی تھی 
وہ خود اب قیدخانے میں چلاتا عشق رہتا ہے 
 (معروف شاہ۔ اسکردو)

۔۔۔
غزل
یہ رابطہ بھی اس لیے موقوف ہوگیا
میں عرصۂ حیات میں مصروف ہوگیا
حیرت ہے اپنے عہد کی گمنامیوں کے بیچ
مجھ سا فقیر شہر میں معروف ہوگیا
مجھ سے مرے گمان کی گرہیں نہ کھل سکیں
تیرا خیال رات میں ملفوف ہوگیا
صاحب کسی نگاہ کا فیضان دیکھئے
میں کہ تمام شہر پہ مکشوف ہوگیا
ہائے وہ التفات کے رنگوں کی کہکشاں
میں دیکھتے ہی دیکھتے محذوف ہوگیا
(سید فیض الحسن فیضی کاظمی۔ پاکپتن)

۔۔۔
غزل 
مشکل ہے اس قدر اب تم پر یقین کرنا 
جیسے کہ آسماں کو زیرِ زمین کرنا 
قیمت ہمارے دل کی کیا خوب ہے لگائی
بولی لگا کے جیسے اک دو سے تین کرنا
یہ بھی کمال اکثر محفل میں تیری دیکھا
تند خو کو اک نظر میں خندہ جبین کرنا 
ہے عشق کی روایت یا معجزہ ہے اس کا
مسند کے وارثوں کو کوچہ نشین کرنا 
چہروں کے داغ دھبے دائم ؔ سبھی مٹائیں
لیکن کوئی نہ چاہے دل کو حسین کرنا 
(ندیم دائم۔ ہری پور)

۔۔۔
غزل
کہتے ہو جو ہر روز وہ کر کیوں نہیں جاتے
تم فرقتِ دلدار میں مر کیوں نہیں جاتے
بازار میں بک جاتی ہے غیرت کی علامت
دستار چلی جاتی ہے سر کیوں نہیں جاتے 
ہر وقت پڑے رہتے ہو رستے میں ہمارے
تم لوگ گزر گاہ سے گھر کیوں نہیں جاتے
قسمت نے جنہیں کھل کے مہکنے نہ دیا ہو
ہاتھوں سے وہی پھول بکھر کیوں نہیں جاتے
میں آج سمجھ پایا تری بے قدری کو
میخانے چلے جاتے ہو گھر کیوں نہیں جاتے
حسرت سے ہی اس آنکھ کو تکتے ہو روزانہ
اس بحر میں تم صائم ؔاتر کیوں نہیں جاتے
(عابد حسین صائم۔ بورے والا، پنجاب)

۔۔۔
غزل
توُ نے جب ہم کو نہ اپنا، جانا
خوب در سے ترے جانا، جانا
پہلے ہنسنا تھا اک عادت اپنی
تجھ سے ملتے ہی تو رونا، جانا
درد سے مجھ کو دوا ہی تو ملی
میں نے گرنے سے سنبھلنا، جانا
وقت کی آنکھ بدلنے کے طفیل
بوجھ کندھوں پر اٹھانا، جانا
زندگی کیسے گزرتی ہے یہ گُر
دوسروں کو بھی سکھانا، جانا
(محبوب الرّحمان۔سینے،میاندم،سوات)
 

سنڈے میگزین کے شاعری کے صفحے پر اشاعت کے لیے آپ اپنا کلام، اپنے شہر کے نام اورتصویر کے ساتھ ہمیں درج ذیل پتے پر ارسال کرسکتے ہیں۔ موزوں اور معیاری تخلیقات اس صفحے کی زینت بنیں گی۔
انچارج صفحہ ’’کوچہ سخن ‘‘
 روزنامہ ایکسپریس، 5 ایکسپریس وے، کورنگی روڈ ، کراچی

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کیوں نہیں جاتے عشق رہتا ہے خاموشی ہے کیوں نہ کے لیے مجھ کو ہم لوگ

پڑھیں:

جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں

دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ترقی اور بقا کے درمیان فاصلہ تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ ہم نے صدیوں تک یہ سمجھا کہ فطرت ہمارے لیے ایک لامحدود خزانہ ہے جس سے ہم جتنا چاہیں لے سکتے ہیں مگر اب زمین ہمیں بتا رہی ہے کہ ہر نعمت کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ بڑھتی ہوئی گرمی، بے موسم کی بارشیں، خشک سالی، سیلاب اور آلودگی محض موسمی واقعات نہیں رہے بلکہ ایک بڑے ماحولیاتی بحران کی نشانیاں بن چکے ہیں۔

 آج جب یورپ میں گرمی کی نئی لہر ریکارڈ توڑ رہی ہے۔ پرتگال اپنے مئی کے مہینے کا سب سے زیادہ درجہ حرارت دیکھ رہا ہے۔ اسپین، فرانس اور اٹلی میں خطرے کے الارم بج رہے ہیں،یہ انسانی تہذیب کے لیے ایک تنبیہ ہے۔ جنگلات میں آگ لگنے کے خطرات بڑھ رہے ہیں اور دنیا بھر کے ماہرین ماحولیات مسلسل خبردار کر رہے ہیں تو یہ صرف موسم کی تبدیلی کی خبر نہیں بلکہ انسانی طرز زندگی پر ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اب بھی ان انتباہات کو معمول کی خبروں کی طرح نظرانداز کرتے رہیں گے یا اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا شروع کریں گے؟

 ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ کہیں دور قطب شمالی کے پگھلتے ہوئے گلیشیئرز یا بحرالکاہل کے ڈوبتے ہوئے جزیروں کا مسئلہ ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ اب ہمارے گھروں، ہماری گلیوں اور ہمارے شہروں تک آ پہنچا ہے۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں حالانکہ دنیا میں کاربن کے اخراج میں ہمارا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔

کراچی اس کی ایک زندہ مثال ہے۔ اس شہر میں گرمی صرف ایک موسم نہیں ،ایک آزمائش ہے۔ مئی اور جون کی دوپہر میں جب سورج آگ برساتا ہے تو سڑکوں پر چلنے والا عام آدمی کسی پناہ گاہ کی تلاش میں ہوتا ہے، لیکن اسے سایہ کہاں ملے؟ ہمارے شہر کی بڑی شاہراہوں پر درخت کم ہوتے جا رہے ہیں۔

نئی سڑکیں بنتی ہیں، فلائی اوور بنتے ہیں، کنکریٹ کے جنگل پھیلتے جاتے ہیں مگر درختوں کی تعداد گھٹتی جاتی ہے۔ میں اکثر سوچتی ہوں کہ ایک مزدور جو صبح سے شام تک دھوپ میں محنت کرتا ہے، ایک خاتون جو بس اسٹاپ پر کھڑی ہے،ایک طالب علم جو پیدل گھر جا رہا ہے، ایک ٹریفک پولیس اہلکار جو گھنٹوں دھوپ میں کھڑا رہتا ہے ان کے لیے شہر نے کیا انتظام کیا ہے؟ ان کے لیے سایہ کہاں ہے؟ کون سا درخت لگایا گیا ہے۔

 یورپ میں جب درجہ حرارت بڑھتا ہے تو حکومتیں عوام کو خبردار کرتی ہیں۔ شہریوں کے لیے حفاظتی ہدایات جاری کی جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں گرمی کا سامنا زیادہ تر فرد کی اپنی ذمے داری سمجھ لیا جاتا ہے، گویا سورج سے بچنا بھی ایک ذاتی مسئلہ ہے اجتماعی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ درخت صرف خوبصورت منظر کے لیے نہیں ہوتے۔ وہ زندگی ہوتے ہیں ،وہ فضا کو صاف کرتے ہیں ،زمین کو ٹھنڈا رکھتے ہیں ،پرندوں کو گھر دیتے ہیں اور انسانوں کو سانس لینے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ایک درخت کاٹنا صرف ایک درخت کاٹنا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے حصے کی ٹھنڈک چھین لینا ہے۔

 موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ صرف درجہ حرارت کا مسئلہ بھی نہیں، یہ انصاف کا مسئلہ ہے دنیا کے امیر ممالک نے دو صدیوں تک صنعت کاری کے نام پر فضا میں کاربن بھرا اور آج اس کی قیمت وہ ممالک ادا کر رہے ہیں جو پہلے ہی غربت بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں۔ اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ پریشان کن چیز شاید ہماری بے حسی ہے۔ ہم ہر سال گرمی کے نئے ریکارڈ بنتے دیکھتے ہیں سیلاب آتے دیکھتے ہیں خشک سالی بڑھتی دیکھتے ہیں مگر پھر بھی اسے ایک عارضی خبر سمجھ کر بھول جاتے ہیں۔

زمین کی تاریخ ہمیں ایک عجیب سبق دیتی ہے۔ سائنس دان بتاتے ہیں کہ اربوں سال پہلے جب زمین کے ماحول میں آکسیجن کی مقدار اچانک بڑھی تھی تو اس وقت موجود بے شمار جاندار اس تبدیلی کو برداشت نہ کر سکے۔ اس واقعے کو بعض اوقات عظیم آکسیجنی تباہی کہا جاتا ہے اور اسے زمین کی اولین عظیم حیاتیاتی تبدیلیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ زندگی ختم نہیں ہوئی تھی لیکن زندگی کی بہت سی اشکال ختم ہو گئی تھیں۔ کچھ نئی انواع نے جنم لیا اور ارتقا کا سفر آگے بڑھتا رہا۔یہ بات ہمیں یاد رکھنی چاہیے کہ فطرت انسان کے بغیر بھی زندہ رہ سکتی ہے لیکن انسان فطرت کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔

آج ہم خود اپنے ہاتھوں سے فضا میں کاربن بھر رہے ہیں۔ کارخانوں کا دھواں، بے ہنگم شہری پھیلاؤ، جنگلات کی کٹائی، فضائی آلودگی اور لامحدود منافع کی دوڑ ہمیں ایک ایسے راستے پر لے جا رہی ہے جہاں ایک نئی ماحولیاتی تباہی کا خطرہ موجود ہے۔ شاید زمین باقی رہے گی، سمندر باقی رہیں گے، پہاڑ باقی رہیں گے اور شاید زندگی کی کوئی نئی شکل بھی باقی رہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ اس دنیا میں انسان اسی طرح موجود رہیں جیسے آج ہیں۔ ارتقا کا عمل رکتا نہیں زندگی کسی نہ کسی صورت اپنا راستہ نکال لیتی ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم اپنی جگہ برقرار رکھ سکیں گے؟

 یہ بات کسی خوف پھیلانے کے لیے نہیں کہی جا رہی بلکہ اس لیے کہ ہم حقیقت کو سمجھ سکیں۔ جو زہر ہم ماحول میں بو رہے ہیں وہ آخرکار ہماری اپنی سانسوں میں شامل ہو رہا ہے۔ جو درخت ہم کاٹ رہے ہیں ان کی کمی ہمارے اپنے جسموں پر گرمی کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔ جو دریا ہم آلودہ کر رہے ہیں وہی آلودگی ہماری اپنی زندگیوں میں واپس آ رہی ہے۔اس لیے شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم ترقی کے معنی پر دوبارہ غور کریں۔ کیا ترقی صرف اونچی عمارتوں کا نام ہے؟ کیا ترقی صرف نئی شاہراہوں اور بڑے منصوبوں کا نام ہے؟ یا پھر ترقی کا مطلب یہ بھی ہے کہ ایک شہر میں چلنے والا انسان سایہ پا سکے صاف ہوا میں سانس لے سکے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک قابلِ رہائش دنیا چھوڑ سکے؟

دنیا کی یہ بدلتی حالت شاید ہمیں ایک آخری موقع دے رہی ہے۔ ایک موقع کہ ہم اپنے رویوں پر نظرثانی کریں اپنی ترجیحات بدلیں اور زمین کے ساتھ اپنے رشتے کو دوبارہ سمجھیں، کیونکہ فطرت انتقام نہیں لیتی وہ صرف اپنا توازن بحال کرتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب وہ توازن بحال ہوگا تو کیا ہم اس کا حصہ ہوں گے یا تاریخ کی کسی معدوم نسل کی طرح صرف ایک یاد بن کر رہ جائیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • کشمیر کا وہ گاوٴں جس کے باسی فون چارج کرنے کے لیے 45 کلومیٹر دور جاتے ہیں
  • حج تھا یا پکنک؟ شدید تنقید کے بعد وسیم اکرم، مصباح الحق اور فخر عالم نے خاموشی توڑ دی
  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی