data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)سینئر صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان 9مئی کے واقعے میں معافی مانگیں اور بتائیں کہ انہوںنے کس طرح یہ دہشت گردی کروائی، عمران خان کے پاس نظریاتی لوگ نہیں ہیں جو ہیں وہ جیل میں بند ہیں باقی جو ہیں وہ وکٹ کے دونوں طرف کھیل رہے ہیں۔ حیدرآباد میں اپنی رہائشگاہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شرجیل انعام میمن نے کہاکہ عمران خان کو آنکھیں کھولنی چاہییں ان کی دوسری لیڈر شپ وکٹ کے دونوں طرف کھیل رہی ہے۔ سیاست میں رستے سب کودیے جاتے ہیں، غلطیساں سب سے ہوتی ہیں ہمیں اس طرح کی کوشش کرنی چاہیے کہ مذاکرات ہوں یہ نہیں ہوسکتا کہ ڈنکے کے زور پر چوری اور سینے زوری والا ماحول ہو، عمران خان نے ماضی میں جو غلطیاں کی ہیں وہ ٹھیک کریں، حیدرآباد سکھر موٹر وے کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ یہ چار سے ساڑھے چار سو ارب روپے کا پروجیکٹ ہے، وفاق نے اس میں بہت کم پیسے رکھے ہیں جو سندھ کے ساتھ زیادتی ہے ،یہ سندھ کے عوام کو بیوقوف بنانے کے مترادف ہے، موٹر وے بنانے کیلیے مطلوبہ پوری رقم دی جائے۔ انہوں نے کہاکہ مون سون کی بارشوں کے حوالے سے محکمہ موسمیات نے جو پیشن گوئی کی ہے وزیراعلیٰ سندھ نے بلدیاتی اداروں اور انتظامیہ کو الرٹ کیا ہو اہے اور انہیں خصوصی ہدایت کی ہے جس کے بعد بلدیاتی اور ریسکیو کے ادارے الرٹ ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بجلی فراہم کرنے والی کمپنیاں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام ہوچکی ہیں، حیدرآباد میں 20،20 گھنٹے بجلی کی لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے جس کے باعث شہری اذیت کا شکار ہیں، سڑکوں پر لوگ احتجاج کررہے ہیں، میں عوام سے بھی اپیل کرتا ہوںکہ وہ اس طرح احتجاج کرکے سڑکیں بلاک نہ کریں، سڑکیں بلاک کرنا فیشن بن گیا ہے، انہوں نے کہاکہ سندھ میں جہاں بھی بجلی کی چوری ہے اسے سزا دینی چاہیے لیکن اس کا یہ مقصد نہیں کہ اگر کوئی علاقے میں منشیات بیچ رہا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ پورے محلے کو آپ منشیات فروش کہہ دیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: انہوں نے کہاکہ

پڑھیں:

پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو

وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔

فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔

ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔

عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔

ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔

ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔

ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔

اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔

متعلقہ مضامین

  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن