بجلی لوڈ شیڈنگ پر سڑکیں بند کرنا فیشن بن گیا ہے،شرجیل میمن
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)سینئر صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان 9مئی کے واقعے میں معافی مانگیں اور بتائیں کہ انہوںنے کس طرح یہ دہشت گردی کروائی، عمران خان کے پاس نظریاتی لوگ نہیں ہیں جو ہیں وہ جیل میں بند ہیں باقی جو ہیں وہ وکٹ کے دونوں طرف کھیل رہے ہیں۔ حیدرآباد میں اپنی رہائشگاہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شرجیل انعام میمن نے کہاکہ عمران خان کو آنکھیں کھولنی چاہییں ان کی دوسری لیڈر شپ وکٹ کے دونوں طرف کھیل رہی ہے۔ سیاست میں رستے سب کودیے جاتے ہیں، غلطیساں سب سے ہوتی ہیں ہمیں اس طرح کی کوشش کرنی چاہیے کہ مذاکرات ہوں یہ نہیں ہوسکتا کہ ڈنکے کے زور پر چوری اور سینے زوری والا ماحول ہو، عمران خان نے ماضی میں جو غلطیاں کی ہیں وہ ٹھیک کریں، حیدرآباد سکھر موٹر وے کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ یہ چار سے ساڑھے چار سو ارب روپے کا پروجیکٹ ہے، وفاق نے اس میں بہت کم پیسے رکھے ہیں جو سندھ کے ساتھ زیادتی ہے ،یہ سندھ کے عوام کو بیوقوف بنانے کے مترادف ہے، موٹر وے بنانے کیلیے مطلوبہ پوری رقم دی جائے۔ انہوں نے کہاکہ مون سون کی بارشوں کے حوالے سے محکمہ موسمیات نے جو پیشن گوئی کی ہے وزیراعلیٰ سندھ نے بلدیاتی اداروں اور انتظامیہ کو الرٹ کیا ہو اہے اور انہیں خصوصی ہدایت کی ہے جس کے بعد بلدیاتی اور ریسکیو کے ادارے الرٹ ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بجلی فراہم کرنے والی کمپنیاں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام ہوچکی ہیں، حیدرآباد میں 20،20 گھنٹے بجلی کی لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے جس کے باعث شہری اذیت کا شکار ہیں، سڑکوں پر لوگ احتجاج کررہے ہیں، میں عوام سے بھی اپیل کرتا ہوںکہ وہ اس طرح احتجاج کرکے سڑکیں بلاک نہ کریں، سڑکیں بلاک کرنا فیشن بن گیا ہے، انہوں نے کہاکہ سندھ میں جہاں بھی بجلی کی چوری ہے اسے سزا دینی چاہیے لیکن اس کا یہ مقصد نہیں کہ اگر کوئی علاقے میں منشیات بیچ رہا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ پورے محلے کو آپ منشیات فروش کہہ دیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انہوں نے کہاکہ
پڑھیں:
گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
گلگت (نوائے وقت رپورٹ) مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے جہاں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا۔ انہوں نے گلگت تک موٹر وے بنانے‘ ائرپورٹ کی توسیع اور الیکٹرک بسیں چلانے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت سی پیک کا مرکز ہے، پوچھنا چاہتا ہوں گلگت کو نظرانداز کیوں کیا گیا۔ ٹوٹی سڑکیں دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا، ووٹ دیں یا نہیں، یہاں کے مسائل کے حل کے لیے شہباز شریف سے بات کروں گا۔ طلبہ کو سکالرشپس دی جائیں گی، مزید لیپ ٹاپ دیے جائیں گے، میں وہ نوازشریف ہوں جو کسی پر تنقید کر کے کسی کی برائی کر کے ووٹ نہیں مانگتا ہم اپنی کارکردگی کی بنا پر ووٹ مانگتے ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ یہاں 20 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، یہ ہمیں منظور نہیں ہے، کسی اور کو منظور ہو تو ہو، یہ مجھے منظور نہیں ہے، میں جاکر شہباز شریف سے بات کروں گا، انہوں نے کہا کہ مجھے آپ نے کئی دفعہ دیس نکالا کیا ہے، مجھ سے گلہ نہیں کرو، یہ گلہ میں سننے کو تیار نہیں ہوں، یہ قصور آپ کا بھی ہے کہ مجھ جیسے بندے کو دیس نکالا کیوں ہونے دیا۔ نواز شریف نے کہا کہ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا، کیوں مجھے دیس چھوڑ کر جانا پڑا، یہ بھی سوچنے والی ہے، میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتا لیکن یہ بھی حقیقت ہے، ہم تمام سٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر اس مسئلے کو حل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ہمارے علاوہ کسی جماعت نے ادھر کام نہیں کیا، یہاں کی سڑکوں کا حال دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔ میں کسی جماعت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، لیکن پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیوں چیزوں کونظر انداز کیا۔ میرا دل روتا ہے کہ آپ لوگوں کی سہولتوں کے لیے کیوں پیسا نہیں لگایاگیا، وہ پیسا کہاں گیا؟ یہاں ہسپتال بنایا تو ہم نے بنایا، ہائیڈل پاور پلانٹس ہم نے لگائے، نگر کا منصوبہ ہم نے مکمل کیا، مجھے بتائیں کسی اور پارٹی نے کوئی کام کیا ہو۔