پنجاب اسمبلی 4کمیٹیوں کے اپوزیشن چیئرمینوں کیخلاف عدم اعتماد کامیاب مزید ، 9کو بھی ہٹانے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
لاہور (خصوصی نامہ نگار) سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد خان نے اسمبلی اجلاس میں اپوزیشن کے ہنگامہ پر سخت ایکشن لے لیا ہے، ذرائع کے مطابق اپوزیشن کو 13 سٹینڈنگ کمیٹیوں سے ہٹائے جانے کا فیصلہ کرلیاگیا ہے، پنجاب اسمبلی میں 13میں سے 4 سٹینڈنگ کمیٹیوں کی چیئرمین شپ سے چیئر مینوں کو عدم اعتماد کے ذریعے ہٹا دیا گیاہے ۔قائمہ کمیٹی برائے کالونیز، سپیشل ایجو کیشن، لٹریسی اینڈ نان فارمل ایجو کیشن، مینجمنٹ اینڈ پروفیشنل ڈویلپمنٹ کے چیئر مینوں کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی گئی جو کہ کامیاب ہوگئی،قائمہ کمیٹی برائے مینجمنٹ اینڈ پروفیشنل ڈویلپمنٹ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک رانا عبد الستار، محمد سہیل خان، رفعت عباسی اور ضیا الرحمن نے جمع کروائی تھی۔ قائمہ کمیٹی برائے لٹریسی کے چیئرمین کے خلاف فیصل اکرم، لعل محمد، جعفر علی ہوچہ اور عمران جاوید نے تحریک عدم اعتماد جمع کروائی تھی، قائمہ کمیٹی برائے کالونیز کے چیئرمین کے خلاف نوید اسلم، غزالی سلیم بٹ، زکیہ خان اور عائشہ جاوید نے تحریک عدم اعتماد جمع کروائی تھی، قائمہ کمیٹی برائے سپیشل ایجوکیشن کے خلاف محمد یوسف، غضنفر عباس، عطیہ افتخار اور فیلبوس کرسٹوفر نے تحریک عدم اعتماد جمع کروائی تھی، پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن کی بقیہ 9 قائمہ کمیٹیوں کا فیصلہ بھی جلد ہوگا، اپوزیشن کے چار چیئرمینوں برائے قائمہ کمیٹیز کو پنجاب اسمبلی کی سٹینڈنگ کمیٹیوں سے فارغ کردیا گیا،پہلے سپیشل ایجوکیشن کی چیئر پرسن اپوزیشن رکن صائمہ کنول کیخلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی اور اپوزیشن کے چیئرمینوں کو عہدوں سے ہٹانے کے لئے نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیئے گئے۔اسی طرح پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی مینجمنٹ اینڈ پروفیشنل ڈیپارٹمنٹ کے چیئرمین محمد مرتضی اقبال کو بھی چیئرمین شپ سے فارغ کردیا گیاہے۔پنجاب اسمبلی کی سٹینڈنگ کمیٹی برائڈ لٹریسی اینڈ نان فارمل بیسک ایجوکیشن کے چیئرمین محمد انصر اقبال چیئرمین شپ سے فارغ ہو گئے۔پنجاب اسمبلی اپوزیشن رکن اور قائمہ کالونیزکمیٹی کے چیئرمین احسن علی کیخلاف بھی تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو گئی،اس طرح وہ بھی چیئرمین کے عہدے سے فارغ ہو گئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: قائمہ کمیٹی برائے تحریک عدم اعتماد جمع کروائی تھی سٹینڈنگ کمیٹی پنجاب اسمبلی کے چیئرمین سے فارغ کے خلاف
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔