عوامی نیشنل پارٹی کا سوات واقعے پر تشویش کا اظہار
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پشاور(آئی این پی )عوامی نیشنل پارٹی خیبرپختونخوا کی موجودہ صورتحال اور کل سوات میں پیش آنے والے المناک حادثے کے تناظر میں گہری تشویش کا اظہار کرتی ہے۔ بارہ سالہ طویل اقتدار کے باوجود پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت صوبے کی انتظامی مشینری کو مکمل طور پر بحال کرنے میں ناکام رہی ہے۔ صوبائی انتظامیہ کی یہ ناکامی عوام کے بنیادی مسائل کو حل کرنے میں ایک بڑی رکاوٹ بن چکی ہے، جس سے صوبے کے عوام شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔اے این پی نے اپنے دورِ حکومت میں اٹھارویں آئینی ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کے ذریعے صوبے کو مالی اور انتظامی خودمختاری فراہم کی۔ اس کے نتیجے میں صوبائی بجٹ میں بے تحاشہ اضافہ ہوا، جس سے خیبرپختونخوا کو اپنی ترقی اور عوامی فلاح کے لیے بھرپور وسائل میسر آئے۔ بدقسمتی سے، پی ٹی آئی کی حکومت نے ان وسائل کو عوام کی بہبود کے لیے استعمال کرنے کے بجائے بدانتظامی، کرپشن، اور سیاسی تماشوں پر ضائع کر دیا۔ نتیجتاً، صوبے کے عوام کو وہ فوائد حاصل نہیں ہو سکے، جن کا وہ حقدار تھے۔باچا خان مرکز پشاور سے جاری اپنے بیان میں مرکزی ترجمان اے این پی احسان اللہ خان نے کہا کہ ریسکیو 1122 جیسے اہم ادارے، جو کہ عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے قائم کیے گئے تھے، کو بھی پی ٹی آئی نے اپنی سیاسی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا۔ اس ادارے کی فعالیت مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے، اور یہ اب ہنگامی حالات میں عوام کی توقعات پر پورا اترنے سے قاصر ہے۔ کل سوات میں پیش آنے والا حادثہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ صوبائی حکومت کی نااہلی اور بدانتظامی نے کلیدی اداروں کو کس حد تک کمزور کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی معیشت میں سیاحت ایک اہم ستون کی حیثیت رکھتی ہے، جو مقامی لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کرتی ہے۔ تاہم، سیاحتی مقامات پر سیاحوں کی حفاظت کو یقینی بنانے میں صوبائی حکومت کی ناکامی اس اہم شعبے کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے۔ اگر حکومت نے سیاحوں کی حفاظت اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے فوری اقدامات نہ کیے، تو یہ شعبہ بھی خطرے سے دوچار ہو جائے گا، جس سے مقامی معیشت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچے گا۔اٹھارویں آئینی ترمیم نے صوبوں کو نہ صرف خودمختاری بلکہ وسائل کی تقسیم کا ایک منصفانہ نظام بھی دیا۔ اس ترمیم کے تحت صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری تھی کہ وہ ان وسائل کو مقامی حکومتوں تک منتقل کریں تاکہ عوام کو براہِ راست فائدہ پہنچے۔ بدقسمتی سے، پی ٹی آئی کی حکومت اس اہم ذمہ داری کو پورا کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی۔ مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے کے بجائے، وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم اور بدانتظامی نے صوبے کی ترقی کو شدید دھچکا لگایا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی کے لیے
پڑھیں:
وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
اسلام آباد: وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومت اور پیپلز پارٹی کے مذاکرات نتیجہ خیزنہ ہوسکے۔ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کو گلہ ہے کہ بجٹ پر انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومتی ٹیم اور پیپلز پارٹی کے درمیان اجلاس ختم ہوگیا۔اجلاس میں کوئی آئینی ترمیم زیر بحث نہیں۔ این ایف سی میں تبدیلی پر بھی کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں پیپلزپارٹی کے خدشات دور نہ کیے جاسکے۔ پیپلزپارٹی اور حکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہوگا۔اس سے پہلے5 جون کو ہونے والا بجٹ اجلاس مؤخر کردیا گیا تھا،نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا تھا۔پارلیمانی ذرائع کا کہنا تھا حکومت بجٹ سے پہلے اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان نے بھی کامران ٹیسوری کی بطور گورنر سندھ تعیناتی کو بجٹ منظوری سے مشروط کیا تھا۔