مودی سرکار مسلمانوں کو نمایاں طور پر پسِ پشت ڈالنے کی کوشش میں سرگرم ہے۔

ذرائع کے مطابق بھارتی شہر پٹنہ میں وقف ترمیمی قانون کے خلاف ہزاروں افراد نے سخت احتجاج کیا۔

مسلم تنظیم عمارتِ شریعہ کی قیادت میں مظاہرہ کیا گیا جس میں بیشتر بھارتی سیاستدان، ایم پی اور ایم ایل اے بھی احتجاج میں شامل ہوئے۔

بہار اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادیو اور ممبر لوک سبھا پپو یادیو نے حکومت کے خلاف زبردست احتجاج کی قیادت کی۔

احتجاج میں عوام اور اپوزیشن جماعتوں نے مودی سرکار کے غیر جمہوری اور متعصبانہ اقدامات کی شدید مذمت کی۔

تیجسوی یادیو کا کہنا تھا کہ اپوزیشن نے وقف ترمیمی بل کی دونوں ایوانوں میں بھرپور مخالفت کی ہے۔ انہوں نے مودی سرکار کو وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ اب اقتدار میں ہیں وہ جلد ہی ختم ہو جائیں گے۔

تیجسوی یادیو نے مؤقف پیش کیا کہ ایوان ہو عدالت ہو یا سڑک، وقف قانون کے خلاف ہر محاذ پر جنگ جاری رہے گی۔ جب غریبوں کی حکومت آئے گی تو یہ ظالمانہ قانون کوڑے دان میں پھینک دیا جائے گا۔

بہار کے سابق نائب وزیراعلیٰ تیجسوی یادیو کا مزید کہنا تھا کہ مودی سرکار غریب، دلت اور اقلیتی ووٹرز کے نام لسٹ سے نکال کر حق رائے دہی چھیننے کی سازش میں مصروف ہے، انہوں نے دعویٰ کیا کہ انتہا پسند مودی سرکار ووٹر لسٹ کے بعد پنشن لسٹ سے بھی غریب، دلت اور اقلیتوں کے نام نکال دے گی۔

احتجاج میں شریک ممبر لوک سبھا پپو یادیو کا کہنا تھا کہ بی جے پی 4.

7 کروڑ غریب اور اقلیتوں کے ووٹ چھین کر بہار الیکشن میں کامیابی حاصل کرنا چاہتی ہے۔

مولانا فیصل رحمانی نے کہا کہ یہ ترامیم ہماری عبادت گاہوں اور ورثہ کو چھیننے کی سازش ہے، وقف ایکٹ میں ترامیم کا مقصد لاکھوں مسلمانوں اور نچلی ذات کے ہندوؤں کو انتخابی عمل سے محروم کرنا ہے۔

ہندوتوا نظریے پر قائم مودی سرکار متعدد بار مسلم مخالف رویے کا مظاہرہ کر چکی ہے۔

این آر سی، تین طلاق اور اب وقف ترمیمی قانون، بی جے پی کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف مسلسل حکومتی حملے ہیں۔ شریعت پر حملہ صرف مسلمانوں پر نہیں بلکہ بھارت میں تمام پسماندہ طبقات اور اقلیتوں پر حملہ ہے۔

بی جے پی حکومت نہ تو جمہوریت کی حامی ہے اور نہ ہی عوام کی، بلکہ کھلم کھلا مسلم دشمنی پر قائم شدہ جماعت ہے

بی جے پی کے یہ اقدامات ہندوتوا نظریے کی عکاس اور ملک میں فرقہ وارانہ فضا کو ہوا دے رہے ہیں۔

Post Views: 4

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: تیجسوی یادیو مودی سرکار بی جے پی کے خلاف

پڑھیں:

لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش

کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔

جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا  ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔

حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی