Islam Times:
2026-06-03@02:50:45 GMT

جولان کا سودا جولانی کے ہاتھوں

اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT

جولان کا سودا جولانی کے ہاتھوں

اسلام ٹائمز: سیریا کی حکومت کے بارے میں یہ بھی اطلاعات ہیں کہ وہ ”ابراہیمی معاہدے“ کا حصہ بھی بننے جا رہی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اسرائیل اور شام کی حکومتیں اس توسیع پسندانہ عزائم کو کس حد تک پایہء تکمیل تک پہنچا سکتی ہیں۔ جولان کے اس علاقے پر اب بھی کہیں نہ کہیں سے کوئی ڈرون آ گرتا ہے۔ ”مسجد اموی“ کے جس منبر پر احمد الشرع براجمان ہے اس منبر کی تاریخ بڑی دل دہلا دینے والی ہے جبکہ دوسری طرف اسرائیل ابھی بارہ روز جنگ کے نتیجے میں بننے والے کھنڈرات کو سمیٹنے میں ہی مشغول ہے۔ تحریر: سید تنویر حیدر

”مرتفع گولان“ یا ”سطح مرتفع گولان“ جسے عربی میں ”ھَضبَۃُ الجَولان“ یا ”مُرتَفَعاتُ الجولان“ کہا جاتا ہے، ایک سطح مرتفع علاقہ ہے جو ارض شام کے مغرب میں واقع ہے۔ جغرافیائی اعتبار سے اس کے اردگرد، لبنان، اردن اور اسرائیل پائے جاتے ہیں۔ اس علاقے کو گولان بھی لکھا جاتا ہے اور انگریزی میں گولان ہائٹس (Golan Heights) بھی کہا جاتا ہے۔ 1967ء کی چھے روزہ عرب اسرائیل جنگ میں اسرائیل نے شام کے اس علاقے پر قبضہ کر لیا تھا۔ 1981ء میں اسرائیل نے اس علاقے کو اپنے علاقے میں مدغم کر لیا۔ اکثر ممالک اسرائیل کے اس قبضے کو غیر قانونی تصور کرتے ہیں۔ اگرچہ 2019ء میں امریکہ نے اس علاقے پر اسرائیل کی حاکمیت کو سرکاری طور پر تسلیم کر لیا تھا۔ اس علاقے کی کل آبادی 55000 نفوس پر مشتمل ہے جن میں 24000 عرب دروز اور 31000 اسرائیلی آبادکار ہیں۔

2024ء میں بشار حکومت کی تبدیلی اور اسرائیل کی شام میں جارحانہ کاروایوں کے بعد سے اب تک یہ علاقہ بدامنی کا شکار ہے۔ ان حالات میں اس علاقے کی متنازعہ حیثیت ایک بار پھر دنیا کی توجہ کا مرکز ٹھہری ہے۔ بین الاقوامی طور پر اس علاقے کو عموماً شام کا مقبوضہ علاقہ ہی سمجھا جاتا ہے۔ بشار الاسد کے دھڑن تختے کے بعد شام پر قابض موجودہ حکومت جو دراصل اسرائیل کے مفاد کے تحفظ کے لیے ہی وجود میں آئی ہے، اسرائیل سے اپنی سلامتی کے عوض اب شام کے اس علاقے کا سودا کرنا چاہتی ہے۔

بعض اخباری ذرائع کے مطابق شام کے موجودہ صدر احمد الشرع نے جولان کے اس متنازعہ علاقے کو اسرائیل کے حوالے کرنے پر رضامندی ظاہر کردی ہے۔ گویا اس سے قبل بشار الاسد اور ان کے والد حافظ الاسد جس علاقے کے لیے اپنے آخری وقت تک اپنی سی جدوجہد کرتے رہے ہیں، موساد کی تخلیق کردہ حکومت اسے پلیٹ میں رکھ کر اسرائیل کو دینے پر آمادہ ہوگئی ہے۔ گویا حافظ الاسد نے اسرائیل سے لڑ کر جس علاقے کو آزاد کرایا تھا، جولانی کی حکومت اسے اسرائیل کو تحفے میں دینا چاہتی ہے۔

موجودہ حکومت کا اپنے ابتدائی ایام میں دعوٰی تھا کی اگر اسرائیل نے شام پر حملہ کیا تو وہ جولان کی پہاڑیوں کو اسرائیل سے آزاد کروا لے گی لیکن حقیقت یہ ہے کہ احمد الشرع کی حکومت اسرائیل کے دعوے کے مطابق ”بائیبل“ میں اس کی جو حدود بیان کی گئی ہیں، ان کی تشکیل میں اسرائیل کی معاون ہے۔ بائیبل کی گھڑی گئی روایات کے مطابق اسرائیل کی سرحد مصر کی ”وادی العریش“ (نیل نہیں) سے دریائے فرات تک ہے۔ اس سرزمین میں موجودہ اسرائیل، فلسطین، اردن اور شام کے علاقے شامل ہیں۔ سیریا کی حکومت کے بارے میں یہ بھی اطلاعات ہیں کہ وہ ”ابراہیمی معاہدے“ کا حصہ بھی بننے جا رہی ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ اسرائیل اور شام کی حکومتیں اس توسیع پسندانہ عزائم کو کس حد تک پایہء تکمیل تک پہنچا سکتی ہیں۔ جولان کے اس علاقے پر اب بھی کہیں نہ کہیں سے کوئی ڈرون آ گرتا ہے۔ ”مسجد اموی“ کے جس منبر پر احمد الشرع براجمان ہے اس منبر کی تاریخ بڑی دل دہلا دینے والی ہے جبکہ دوسری طرف اسرائیل ابھی بارہ روز جنگ کے نتیجے میں بننے والے کھنڈرات کو سمیٹنے میں ہی مشغول ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کے اس علاقے اس علاقے پر احمد الشرع اسرائیل کے اسرائیل کی کی حکومت علاقے کو جاتا ہے شام کے

پڑھیں:

امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان

امریکی کانگریس میں زیرِ غور ایک نئی دفاعی تجویز امریکا اور اسرائیل کے عسکری تعلقات کو غیرمعمولی حد تک مضبوط بنا سکتی ہے۔ اگر یہ شق قانون بن گئی تو دونوں ممالک نہ صرف اسلحہ سازی، تحقیق اور دفاعی ٹیکنالوجی میں مشترکہ طور پر کام کریں گے بلکہ ان کی دفاعی صنعتیں اور عسکری نظام پہلے سے کہیں زیادہ ایک دوسرے سے جڑ جائیں گے، جسے ماہرین امریکا اسرائیل تعلقات میں ایک تاریخی تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔

امریکی کانگریس میں پیش کیے گئے دفاعی بجٹ بل کی ایک اہم شق امریکا اور اسرائیل کے درمیان فوجی اور دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے کی راہ ہموار کر رہی ہے، جس کے تحت دونوں ممالک اسلحہ سازی، دفاعی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور عسکری نظاموں کے انضمام میں پہلے سے کہیں زیادہ قریبی شراکت داری قائم کر سکیں گے۔

’امریکا اسرائیل دفاعی ٹیکنالوجی تعاون اقدام‘ کے عنوان سے یہ تجویز مالی سال 2027 کے نیشنل ڈیفنس آتھرائزیشن ایکٹ (این ڈی اے اے) میں شامل کی گئی ہے، جو ہر سال امریکی دفاعی پالیسی، عسکری پروگراموں اور دفاعی اخراجات کے تعین کے لیے منظور کیا جاتا ہے۔ یہ تجویز ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے مسودے میں سیکشن 224 کے طور پر شامل ہے۔

اگر یہ شق حتمی طور پر قانون بن جاتی ہے تو امریکا اور اسرائیل کے درمیان تعلقات محض امریکی فوجی امداد تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دونوں ممالک کی دفاعی صنعتیں اور عسکری ڈھانچے گہرے طور پر ایک دوسرے سے منسلک ہو جائیں گے۔

مجوزہ قانون کے مطابق امریکی وزیر دفاع کو ایک خصوصی ’ایگزیکٹو ایجنٹ‘ مقرر کرنا ہوگا جو امریکا اور اسرائیل کے درمیان تمام فوجی تعاون کی نگرانی اور رابطہ کاری کا ذمہ دار ہوگا۔ اس کے دائرۂ کار میں مشترکہ تحقیق و ترقی، اسلحے کی مشترکہ تیاری، دفاعی نظاموں کا باہمی انضمام اور عسکری معلومات و ڈیٹا کا تبادلہ شامل ہوگا۔

امریکی محکمہ خارجہ کے سابق عہدیدار اور ’اے نیو پالیسی‘ نامی تنظیم کے بانی جوش پال نے اس تجویز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس اب ایسے طریقے تلاش کر رہی ہے جن کے ذریعے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو امریکی دفاعی صنعتی ڈھانچے میں اس قدر گہرائی تک شامل کر دیا جائے کہ مستقبل میں انہیں الگ کرنا تقریباً ناممکن ہو جائے۔

انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ مجوزہ قانون اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی فراہم کرے گا اور امریکی فوج کو اسرائیلی دفاعی نظام اپنی اہم عسکری سپلائی چین میں شامل کرنے کا پابند بنا دے گا، جس سے اسرائیل کو امریکی دفاعی ترجیحات پر بھی نمایاں اثر و رسوخ حاصل ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے ٹرمپ کے ’بورڈ آف پیس‘ کا غزہ فنڈ خالی، اربوں دینے کا وعدہ کرنے والے ایک ڈالر بھی دینے کو تیار نہیں

امریکا اور اسرائیل اس وقت بھی مشترکہ طور پر کئی دفاعی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں، جن میں ’آئرن ڈوم‘ میزائل دفاعی نظام نمایاں ہے۔ تاہم نئی تجویز اس تعاون کو مصنوعی ذہانت (AI)، ڈرون ٹیکنالوجی، سائبر آپریشنز اور جدید جنگی نظاموں سمیت کئی نئے شعبوں تک وسعت دے گی۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ شدید کشیدگی کا شکار ہے۔ رواں سال فروری میں امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائی کی تھی، جس کے بعد تقریباً پانچ ہفتوں تک جاری رہنے والی جنگ میں ایران نے اسرائیل اور خلیجی خطے میں واقع امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ بعد ازاں اپریل میں جنگ بندی عمل میں آئی۔

دوسری جانب اسرائیل کو غزہ میں جاری جنگ کے باعث بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ جنوبی افریقہ نے اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں نسل کشی کا مقدمہ بھی دائر کر رکھا ہے۔

مجوزہ بل کو قانون بننے کے لیے پہلے ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی سے منظوری حاصل کرنا ہوگی، جس پر جون کے اوائل میں غور متوقع ہے۔ اس کے بعد اسے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں سے منظوری درکار ہوگی۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ اس تجویز کو کمیٹی کے ریپبلکن چیئرمین مائیک راجرز اور سرکردہ ڈیموکریٹ رکن ایڈم اسمتھ نے مشترکہ طور پر پیش کیا ہے، جس کے باعث اسے دونوں بڑی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔ تاہم حالیہ رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی عوام، خصوصاً ڈیموکریٹس اور بعض ریپبلکن حلقوں میں اسرائیل کے لیے مزید فوجی حمایت کی مخالفت بڑھ رہی ہے۔

امریکا کئی دہائیوں سے اسرائیل کی فوجی معاونت کا سب سے بڑا ذریعہ رہا ہے۔ 2008 سے امریکی قانون واشنگٹن کو اسرائیل کی ’معیاری عسکری برتری‘ برقرار رکھنے کا پابند بناتا ہے تاکہ خطے میں کوئی بھی حریف ملک عسکری اعتبار سے اس پر سبقت حاصل نہ کر سکے۔

سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں طے پانے والے موجودہ معاہدے کے تحت امریکا اسرائیل کو سالانہ تقریباً 3.8 ارب ڈالر کی فوجی امداد فراہم کرتا ہے، جبکہ یہ دس سالہ معاہدہ 2028 تک نافذ العمل ہے۔

یہ بھی پڑھیے صدارت کے بعد وزارت عظمیٰ: اسرائیل میں بیحد مقبول ہوں، وزیراعظم کا انتخاب لڑوں گا، ڈونلڈ ٹرمپ کا ’عندیہ‘

1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد سے اب تک وہ امریکی غیرملکی امداد کا سب سے بڑا وصول کنندہ رہا ہے۔ افراطِ زر کو مدنظر رکھا جائے تو امریکا کی مجموعی امداد 300 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، جس کا بڑا حصہ اب فوجی معاونت پر مشتمل ہے۔

تاہم اب اس تعلق کی نوعیت تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے حال ہی میں کہا تھا کہ ان کا ملک آئندہ دس برسوں میں امریکی فوجی امداد پر انحصار ختم کرنا چاہتا ہے کیونکہ اسرائیل اب ایک بالغ اور خودمختار عسکری قوت بن چکا ہے۔

ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کی دفاعی صنعتوں کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون اور مشترکہ ٹیکنالوجی پروگرام اسی حکمتِ عملی کا حصہ ہو سکتے ہیں، جن کے ذریعے مالی امداد کی جگہ صنعتی اور تکنیکی شراکت داری کو فروغ دیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • کراچی: سرجانی ٹاؤن میں فائرنگ سے باپ، بیٹا جاں بحق، دوسرا بیٹا زخمی
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان