واشنگٹن (اوصاف نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ دنیا میں پانچ جنگیں رکوائیں اسلئے امن کے نوبیل انعام کے لیے بہترین امیدوار ہوں۔

امریکا کے 250 ویں یومِ آزادی کے موقع پر آئیووا اسٹیٹ فیئر گراؤنڈز میں عوام سے خطاب کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کو رکوایا۔ ہم نے ایٹمی جنگ رکوائی جو جلد شروع ہونے والی تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ کوسوو اور سربیا کے درمیان جنگ ختم کروائی اس کے علاوہ کانگو اور روانڈا کے درمیان جنگ بھی رکوائی۔ دنیا کو تسلیم کرنا ہو گا کہ ہم امن کے علمبردار ہیں۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ مجھے سمجھ میں نہیں آتا کہ ایک اسکول کے پروفیسر کو امن کا نوبیل انعام کیوں دیا جاتا ہے جسے کوئی جانتا تک نہیں۔

صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں امریکی فوج کی طاقت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس دنیا کی بہترین فوج، جدید ترین طیارے اور وہ اسلحہ ہے جس کا دنیا میں کوئی مقابلہ نہیں، ہمارے طیاروں نے 37 گھنٹوں تک مسلسل پرواز کر کے نیا ریکارڈ بنایا۔

امریکی صدر نے کہا کہ بگ بیوٹی بل کے ذریعے عوام کو تاریخی ٹیکس ریلیف ملے گا۔ سرحد سے غیرقانونی داخلے کو مکمل بند کر دیں گے۔امریکی تاریخ کا سب سے بڑا ڈیپورٹیشن پلان شروع کر دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حماس کی جانب سے جنگ بندی معاہدے پر رضامندی کا جلد پتہ چلے گا، مزید کئی عرب ممالک ابراہم معاہدے کا حصہ بنیں گے،روسی صدر پیوٹن کے ساتھ ہونے والی بات چیت پر مایوسی ہوئی، مجھے نہیں لگتا روسی صدر جنگ روکنا چاہتے ہیں۔

بھارتی حمایت یافتہ خوارج کی افغان سرحد سے دراندازی کی کوشش ناکام، 30 دہشتگرد واصل جہنم

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل