برطانیہ میں فلسطین ایکشن گروپ پر پابندی برقرار،حمایت پر قید کی سزائیں ہونگی
اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لندن: برطانوی عدالت نے “فلسطین ایکشن گروپ” پر پابندی اُٹھانے کی درخواست مسترد کردی جس کے بعد گروپ کی رکنیت اختیار کرنے پر قید کی سزائیں ہوں گی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق برطانوی ہائی کورٹ میں فلسطین ایکشن گروپ پر عائد پابندی کو ختم کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔
ہائی کورٹ کے جج جسٹس چیمبرلین نے اپنے فیصلے میں لکھا تھا کہ اگر یہ پابندی عارضی طور پر نہ روکی گئی اور بعد میں گروپ کی اپیل منظور ہو بھی گئی تو اس سے ہونے والا نقصان عوامی مفاد میں حکم نافذ رکھنے کی اہمیت کے مقابلے میں کم ہے۔ جس پر گروپ نے فیصلے کے خلاف فوری طور پر کورٹ آف اپیل سے رجوع کیا، لیکن اپیل بھی مسترد کر دی گئی۔
لیڈی چیف جسٹس بیرونس کار، لارڈ جسٹس لیوس اور لارڈ جسٹس ایڈس نے اپنے فیصلے میں کہا کہ کسی گروپ کو ممنوع قرار دینے کا اختیار عدالت کے پاس نہیں بلکہ سیکرٹری آف اسٹیٹ کے پاس ہے، جو پارلیمان کے سامنے جوابدہ ہیں۔
خیال رہے کہ برطانیہ کی ہوم سیکرٹری یوویٹ کوپر نے 23 جون کو فلسطین ایکشن پر پابندی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ دو جنگی طیاروں کو نقصان پہنچانے کی کارروائی شرمناک تھی، اور یہ گروپ مسلسل مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث رہا ہے۔
اس پابندی کا مطلب ہے کہ اب “فلسطین ایکشن” کی رکنیت اختیار کرنا، اس کی حمایت کرنا یا اس کے حق میں اظہار رائے کرنا جرم شمار ہوگا، جس پر 14 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
یہ اقدام اس وقت اٹھایا گیا جب “فلسطین ایکشن” نے پچھلے ماہ RAF Brize Norton بیس پر دو جنگی طیاروں کو نقصان پہنچانے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ جس میں تقریباً 70 لاکھ پاؤنڈ کا نقصان ہوا تھا۔
عدالت میں گروپ کی وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ گروپ پر پابندی غیر مدبرانہ اور آمرانہ طرز کا اختیار ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فلسطین ایکشن پر پابندی
پڑھیں:
سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) عدالت عظمیٰ نے بڑا فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں ہے۔
سپریم کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلیں اور ضمانت کی درخواستیں وفاقی آئینی عدالت سنے گی ۔ نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اختیار سماعت ہی نہیں ہے۔
فیصلے میں قرار دیا گیا کہ نیب کے کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھے جائیں گے۔
واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا اور رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کی تھی۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اب بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی۔
مزید پڑھیں۔سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے