(ویب ڈیسک)سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ نے طوفان برپا کردیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا کہ سمپسنز کارٹون نے ایک مشہور پاکستانی کرکٹر کے کار حادثے میں جاں بحق ہونے کی پیشگوئی کی ہے۔

سمپسنز کارٹون کی جو پوسٹ وائرل ہورہی ہے اس میں کسی کھلاڑی کا نام تو نہیں لکھا گیا لیکن کارٹون کی مشابہت کی بنا پر مداح کمنٹس سیکشن میں پاکستانی مشہور کرکٹر محمد رضوان، شاداب خان اور بابر اعظم کا نام لے رہے ہیں۔

وائرل ہونے والی پوسٹ میں ایک جعلی سمپسنز اسکرین شاٹ کے ساتھ لکھا گیا ہے: ’’یہ تکلیف دہ ہے۔ پاکستان کے عظیم کرکٹرز میں سے ایک، اچانک کار حادثے میں چل بسا۔ پوری دنیا کے مداح صدمے میں ہیں… لیکن یہ کیسے ہوا؟ کیا یہ واقعی ایک حادثہ تھا؟ یا کچھ اور؟ سمپسنز نے پیشگوئی کر دی تھی، لیکن کسی نے یقین نہیں کیا۔‘‘

دنیا بھر میں مشہور اینی میٹڈ سیریز سمپسنز کی ’’پیشگوئیوں‘‘ نے کئی بار سب کو چونکایا۔ کبھی ڈونلڈ ٹرمپ کی امریکی صدارت، کبھی کورونا وائرس جیسی وبا کا اشارہ، اور کبھی ڈزنی کے فاکس خریدنے کا معاملہ، سمپسنز کے کچھ مناظر واقعی وقت سے پہلے حیران کن حد تک پیشگوئی جیسے ثابت ہوئے۔ یہی وجہ ہے کہ جب انٹرنیٹ پر سمپسنز کے کسی منظر کے اسکرین شاٹس یا دعوے سامنے آتے ہیں، لوگ چونک کر یقین کر لیتے ہیں۔

مگر اس بار سوشل میڈیا پر گردش کرتی یہ پوسٹ کہ سمپسنز نے ایک مشہور پاکستانی کرکٹر کی ’’کار حادثے میں اچانک موت‘‘ کی پیشگوئی کی تھی، سراسر جھوٹ اور گمراہ کن پروپیگنڈا ہے۔

حقیقت کیا ہے؟

سمپسنز کی 35 سیزنز اور 750 سے زائد اقساط میں کہیں بھی کسی پاکستانی کرکٹر کے کار حادثے میں جاں بحق ہونے کا کوئی منظر یا حوالہ موجود نہیں۔

نہ ہی اس سے متعلق کوئی آفیشل کلپ، اسکرپٹ یا ریکارڈ سامنے آیا ہے، اور نہ ہی سمپسنز کے مصنفین یا پروڈیوسرز نے ایسا کوئی دعویٰ کیا ہے۔

یہ جعلی پوسٹ کیسے بنی؟

جعلی اسکرین شاٹ AI امیج ٹولز یا فوٹو ایڈیٹنگ کے ذریعے بنایا گیا۔

سمپسنز کا حوالہ اس لیے دیا گیا تاکہ لوگ اسے فوراً سچ سمجھ لیں کیونکہ ماضی میں سیریز کی کچھ ’’اتفاقی مماثلتیں‘‘ سچ ثابت ہوچکی ہیں۔

کوئی معتبر عالمی میڈیا، اسپورٹس ویب سائٹ یا سمپسنز کے آفیشل پلیٹ فارمز پر اس ’’پیشگوئی‘‘ یا کرکٹر کی موت کی کوئی خبر موجود نہیں۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے، لائکس اور کلکس بڑھانے کے لیے اکثر جعلی خبریں، خاص کر سمپسنز کی ’’پیشگوئیوں‘‘ کے نام پر پھیلائی جاتی ہیں۔
ایسے دعوے نہ صرف کرکٹ شائقین کی جذباتی وابستگی کو ٹھیس پہنچاتے ہیں بلکہ بے وجہ خوف اور غلط معلومات بھی پھیلاتے ہیں۔

سمپسنز کی حقیقی پیشگوئیاں:

سمپسنز کارٹون اپنی عجیب و غریب پیشگوئیوں کےلیے مشہور ہے جن میں سے کئی حقیقت ثابت ہوئیں:

2000 میں ٹرمپ کے صدر بننے کی پیشگوئی (ایپی سوڈ “Bart to the Future”)

1997 میں لیڈی ڈیانا کی موت کی علامتی پیشگوئی

2010 میں فیس بک کی ایجاد سے 16 سال پہلے ’’سوشل نیٹ ورک‘‘ کا ذکر

1993 میں ایبولا وائرس کی وبا کی پیشگوئی

فیکٹ چیک:

سمپسنز کے تمام معروف ایپی سوڈز اور اسکرپٹس کی جانچ پڑتال کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ کسی بھی ایپی سوڈ میں پاکستانی کرکٹر کے حادثے کی کوئی پیشگوئی نہیں کی گئی۔ یہ پوسٹ محض ایک جعلی اسکرین شاٹ ہے جو کسی بھی سمپسنز ایپی سوڈ میں موجود نہیں۔

میڈیا اینالسٹ ڈاکٹر عمران رضا کا کہنا ہے کہ ’’یہ ایک کلاسیکل مثال ہے کہ کیسے سوشل میڈیا پر جذباتی واقعات کو پھیلانے کے لیے جعلی مواد استعمال کیا جاتا ہے۔ سمپسنز کی شہرت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے لوگ اکثر ایسی جعلی پیشگوئیاں بناتے ہیں۔‘‘

اس سے قبل بھی کئی بار سمپسنز کے نام پر جعلی پیشگوئیاں وائرل ہو چکی ہیں، جن میں 2020 میں کورونا وائرس کی ’’پیشگوئی‘‘ بھی شامل ہے جو کہ محض ایک جعلی اسکرین شاٹ تھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: پاکستانی کرکٹر سمپسنز کارٹون سوشل میڈیا پر کار حادثے میں کی پیشگوئی اسکرین شاٹ سمپسنز کی سمپسنز کے سمپسنز کا

پڑھیں:

ایلون مسک کی اے آئی ٹیکنالوجی کے حوالے سے نئی پیشگوئی

اسلام آباد: ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے سربراہ اور دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک نے مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کے مستقبل سے متعلق ایک بار پھر اہم انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اے آئی ٹیکنالوجی اتنی تیزی سے ترقی کر رہی ہے کہ آئندہ پانچ برسوں میں یہ تمام انسانوں کی مجموعی ذہانت سے بھی آگے نکل سکتی ہے۔

ایک انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے ایلون مسک نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث آنے والے برسوں میں تقریباً ہر شعبے اور ہر قسم کے کام میں اے آئی انسانوں سے بہتر کارکردگی دکھانے کے قابل ہو جائے گی۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگرچہ اے آئی غیر معمولی ترقی اور خوشحالی کا ذریعہ بن سکتی ہے، تاہم اگلی دہائی میں انسانیت کے لیے اس ٹیکنالوجی پر مؤثر کنٹرول برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔

ایلون مسک کے مطابق مصنوعی ذہانت مستقبل میں ایسے مواقع پیدا کر سکتی ہے جہاں لوگوں کو بے مثال وسائل، سہولیات اور ترقی کے امکانات میسر ہوں، جبکہ یہ ٹیکنالوجی عالمی تنازعات کے حل اور بہتر فیصلہ سازی میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اے آئی کے ممکنہ خطرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے بقول، جیسے جیسے جدید اے آئی سسٹمز مزید طاقتور ہوتے جائیں گے، ویسے ویسے ان کے غیر متوقع نتائج اور سکیورٹی خطرات بھی بڑھ سکتے ہیں۔

ایلون مسک نے تجویز دی کہ دنیا کی بڑی اے آئی کمپنیاں باقاعدگی سے ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں رہیں، حفاظتی اور سکیورٹی امور پر مشترکہ مشاورت کریں اور صرف حکومتی قوانین پر انحصار کرنے کے بجائے خود بھی ذمہ دارانہ اقدامات کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اے آئی ڈویلپرز کو چاہیے کہ وہ اپنے ماڈلز کو عوام کے لیے جاری کرنے سے قبل ایک دوسرے کے سسٹمز کا جائزہ لیں، ممکنہ خطرات کی نشاندہی کریں اور جدید مصنوعی ذہانت کی محفوظ ترقی کو یقینی بنانے کے لیے باہمی تعاون کو فروغ دیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایلون مسک کی اے آئی ٹیکنالوجی کے حوالے سے نئی پیشگوئی
  • جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر مشکوک سفری دستاویزات کی بنیاد پر مسافر آف لوڈ
  • 20 سال تک بیوی سے بات نہ کرنے والا شوہر، وجہ آپ کو حیران کر دے گی
  • ABN نیوز نے مبینہ جعلی بین الاقوامی ویکسینیشن سرٹیفکیٹ نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ 
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
  • مزہ کرکرا: اے آئی سے بنے جعلی جانوروں نے اصلی ویڈیوز بھی مشکوک بنادیں