بلوچستان ایپکس کمیٹی نے اسمگلنگ، دہشتگردی اور کرپشن کے خلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا ہے۔

منگل کے روز وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت صوبائی ایپکس کمیٹی کا 19واں اجلاس کوئٹہ میں منعقد ہوا، جس میں کور کمانڈر بلوچستان لیفٹیننٹ جنرل راحت نسیم احمد خان سمیت اعلیٰ عسکری و سول حکام نے شرکت کی، اجلاس میں صوبے کی سیکیورٹی صورتحال، امن و امان اور مفادِ عامہ کے اہم معاملات پر تفصیل سے غور کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: بلوچستان میں دہشتگرد تنظیموں کے خلاف فوجی آپریشن، ایپکس کمیٹی نے منظوری دیدی

اجلاس میں اسمگلنگ کے خلاف جاری مہم کو مزید مؤثر بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ ایپکس کمیٹی نے ہدایت دی کہ اسمگلنگ میں ملوث ٹرانسپورٹ کمپنیوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور متعلقہ ڈرائیورز کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائیں۔

اس موقع پر وزیراعلیٰ نے واضح الفاظ میں کہا کہ بلوچستان میں کسی بھی شاہراہ کو احتجاج کے نام پر بند کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست عام آدمی کے ساتھ کھڑی ہے اور آئین اُس مریض کے ساتھ ہے جو ایمبولینس میں زندگی کی جنگ لڑ رہا ہوتا ہے۔

اجلاس میں انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے رولز کو جلد از جلد حتمی شکل دینے کی ہدایت دی گئی، جبکہ غیر قانونی ترسیلاتِ زر میں ملوث عناصر کے خلاف ایف آئی اے کو مؤثر کارروائی کرنے کی ہدایت کی گئی۔ ایپکس کمیٹی نے ریاست کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے خلاف کارروائی تیز کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: پشاور میں ایپکس کمیٹی کا اجلاس، کرم میں نجی بنکرز مکمل ختم کرنے کا فیصلہ

بھتہ خوری کے خاتمے کے لیے خصوصی اقدامات پر زور دیتے ہوئے کمیٹی نے کہا کہ کان مالکان کو سرمایہ کاری اور کاروبار کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا جائے گا۔ غیر قانونی تارکینِ وطن کے خلاف کارروائی کو مزید مؤثر بنانے، دہشت گردوں کے خلاف رسپانس میکانزم کو بہتر بنانے، اور فورتھ شیڈول کے طریقۂ کار کو ڈیجیٹلائز کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

اجلاس میں بلوچستان کی اہم شاہراہوں اور ترقیاتی منصوبوں پر بھی غور ہوا۔ بولان روٹ کی قومی شاہراہ کی توسیع اور ڈیرہ مراد جمالی بائی پاس صوبائی حکومت خود تعمیر کرے گی، جبکہ این ایچ اے کو ہدایت کی گئی کہ ویسٹرن بائی پاس کوئٹہ کو 25 دسمبر تک مکمل کیا جائے۔ ایپکس کمیٹی نے ایل ایچ ایس پیٹرولیم مصنوعات کے ٹینکرز کے شہری آبادی میں داخلے پر پابندی عائد کرنے کی منظوری بھی دی۔

یہ بھی پڑھیں: ایپکس کمیٹی پنجاب کا اجلاس: دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے سیکیورٹی اقدامات سخت کرنے کا فیصلہ

اجلاس میں پٹ فیڈر کینال منصوبے کے لیے ڈیرہ بگٹی کے علاقے میں ایف سی سیکیورٹی فراہم کرنے، چمن ماسٹر پلان پر کام کی رفتار تیز کرنے، اور ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ کمیٹیوں کو فعال کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ کمیٹی نے بلوچستان میں 78ویں یومِ آزادی اور ’معرکہ حق‘ کو جوش و جذبے سے منانے کا عزم ظاہر کیا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ اسمگلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور کرپشن، غیر قانونی ترسیلات زر اور بھتہ خوری کو ہر صورت روکا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو سب ورژن (subversion) اور منشیات سے دور رکھنا ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایپکس کمیٹی نے دوست ممالک کے ساتھ رابطوں کے لیے اہم اقدامات کی منظوری دے دی

وزیراعلیٰ نے خبردار کیا کہ اگر این ایچ اے شاہراہوں کی تعمیر میں حیل و حجت یا تاخیر کرے گی تو صوبائی حکومت خود یہ منصوبے عوامی مفاد میں مکمل کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایپکس کمیٹی کے فیصلوں پر مکمل عمل درآمد یقینی بنا کر بلوچستان کو پائیدار ترقی اور امن کی راہ پر گامزن کیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news اسمگلنگ ایپکس کمیٹی بلوچستان سرفراز بگٹی کرپشن کریک ڈاؤن.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسمگلنگ سرفراز بگٹی کریک ڈاؤن ایپکس کمیٹی نے یہ بھی پڑھیں فیصلہ کیا اجلاس میں نے کہا کہ کا فیصلہ کے خلاف کیا گیا کرنے کا کے لیے

پڑھیں:

کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے

فائل فوٹو

کوہستان مالیاتی کرپشن کیس میں قومی احتساب بیورو (نیب) نے 6 ارب روپے کے اثاثے ریکور کرکے خیبر پختونخوا حکومت کے حوالے کردیے جبکہ مزید ریکوری کا عمل جاری ہے۔

چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے پشاور میں اثاثے چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ کے حوالے کیے۔

نیب حکام کے مطابق پہلے مرحلے میں 6 ارب روپے سے زائد مالیت کے اثاثے صوبائی حکومت کے حوالے کیے گئے ہیں، جن میں نقد رقم، سونا، قیمتی جائیدادیں اور لگژری گاڑیاں شامل ہیں، اثاثوں کی واپسی منظم اور جامع تحقیقات کے نتیجے میں عمل میں آئی۔

نیب حکام کے مطابق کوہستان مالیاتی کرپشن میں سرکاری فنڈز سے 37 ارب روپے سے زائد کا غبن ہوا ہے، پیچیدہ مالیاتی غبن کو مؤثر تحقیقات کے ذریعے بے نقاب کیا گیا۔

چیئرمین نیب نے کہا کہ ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) نیب خیبر پختونخوا فرمان اللہ اور تحقیقاتی ٹیم کی کارکردگی قابل ستائش ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کوہستان مالیاتی کرپشن میں مزید ریکوری کا عمل جاری ہے، قانونی کارروائی مکمل ہونے پر مزید اثاثے خیبر پختونخوا حکومت کو منتقل کیے جائیں گے، عوامی وسائل قومی امانت ہیں، ان کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • انسانی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے خلاف ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر
  • اسلام آباد میں دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقات میں توسیع، نیا شیڈول جاری
  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ