کراچی کے علاقے ڈیفنس میں اپنے فلیٹ سے مردہ اور ناقابل شناخت حالت میں ملنے والی اداکارہ کا ایک پرانا انٹرویو سامنے آیا جس میں انہوں نے انٹرٹینمٹ انڈسٹری میں آنے اور اس دوران فیملی چلینجز سے نبردآزما ہونے سے متعلق گفتگو کی ہے۔

اداکارہ حمیرا اصغر علی ایکسپریس انٹرٹینمنٹ کے پروگرام کا حصہ بنیں جس میں انہوں نے اینکر و میزبان حسن کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے اپنی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر بات کی تھی۔

اداکارہ نے بتایا کہ سب سے زیادہ سپورٹ والدہ کی طرف سے ملی، بچپن میں جب ٹیچرز نے والدین کو بلاکر میری آرٹ کی صلاحیتوں کا بتایا تو امی نے سپورٹ کرنے کا فیصلہ کیا اور پھر میں نے فائن آرٹس پڑھنے کے بعد پنجاب یونیورسٹی سے ماسٹرز کیا۔

انہوں نے بتایا کہ میں ہمیشہ چلینجز سے لڑتی رہی اور یہ میرے خون میں شامل ہے، سب سے پہلے فائن آرٹس کی پڑھائی کے وقت مخالفت برداشت کی، پھر ماڈلنگ اور اداکاری کے فیصلے کے وقت بھی دباؤ برداشت کیا اور اس میں گھر والوں بالخصوص والد اور بھائی کا پریشر تھا۔

حمیرا کے مطابق اُن کی والدہ نے اسکول کے بعد سے ہمیشہ سپورٹ کیا حتی کہ جب انہوں نے ماڈلنگ میں جانے کی خواہش کا اظہار کیا تو پہلے وزن کم کرنے کی شرط رکھی جس کے بعد اداکارہ نے 30 کلو وزن کم کیا۔

اداکارہ کے مطابق ایک نجی ٹی وی کے شو میں شرکت کے بعد انہوں نے تین دن کا وقفہ کیا اور سب سے والدہ سے رابطہ کیا جس کے بعد نماز پڑھ کر اللہ کا شکر ادا کیا اور پھر تین روز کی چھٹی لے کر لاہور جاکر والدہ کے ساتھ بہت اچھا وقت گزارا۔

واضح رہے کہ اداکارہ کی ایک روز قبل کراچی کے علاقے ڈیفنس سے تقریباً 30 روز پرانی سڑی ہوئی لاش برآمد ہوئی جبکہ والد اور بھائی نے لاش لینے سے انکار کرتے ہوئے جواب دیا کہ ہم بیٹی سے پہلے ہی لاتعلق ہوچکے تھے جبکہ اُسے عاق بھی کردیا تھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: انہوں نے کیا اور کے بعد

پڑھیں:

حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔

یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔

عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔

اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔

حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔

مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ

متعلقہ مضامین

  • راولپنڈی: ہولی فیملی اسپتال میں مبینہ غفلت، نومولود بچی کا انگوٹھا کٹ گیا، مقدمہ درج
  • ایس سی او اجلاس: اسحاق ڈار کا علاقائی امن اور تعاون کے فروغ کے عزم کا اعادہ
  • میسی ارجنٹائن کے صدر بنیں گے؟ نئی پیشگوئی نے سب کو حیران کردیا
  • وزیر تجارت سے کارپٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات، تجارتی رکاوٹوں اور عالمی سپلائی چین میں خلل سے صنعت کو درپیش مشکلات بارے آگاہ کیا
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • پشاور: حیات میڈیکل کمپلیکس میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال دوسرے روز بھی جاری، مریض مشکلات سے دوچار
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم