بھارتی معیشت کو بڑا جھٹکا،امریکا نے 10 فیصد ٹیرف عائد کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
واشنگٹن(انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا نے بھارت سمیت برکس ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا، جس کا اطلاق بھارت پر بھی ہوگا۔
تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ بھارت کو کوئی استثنیٰ نہیں دیا جائے گا، بھارت بھی برکس کا رکن ہے وہ بھی 10 فیصد ٹیرف کے دائرے میں آئے گا۔ برکس ممالک(برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ) نے ڈالر کو کمزور کرنے کے لیے اتحاد بنایا ہے۔
صدر ٹرمپ نے دوٹوک مؤقف دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی ملک امریکی ڈالر کو چیلنج کرے گا تو ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے”، بھارت برکس رکنیت کی قیمت چکا رہا ہے، نئی دہلی کو امریکی منڈیوں میں بڑا دھچکا، بھارتی مصنوعات مزید مہنگی ہو جائیں گی۔
ماہرین کے مطابق ٹرمپ پالیسیوں سے بھارت کو معاشی و سفارتی میدان میں شدید ہزیمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
مزیدپڑھیں:الطاف حسین شدید علالت کے باعث لندن اسپتال میں داخل
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے آئندہ مالی سال کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کر دی۔
نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے مطابق پائیڈ نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شواہد پر مبنی فریم ورک رپورٹ تیار کرلی، کم از کم اجرت 40 ہزار سے بڑھا کر 45 ہزار روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے، اس طرح تنخواہوں میں 12.5 فیصد اضافہ ممکن ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق کم از کم ماہانہ تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے سے کم آمدنی والے طبقے کی قوتِ خرید بہتر ہوگی اور انہیں مہنگائی کے اثرات سے تحفظ مل سکے گا۔ پائیڈ کا کہنا ہے کہ اجرتی پالیسی کا اثر غربت، روزگار، گھریلو طلب اور مقامی معیشت پر براہِ راست پڑتا ہے، اس لیے کم از کم اجرت کا معاملہ اب صرف لیبر ڈیپارٹمنٹ تک محدود نہیں رہا۔
اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جولائی تا اپریل مالی سال 2025-26 کے دوران اوسط افراطِ زر 6.19 فیصد رہی، جبکہ اپریل 2026 میں سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 10.9 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
پائیڈ نے زور دیا ہے کہ اجرتوں کو مہنگائی اور موجودہ معاشی حقائق کے مطابق بنایا جائے تاکہ سماجی استحکام، غربت میں کمی اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کو یقینی بنایا جا سکے۔