کمبوڈیا کیساتھ جھڑپیں؛ تھائی لینڈ نے اپنے 8 سرحدی اضلاع میں مارشل لا نافذ کردیا
اشاعت کی تاریخ: 25th, July 2025 GMT
کمبوڈیا کے ساتھ جاری فوجی جھڑپوں کے تناظر میں تھائی لینڈ نے اپنے 8 اضلاع میں مارشل لا نافذ کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان حالیہ سرحدی جھڑپوں نے خطرناک رخ اختیار کر لیا ہے۔
تھائی لینڈ نے جن اضلاع میں مارشل لا نافذ کیا ہے ان میں صوبہ چنتھابوری کے 7 اور صوبہ تراٹ کا ایک ضلع شامل ہے۔
تھائی فوج کی بارڈر ڈیفنس کمانڈ کے سربراہ جنرل اپیچارٹ ساپراسیٹ نے میڈیا کو بتایا کہ مارشل لا کا مقصد سیکیورٹی کو یقینی بنانا اور کسی بھی ممکنہ بڑے تصادم سے پہلے شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔
تھائی لینڈ کے قائم مقام وزیراعظم پھمتھم وچھایا چھائی نے ایک بیان میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمبوڈین افواج کے ساتھ سرحدی جھڑپیں مسلسل بڑھ رہی ہیں اور خطرہ ہے کہ یہ معمولی جھڑپیں ایک مکمل جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہیں۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق گزشتہ روز شروع ہونے والی اس کشیدگی میں اب تک دونوں جانب سے کم از کم 16 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ درجنوں زخمی بھی ہوئے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں شدید خوف و ہراس پھیل چکا ہے۔
سرحدی کشیدگی کے باعث تھائی لینڈ کے متاثرہ علاقوں سے اب تک تقریباً ایک لاکھ افراد محفوظ مقامات کی جانب ہجرت کر چکے ہیں۔
دوسری جانب کمبوڈیا میں بھی 10 ہزار سے زائد افراد کو سرحدی علاقوں سے نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔
یاد رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ماضی میں بھی سرحدی تنازعات اور جھڑپیں ہوتی رہی ہیں، لیکن حالیہ واقعات نے ایک بار پھر خطے میں امن و امان کے حوالے سے سوالات اٹھا دیے ہیں۔
بین الاقوامی برادری نے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: تھائی لینڈ مارشل لا
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔