دہشتگردی کے خاتمے کیلئے پوری قوم فورسز کیساتھ ہے: علی امین گنڈا پور
اشاعت کی تاریخ: 7th, August 2025 GMT
خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے بلوچستان کے علاقے مستونگ میں سکیورٹی فورسز کی گاڑی کے قریب دھماکے کی شدید مذمت کی ہے۔وزیراعلیٰ کے پی علی امین گنڈا پور نے کہا کہ سکیورٹی فورسز نے ملک میں امن کی خاطر بے مثال قربانیاں دی ہیں، شہداء اور ان کے خاندانوں کو سلام پیش کرتے ہیں، دہشتگردی کے خاتمے کے لئے پوری قوم سکیورٹی فورسز کے ساتھ ہے۔علی امین گنڈا پور نے شہداء کے درجات کی بلندی اور پسماندگان کے لئے صبرِ جمیل کی دعا کی اور کہا کہ ہم سوگوار خاندانوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔واضح رہے کہ فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں نے سکیورٹی فورسز کی گاڑی پر بارودی مواد سے حملہ کیا تھا جس میں 3 جوان شہید ہوگئے تھے، جوابی کارروائی میں 4 دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا گیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔