کوئٹہ، زائرین کو روکنے کیلئے پولیس اور سکیورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات
اشاعت کی تاریخ: 7th, August 2025 GMT
حکومت نے زائرین کو روکنے کیلئے مری آباد (علمدار روڈ) کے داخلے راستے موسیٰ چیک پوسٹ پر سکیورٹی فورسز اور پولیس کی اضافی نفری تعینات کر دی ہے۔ اسکے علاوہ انٹرنیٹ سروسز بھی معطل ہیں اور سڑک پر کنٹینرز بھی لگائے جا رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے زائرین کو تفتان بارڈر کی طرف جانے سے روکنے کے لئے حکومت نے کوئٹہ پولیس اور ایف سی کی اضافی نفری مری آباد (علمدار روڈ) کے داخلے راستے موسیٰ چیک پوسٹ پر تعینات کر دیئے۔ اس کے ساتھ ساتھ سڑک کو بند کرنے کے لئے کنٹینرز بھی لائے جا رہے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق حکومت کی جانب سے زائرین کے ایران اور عراق کی طرف زمینی سفر پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ تاہم زائرین نے اس پابندی کو بنیادی و مذہبی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا اور اسے مسترد کرتے ہوئے بغیر سکیورٹی کے تفتان بارڈر کی طرف جانے کا اعلان کیا۔
حکومت نے اس اعلان کے بعد زائرین کو روکنے کے لئے مری آباد علمدار روڈ کے داخلے راستے موسیٰ چیک پوسٹ پر پولیس اور سکیورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کرنا شروع کر دی ہے۔ جس کا مقصد آج رات تفتان کی طرف نکلنے والے زائرین کو روکنا ہے۔ علاوہ ازیں حکومت نے انٹرنیٹ سروسز کو بھی مکمل طور پر بند کر دیا ہے۔ ان حکومتی اقدامات کے باعث شہر کے عوام میں شدید غصہ پایا جا رہا ہے اور عوام الناس حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں، تاہم حکومت عوامی جذبات اور رائے عامہ کو مکمل طور پر نظرانداز کرکے اپنی رٹ قائم کرنے کے چکر میں ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کی اضافی نفری زائرین کو حکومت نے کی طرف
پڑھیں:
حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)حکومتِ پاکستان نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سرکاری دستاویزات کے مطابق 95.049 ملین روپے مالیت کی یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکرٹریٹ کے استعمال کیلئےحاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود، ماہرین اور دیگر اہم شخصیات کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے تحت نئی بلٹ پروف گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سٹاک مارکیٹ میں مندی، انڈیکس ایک لاکھ 70 ہزار پوائنٹس کی حد کھو بیٹھا
دستاویزات کے مطابق یہ گاڑی پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنہیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا جن کی خریداری کا عمل جاری ہے۔
سی پیک سیکرٹریٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث بروقت بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔
دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نجی مارکیٹ سے بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔
ٹرمپ کو بغیر سوچے سمجھے جارحیت کی قیمت چکانا پڑے گی: عباس عراقچی
حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
حکومت کو تین ٹویوٹا ڈیلرز کی جانب سے قیمتیں موصول ہوئیں، جن میں ٹویوٹا سینٹرل موٹرز نے 95.049 ملین روپے، ٹویوٹا پورٹ قاسم نے 95.25 ملین روپے اور ٹویوٹا سوسائٹی نے 95.45 ملین روپے کی پیشکش کی، حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
دستاویزات کے مطابق سی پیک سیکرٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں تھے، جس کے بعد وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث خریداری کا آرڈر جاری نہیں ہو سکا۔
پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی نئی قیمت کا اعلان
وزارت نے فنڈز کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں سے رقم مختص کی، جن میں سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے ایک کروڑ 88 لاکھ روپے، وفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے اور پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے ایک کروڑ 60 لاکھ روپے شامل ہیں، ان فنڈز میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے تھے۔